مہنگائی کاپراپیگنڈا : ڈوب مرنے کا مقام !

219

ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق، پاکستان دنیا کا سستہ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ لو کر لو بات۔حکومت کے مخالفین کو چاہیے کہ ڈوب مریں، جو دن رات مہنگائی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔World Population Review کے 2121 کے جائزے کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں اشیائے ضرورت برائے زندگی کے لیے ارزاں تریں ملک ہے۔ یعنی وہ اخراجات جو ایک مناسب اور بنیادی طرز حیات کو برقرار رکھنے کے لیے چاہیئیں، جس میں شامل ہیں رہائش، خوراک، ٹیکسز اور طبی سہولیات۔ایسے بڑے شہر جہاں ان اخراجات کا تخمینہ زیادہ ہے، وہاں آمدن بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ جن ملکوں کے اعدادو شمار دیے گئے ہیں ان کو نیو یارک شہر کے اخراجات کے تناسب میں دیکھا گیا ہے۔ جس کا انڈکس100ہے۔ مثلاً 2020 کے وسط میں ، صرف برمودا اور سوٹزرلینڈ میں اخراجات زندگی نیو یارک سے بھی زیادہ تھے۔پاکستان کا انڈکس21 تھا یعنی دنیا میں سب سے کم۔اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں اخراجات زندگی نیو یارک کے مقابلے میں 79 فیصد کم تھے۔ اور گھر کا کرایہ پاکستان میں 95.72% کم تھا ۔ اس کے بعد بھارت (24.12) تھا۔ اس کے بعد کرغستان اور افغانستان تھے۔امریکہ سے زیادہ مہنگائی آسٹریلیا، فرانس، جنوبی کوریا اور جاپان میں تھی۔تمام عناصر کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپان دنیا کا مہنگا ترین ملک تھا۔
اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد پاکستان کے سیاستدانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ ذرا سوچیے۔گذشتہ دوسال سے پاکستانی عوام کس زہریلے پراپیگنڈا کا شکار تھے اور ابھی تک ہیں۔
مہنگائی ، مہنگائی ، ہائے مہنگائی۔ سیاستدانوں کی تقریریں مہنگائی کے ذکر سے آسمانوں پر جا رہی تھیں۔ میڈیا کا کہنا تھا کہ عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ آٹا، چینی، ٹماٹر، آلو، پیاز، ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔اک طوفان بد تمیزی بر پا تھا، ملک بھر میں۔ وہ نا بالغ سیاسی قائدین جنہوں نے کبھی مارکیٹ سے جا کر ترکاری یا پھل نہیں خریدا، نہ آٹا، نہ چینی، وہ ایسے باتیں کرتے ہیں کہ ان سے زیادہ منڈی کے بھائو کوئی نہیں جانتا۔میڈیا کہ لئے کسی بھی نقطہ نظر پر گواہی ڈھونڈنے کے لیے تردد نہیں کرنا پڑتا۔ اب مہنگائی کو ہی لے لیں۔ بس کسی بھر ے پُرے بازار میں نکل جائیں اور راہ چلتے لوگوں سے پوچھیں کہ بھائی صاحب کیا آپ کے خیال میں پہلے کی نسبت مہنگائی بڑھ گئی ہے؟ اب دویا تین ممکن جواب ہو سکتے ہیں۔ کوئی کہے گا کہ ہاں بہت بڑھ گئی ہے۔ کوئی کہے گا کہ نہیں، پہلے جتنی ہی ہے۔ اور کوئی کہے گا معلوم نہیں۔ اب یہ رپورٹر پر ہے کہ وہ کس کا جواب دکھائے۔ اور اس کا فیصلہ وہی ہو گا جو اس کا دفتر میں بیٹھا نگران مدیرچاہے گا۔اگر میڈیا مالکان سیاسی طور پر حکومت کے خلاف ہیں تو وہ اپنے مطلب کے جوابات کو مشتہر کریں گے۔یہی نہیں، ایسے میڈیا مالکان بجائے عوام کو سچ دکھانے کے، پراپیگنڈا دکھاتے ہیں۔
پاکستان میں عمران خان نے کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کر کے، جیسے بھڑوں کا چھتہ چھیڑ دیا۔ ان مخالفین نے بھنا کر اور کچھ نہیں تو مہنگائی کا شور مچا دیا، جیسے کے ان کے دورِ حکومت میں مہنگائی کا رونا نہیں رویا جاتا تھا؟ جونہی رمضان قریب آتا ، ٹی وی والے کیمرے والوں کے ساتھ، بازاروں میں پہنچ جاتے تھے اور سبزیوں اور پھلوں کی ہوش ربا گرانی کی کہانیاں ناظرین کو دکھاتے تھے۔اب رمضان آنے والا ہے اور آپ انکی کہانیاں سننے کے لیے تیار ہو جایئے۔حکومت کے مخالفین نے میڈیا کے ساتھ ملکر اس قدر مہنگائی کا رونا رویا کہ حکومتی ارکان بھی بغیر کسی تحقیق کے ان کی ہاں میں ہاں ملانا شروع ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی جھوٹ کو متواتر اور تیقن کے ساتھ بولا جائے تو لوگ اس پر یقین کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ جھوٹ بولنے والا خود بھی اس کو سچ سمجھنے لگتا ہے۔پاکستانی حزب مخالف نے اسی فارمولا پر عمل کیا او ر نتیجہ سرکاری وزرا کیا وزیر اعظم خود بھی مان گئے کہ مہنگائی بہت ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حکومت کی اس سطح پر بھی ایسے لوگ نہیں بیٹھے جو مہنگائی کا شہادتوں کی بنیادوں پر تعین کریں اور اور اس کا موازنہ دنیا کے ممالک سے کریں، جس سے مہنگائی کے اسباب اور ان کی روک تھام پر سائینسی بنیادوں پر کام کیا جائے۔
