نیا ماڈل

249

یہ بات تو کہی جاتی رہی ہے کہ جس آئین اور اس سے منسلک جمہوریت کا حکومت اور اپوزیشن رات دن ڈھنڈورا پیٹتی ہے وہ ملک میں موجود ہی نہیں، سو پارلیمنٹ اور نظام کی بات کرنا صرف ذہنی عیاشی ہے، ملک کے ادارے ایک آئین کے تحت کام کرتے ہیں اور بیوروکریسی جس کو کبھی نوکر شاہی سے تعبیر کیا جاتا تھا مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، اور یہ ادارہ اب ملک کے لئے اس کے عوام کی بہتری کے لئے پالیسیاں مرتب نہیں کرتا، اس کا کام اب حکومتوں کی کاسہ لیسی ہے یا کمزور حکمرانوں کواپنی انگلیوں سے نچانا رہ گیا ہے، عمران حکومت کے ابتدائی دنوں میں بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور حکومت کو ان کی منتیں کرتے دیکھا گیا، عدلیہ بھی کہاں آزاد ہے، پولیس بھی من مانی کرنے میں آزاد، پولیس اصلاحات کا بہت شور اٹھا مگر کس کی ہمت کہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کر سکے اور دلچسپ صورت یہ نظر آئی کہ یہ کہا جانے لگا کہ ملک میں پولیس اصلاحات ہوئیں اور اس کی جدید خطوط پر تربیت ہو گئی تو شہروں میں فوج کی مدد کی ضروت پیش نہیں آئے گی، ظاہر ہے کہ یہ کس کو منظور ہو سکتا تھا سو پولیس اصلاحات شائد کبھی نہیں ہوں گے، پاکستان میں تاجروں کے استبداد کا یہ عالم کہ اس طبقے نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا اور آرمی چیف کو جا کر ان کو منانا پڑا، ملک میں نہ ٹریفک ریگولیٹ کرنے والا کوئی ہے نہ کوئی مہنگائی پر نظر رکھنے والا، تعلیم، صحت اور روزگار کی حالت نہ گفتہ بہ ،پرائیویٹ اسکول سپریم کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیتے ہیں، بے شمار مافیاز ملک میں دندناتی پھرتی ہیں اور اسے بڑا مذاق اور کیا ہو گا کہ ان کے نمائندے وزیراعظم کی کیبنٹ میں بیٹھے ہیں، من جملہ ان باتوں کے وکیلوں کی غنڈہ گردی الگ، یہ سب اس وقت ہوا جب فوج کی حکمرانی تھی، جہاد افغانستان ہماری جڑیں کھوکھلی کررہا تھا اور انتہا پسندی کی عفریت ملک میں امن و امان کو نگل رہی تھیں، اور ملک میں منشیات کا کاروبار برھنے لگا مگر نمازیں پہلے سے زیادہ پڑھی جانے لگیں، جتنی بے ضمیری میڈیا میں دیکھی گئی وہ شاید چکلے کے دلالوں میں بھی نہ ہو، ایسے میں ملک میں آئین، جمہوریت، نظام اور قانون سب کے سب مذاق ہیں اور اس کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ ملک میں حکومت ہے مگر حکومت کی رٹ نہیں ، نہ جمہوریت، نہ آئین، نہ انسانی حقوق اور نہ امن و امان، عروج ملا تو ملائیت کو جو آج ریاست کو للکار رہی ہے۔
یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا یہ تقدیر ضیاء الحق کے زمانے میں لکھ دی گئی تھی اور فوج نے اس میثاق پر دستخط بھی کر دئیے تھے، فوج کو عالمی طاقتوں نے سمجھا دیا تھا کہ طاقتور پاکستان عالمی طاقتوں کو منظور نہیں اور طاقتور پاکستان میں فوج کی ضرورت نہیں رہے گی، اس کے بعد پاکستان میں ہر چیز پر انحطاط آیا، مگر یہ سمجھانے کے لئے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے سابق جنرلز اور سابق سفیروں کی ایک فوج میڈیا میں اتاری گئی، جو عوام کو یقین دلاتی رہی کہ تم کو روٹی ملے نہ ملے مگر تم اگر سکون کی نیند سوتے ہو تو فوج کی وجہ سے سوتے ہو، ان حالات میں کہ دنیا کے بیشتر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پاکستان کی خرابیاں فوج کی وجہ سے ہیں اور ان کی پیدا کردہ ہیں ہم کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں جو سیاست ہورہی ہے وہ فیوڈلز کی سیاست ہے، اس کا عوام