’’گیم اسٹاپ‘‘

229

’’گیم اسٹاپ‘‘ نامی کمپنی کے سٹورز دنیا بھر میں ہیں، آج امریکہ کا شاید ہی کوئی ا یسا مال ہو جہاں ان کے سٹور آپ کو نہ ملیں، اس وقت گیم اسٹاپ کے 5,800سٹورز ہیں جو کہ اسے امریکہ کی ایک بڑی چین بنا دیتے ہیں۔
امریکہ میں پہلے آیا ٹی وی پھر VCRاور پھر آ گئی گیمنگ جن کو آج آپ PS5اور XBoxکے نام سے جانتے ہیں، یہ وہ مشینیں ہوتی ہیں جنہیں آپ اپنے ٹی وی سے کنیکٹ کر کے ٹی وی سکرین پر گیمزکھیل سکتے ہیں، جس طرح وی سی آر میں کیسٹ ڈالنے سے فلم چل جاتی ہے ٹھیک اسی طرح گیمنگ کنسول میں گیم ڈال دیا جاتا ہے، کیسٹ یا بعد میں DVDکی صورت میں اور کنسول اسے لوڈ کرتے ہیں، اٹاری وہ پہلی کمپنی تھی جس نے ان کنسولز کو پہلی بار دنیامیں متعارف کروایا۔
اٹاری کی ایک چھوٹی سی غلطی سے اتنی بڑی کمپنی کا دیوالیہ نکل گیا ورنہ آج یہ دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ کمپنی ہو سکتی تھی، 1980ء میں ’’ET‘‘نام کی فلم آئی اور بے حد مقبول ہوئی، اٹاری والوں نے سوچا کہ جب فلم اتنی ہٹ ہوئی ہے تو اگر اس کا گیم آگیا تو وہ بھی سپرہٹ ہو گا۔ ETکا گیم بنانے، اسے مارکیٹ میں متعارف اور ڈسٹری بیوٹ کرنے میں اٹاری کمپنی نے اپنا بڑا سرمایہ لگا دیا مگر وہ گیم اتنا برا تھا کہ 80فیصد لوگ جنہوں نے اس کو خریدا تھا اسے واپس کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس طرح کمپنی راتوں رات ختم ہو گئی۔
VCRکے آجانے سے ایسے سٹورز کھل گئے تھے جہاں سے فلمیں کرائے پر لی جا سکتی تھیں جیسے ’’بلاک بسٹر‘‘ وغیرہ، اسی طرح Atariکے آجانے سے گیمز خریدنے اور کرائے پر لینے کے سٹورز کھلنے شروع ہو گئے اور وہیں شروعات ہوئیں ’’Gamestop‘‘کی۔
1983ء میں ڈیلس کے دو بزنس مینز نے ایک سال میں ایک سافٹ ویئر رئیل سٹور کھولا جس کا نام تھا ’’Babbage‘‘یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ میں نئی نئی گیمنگ کنسول آئی تھیں یعنی اٹاری لیکن اس سافٹ ویئر سٹور کے کھلتے ہی اٹاری کمپنی کے حالات خراب ہو گئے۔ یعنی ETگیمز ریلیز ہو گیا لیکن Babbageکے مالکان نے عقلمندی یہ کی کہ وہ صرف اٹاری نہیں بیچ رہے تھے بلکہ کمپیوٹر سافٹ ویئر بھی سیل کررہے تھے، اسی لئے وہ اٹاری کے زوال کے بعد بھی اپنا بزنس چلاتے رہے اور پھر کچھ ہی عرصے کے بعد گیمنگ انڈسٹری کو Re-inventکرنے کے لئے Nintendoآگیا اور اس وقت babbageپوری طرح سے تیار تھا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے۔
1994ء میں Babbageکاسافٹ ویئر ETCنے خرید لیا اور 1999ء میں ’’بارنس اینڈ نوبل‘‘ نے جس کے بعد اس کا نام بدل کر Gamestopکر دیا گیا تھا۔ اس کا بائی بیک ماڈل بہت ہی کامیاب رہا، کوئی بھی گیم خریدنے کے بعد آپ اسے گیم سٹاپ کے کسی بھی سٹور لا کر واپس سیل کر سکتے ہیں۔