مہنگائی ساری دنیا میں ہوتی ہے۔ کہیں زیادہ کہیں کم۔ یہ سارا معاملہ توازن کا ہے۔ یعنی مانگ اور رسد کا توازن۔ آبادی کے بڑھنے سے مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور پیداوار بڑھنے سے رسد میں۔ اگر رسد بڑھ جائے تو قیمتیں کم ہو جاتی ہیں اور اگر مانگ رسد سے بڑھ جائے تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ تو ہے سیدھا سادا اقتصادیات کا اصول۔ اس اصول کے اندر اور بھی عوامل کام کرتے ہیں، جیسے وہ اشیا جو ملک میں نہیں بنتیں یا پیدا ہوتیں جیسے پٹرول۔پاکستان کو لا محالہ تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اور تیل کی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں میںمتعین ہوتی ہیں اور ان میں روزآنہ کی بنیادوں پر اتار چڑھائو ہوتا ہے۔ لیکن جب پاکستان کے ادارے یا حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی کا اعلان کرتے ہیں تو میڈیا اس کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے کہ عمران خان نے تیل کے کنویں خرید رکھے ہیں اور وہ قیمتیں چڑھا رہا ہے۔ ٹی وی چینلز کے رپورٹر فوراً موٹر سائیکلسٹ اور ٹیکسی والوں کو پوچھنے چلے جاتے ہیں کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر ان کے تاثرات معلوم کریں۔وہ تاثرات کیا ہونگے؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت کے سر پر غریبوں کا خیال اتنا زیادہ رہتا ہے کہ وہ جب بھی پٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں کم ہوتی ہے ، وہ فوراً ملک میں کمی کا اعلان کر دیتی ہے۔ لیکن ہمارے ہمسایہ ملک میں اور دوسرے کئی ممالک میں حکومتیں ٹیکس بڑھا دیتی ہیں اور قیمت بر قرار رکھتی ہیں ۔ اس سے عوام بھی خوش رہتے ہیں اور حکومت بھی۔
درآمد کردہ اشیاء میںقیمتیں بڑھنے کی ایک اور وجہ زر مبادلہ میں پاکستانی روپے کی مالیت کا گرنا ہوتا ہے۔ کئی اشیا جو پاکستان میں بھی بنتی ہیں، جیسے گاڑیاں، کمپیوٹر، موٹر سائکلیں، دوائیاں، وغیرہ،جن کے پرزے یا اجزاء بیرون ملک سے آتے ہیں، ان کی قیمتیں بھی زر مبادلہ کی وجہ سے بڑھتی ہیں۔ لیکن ہمارے سیاستدان اور میڈیا والے یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس قسم کی مہنگائی کا مورد الزام حکومت کو قرار دیتے ہیں۔جو ضروری نہیں حکومت کی وجہ سے ہی ہو۔ حکومت اگر سامان تعیش اور بلا ضرورت درآمد کرنے کی اجازت دے تو اس کی ذمہ وار تو ہوتی ہے لیکن وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟ غالباً اس لیے کہ ایسی چیزوں کی درآمدات سے حکومت کو ٹیکسز جیسے کسٹم ڈیوٹیز (محصولات) سے فائدہ ہوتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اگر کچھ صنعتیں ان درآمدات پر چلتی ہیں تو وہ قومی ضرورت ہے۔ ایسی درآمدات کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کو حکومت کے سر تھوپنا ایک احمقانہ رویہ ہے۔البتہ جب حکومت ملک کی برآمدات بڑھانے پر توجہ نہ دے تو وہ اس کاقصور ہوگا جیسا کہ گزشتہ حکومت نے کیا۔
جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ غریب آدمی کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جب بے چارہ غریب اپنی کار یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈالے گا تو حکومت کو بد دعائیں دے گا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کار یا موٹر سائیکل ہے اسے پٹرول کی قیمت میں ذرا سے اضافے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جہاں تک بسوں اور رکشا کے کرائے کا تعلق ہے، اس میں تو عشر عشیر بھی فرق نہیں پڑنا چاہیے لیکن مالکان کو توکرائے بڑھانے کا بہانہ چاہیے۔ ویسے بھی پٹرول پاکستان میں نہیں پیدا ہوتا۔ درآمد ہوتا ہے۔ اور اس پر زر مبادلہ کا اثر علیحدہ ہوتا ہے۔حکومت پٹرول اور اس سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں پر ڈھکن رکھنے کے لیے ان قیمتوں پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے۔جو یہ تاثر دیتا ہے کہ حکومت قیمتیں بڑھا رہی ہے۔اگر حکومت کنٹرول نہ رکھے تو نجی شعبہ من مانی کر سکتا ہے جس سے یقیناً عوام کو شکایت ہو گی۔
پاکستان میں ماہرین اور اداروں کی کمی نہیں جو قیمتوں کے اتار چڑھائو کی چھان بین کریں۔ اور حکومت کو قیمتوں کے رحجانات سے مطلع کرتے رہیں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرتے، کم از بظاہر تو یہی لگتا ہے۔ عمران خان کی کابینہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو صرف وہ کام کرتے ہیں جن کا کپتان سے براہ راست حکم جاری ہو۔ اپنی طرف سے وہ غالباً پیش قدمی کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کیا ایسا کرنے سے وزیر اعظم خوش ہوتے ہیں یا ناراض؟ غالباً اسی پر وزراء کی کار کردگی منحصر ہے۔ ورنہ پاکستانی ماہرین کے لیے اشیائے خورد و نوش اور دوسرے عوامل کی قیمتوں کے بین الاقوامی موازنہ کرنے میں کیا دشواری حائل تھی؟ اگر یہ موازنہ وزیر اعظم کو پیش کیے جاتے تو وہ مخالفین کے پراپیگنڈا کا موثر جواب تو دے سکتے۔اب ملاحظہ ہو پاکستان اور بھارت میں انسانی زندگی کے اخراجات کا ایک موازنہ، جو اینٹر نیٹ سے اس ناچیز نے حاصل کیا ہے:
نمبیو ((Numbeo جو ایک انٹر نیٹ سروس ہے، اس نے پاکستان اور ہندوستان میں روز مرہ کی اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں میں موازنہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ مجموعی طور پر بھارت میں صارفوں کے لیے قیمتیں 16.25فیصد زیادہ تھیں۔ اور اگر رہائشی کرایوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ فرق 18.34 فیصد تھا۔ بھارت میں رہائشی کرائے پاکستان کی نسبت 26.1 ایک فیصد زیادہ تھے۔روز مرہ کی اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں 37.24 فیصد زیادہ تھیں۔جب کہ بھارت میں مقامی سطح پر قوت خرید پاکستان کی نسبت 73.66 فیصد زیادہ تھی۔ مثلاً بھارت میں ایک ارزاں ریستورانٹ میں ایک وقت کا کھانا 32.14 فیصد زیادہ مہنگا تھا۔لیکن مرغی، بڑا گوشت، سیب، کیلے، مالٹے، آلو، پیاز ،پاکستان کے مقابلے میں خاصے مہنگے تھے۔مقامی سواری کا کرایہ پاکستان میں30روپے اور بھارت میں 44 روپئے سے بھی اوپر تھا۔ پٹرول ایک گیلن پاکستان میں 417.89 روپے تھا جب کہ بھارت میں پٹرول کی قیمت 654.63 روپے فی گیلن تھی۔
جب قیمتوں میں اضافہ کی بات کرتے ہیں، تو ہم بھول جاتے ہیں کہ جو عوام مہنگائی کا رونا رو رہی ہیں، وہی عوام اُجرت کے معاملے میں خاصی ہوشیار ہیں۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق پاکستان کے ایک اُجرت پر کام کرنے والے کی سالانہ کل آمدنی ایک لاکھ تیئس ہزار روپے ہے جو اوسطاً ماہانہ 10,239 روپیہ بنتی ہے۔ سروے کے مطابق، 41فیصد آبادی کی اوسطاً ماہانہ آمدنی ایک لاکھ اٹھایئس ہزار سے اوپر ہے۔ سن 2008-09 میں ایک اور جائزے کے مطابق کام کرنے والے افراد کی اوسط ٓمدنی 7,635 روپے ماہانہ تھی۔ اس میں دہاڑی دار مزدور شامل نہیں تھے۔جن کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ کم ہوگی۔اوپر دئے گئے اعداو شمار صرف اندازہ لگانے کے لیے ہیں اور یہ بتانے کے لیے جب ہم بازار میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کا تعین کرتے ہیں تو یہ نہ بھولیں کہ ہم جس وقت کی قیمتوں سے موازنہ کرتے ہیں اس وقت کی آمدنی کا بھی سوچیں۔اگر زندگی کی ضروریات کی قیمتیں بڑھی ہیں تو اس کے ساتھ آمدنی بھی۔ جو لوگ مہنگائی کا شور مچاتے ہیں وہ اس پہلو کا ذکر نہیں کرتے کیونکہ اس سے انکا مکالمہ کمزور پڑتا ہے۔