سے کچھ بھی لینا دینا نہیں اور نہ ہی عوام کا اس سے کچھ بھلا ہونے والا ہے، سو اس پاکستان کو اس سیاست سے کم از کم بیس سال کے لئے جان چھڑا دی جائے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور ان کو کام کرنے دیا جائے تاکہ عوام کو محسوس ہو کہ ان کے نمائندے ان کے لئے کام کررہے ہیں اور ان تک ان کی رسائی بھی ہے اس دوران ملکی بہبود کے طویل مدتی منصوبے لانچ کئے جائیں تاکہ ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ دی جائے، ہم نے یہ بھی تجویز رکھی تھی کہ کم از کم کراچی کو اگلے دس سالوں کے لئے سیاست سے پاک رکھا جائے کراچی بہت تیزی سے ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی ترقی پاکستان کے دیگر شہروں کے لئے قابل رشک ہو سکتی ہے اور قابل تقلید بھی، ملک کو غیر روایتی انقلابی حل چاہیے ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ فوج نے ہی تمام معاملات خراب کئے ہیں اور اب ملک میں کوئی مضبوط سیاسی قوت موجود نہیں سو جو فوج نے بگاڑا ہے فوج کو ہی اس کو درست کرنا چاہیے اب ایک نغمہ فوج کے لئے بھی تاکہ اس میں جذبہ حب الوطنی پیدا ہو۔ عمران کئی دنوں سے کہہ رہے ہیں کہ ہر پانچ سال کے بعد انتخاب ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتے، کیونکہ طویل المدتی منصوبے بنائے ہی نہیں جا سکتے، منصوبے نامکمل رہ جاتے ہیں اور حکومت بدل جاتی ہے، یہ بات تو درست ہے اور یہی ہوتا رہا ہے اور یہ بھی تو ہوتا رہا ہے کہ نواز حکومت نے پی پی کے منصوبے منسوخ کر دئیے اور پی پی نے حکومت سنبھالنے کے بعد نواز دور کے منصوبوں کو تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا، ان منصوبوں پر لگایا ہوا سرمایہ بھی برباد ہوا، اس بات پر پاکستان کی عوام نے کبھی نہیں سوچا کہ حکمران کی اہلیت کیا ہونی چاہیے، لاابالی طور پر نعرے دئیے گئے اور پورا ملک ان نعروں کے سیلاب میںبہہ گیا، روٹی کپڑا مکان کا نعرہ اور پھر اسلام کا نعرہ، اور اب ریاستِ مدینہ اور فلاحی ریاست کا نعرہ، بھٹو ایوب کابینہ سے نکلے تو سوشلسٹ ہو گئے، کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کی سوشلسٹ نظام پر درک کیا ہے ضیا نے اسلام کا نعرہ دے دیا اور مودودی جیسے انکے ہم نوا ہو گئے اور کسی نے نہیں پوچھا کہ اسلام کا نظام تاریخ میں کب نافذ ہوا کربلا کے بعد ملوکیت رہی بھئی بتائیں تو کیا ملوکیت اسلام ہے، دنیا میں کہیں بھی کبھی کوئی اسلامی حکومت قائم ہوئی؟ یہ سوالات کسی دانشور، کسی بڑے صحافی نے اٹھائے اور نہ ہی اب کوئی عمران سے پوچھ رہا ہے کہ ریاست مدینہ کب بنی تھی اور آپ کی فلاحی ریاست کے خدوخیال کیا ہوں گے، کیا یہ ریاست جدید مغربی ریاستوں کی طرح ہو گی یا اس اسلامی فلاحی ریاست کی طرح جس کا تاریخ میں کبھی وجود ہی نہیں رہا، عمران کا حال بھی اس مداری کی طرح ہے جو اپنی ٹوپی سے کبوتر نکالتا ہے، اس کو معلوم تھا کہ اس قوم میں اسلام کا چورن بیچا جا سکتا ہے، سو اس نے اس کا نام بدل کر ریاستِ مدینہ رکھ دیا اور شلوار لٹکا لی، اب اس مداری پن میں اب وہ عوام سے اپنے لئے طویل مدتی منصوبوں کا لانچ دے کے دوسری کئی ٹرم مانگ رہا ہے اور فوج اس کی مدد کررہی ہے کہ وہ یک جماعتی نظام لا سکے، یہ سب کچھ وہ فوج کی مدد کرنے کے لئے کررہا ہے تاکہ دو بڑی جماعتیں جو فوج سے بددل ہیں فوج کی جان چھوٹے، ایک اہل سیاست دان اگر کوئی ماڈل دیتا تو شاید قبول کر لیاجاتا مگر عمران سے تو یہی پوچھا جانا چاہیے کہ چلو چین کا ماڈل لے آئو کوئی اور ماڈل لے آئو مگر یہ بتاء تمہاری expertieseکیا ہے؟