گیم سٹاپ استعمال شدہ گیم کو Refurbishکر کے دوبارہ بیچ دیتا۔ کوئی اگر 60ڈالر کا گیم خریدتا تو اسے پتہ ہوتا کہ جب وہ اس سے بور ہو جائے گا تو بہت آرام سے تیس پینتیس ڈالر تک بیچ دے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انٹرنیٹ وغیرہ عام نہیں تھے۔ اس لئے گیم سٹاپ کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ آڑے نہیں آئی اس نے تیزی سے ترقی کی اور 5800سٹورز تک پہنچ گیا۔
گیم اسٹاپ ہمیشہ سے خبروں میں رہا، ظاہری بات ہے جہاں وقت کے ساتھ گیمنگ کنسول، ٹی وی، کمپیوٹرز، انٹرنیٹ بہتر ہوتے رہے گیم اسٹاپ کی شہرت بھی بڑھتی گئی۔
ہر ہفتے گیم اسٹاپ سے متعلق کوئی نہ کوئی خبر ضرور آتی۔ جیسے ایک بار یہ مشہور ہوا کہ یہ اپنے Refurbishسنٹر میں کئی گیمز کچرے میں پھینک دیتے ہیں اسی لئے اس سنٹر کے باہر رات کو خاصے لوگ گاربیج کے تھیلے کھولتے اور تلاشی لیتے نظر آتے ۔
ایک بار ایسا بھی ہوا کہ چور نے پہلے فون کر کے کنفرم کیا کہ فلاں فلاں گیم سٹور میں ہے؟؟ جواب ہاں میں ملا تو پھر وہ چوری کرنے پہنچا۔ وقت گزرتے انٹرنیٹ اور بہتر ہوتا گیا اور لوگ آسانی سے زیادہ سے زیادہ گیمز ڈائون لوڈ کر لیتے، جیسا کہ اکثر بزنسز کے ساتھ ہوتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ وہ ختم ہو جاتی ہیں، ایسا ہی کچھ گیم اسٹاپ کے ساتھ بھی 2021ء میں ہونے والا ہے، ایسا کافی لوگوں کو لگتا ہے۔ کچھ عرصے سے گیم اسٹاپ اپنے ’اسٹاک‘ کی وجہ سے بہت زیادہ خبروں میں ہے، اسٹاک بہت زیادہ اوپر جارہا ہے، اس لئے نہیں کہ ان کے حالات بہتر ہو گئے ہیں بلکہ اس لئے کہ کچھ لڑکوں نے انٹرنیٹ ویب سائٹ reditt.comکے ایک گروپ میں گیم اسٹاپ کے سٹاک کے ساتھ مستی کرنے کا سوچا۔
کچھ دن پہلے ان لڑکوں نے گیم اسٹاپ کے سٹاک خریدنے شروع کر دئیے دھڑا دھڑ جس کی وجہ سے جو سٹاک جنوری بارہ کو ڈالر 19کے تھے وہ اٹھائیس جنوری 2021ء کو ڈالر 400تک پہنچ گئے۔
صرف چند لڑکوں نے اسٹاکس کو ہلا کر رکھ دیا وہ بھی ایسے کہ آج جس نیوز چینل کو کھولو، فنانشل ویب سائٹ پر جائو اس پر گیم سٹاپ کا نام ہے، کئی آن لائن اسٹاک فرمز نے تو گیم سٹاپ کے اسٹاک خریدنے پر بھی عارضی طور پر پابندی لگا دی ہے۔
اس پورے واقعے سے ہم دو چیزیں سیکھتے ہیں کہ گیم اسٹاپ کو اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کا ایک اور موقع ہے یعنی اتنی پبلسٹی اور نیوز میں آجانا ایک موقع ہی ہے دوسرے یہ کہ آج انٹرنیٹ میں اتنی طاقت ہے کہ لوگ اگر چاہیں تو کچھ بھی سیل سکتے ہیں، کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ بھی صرف اپنے پاس رکھے فون سے سکرین پر ذرا سی ٹک ٹک سے!!