بھارتی اور پاکستانی کسانوں میں فرق!

284

اگرچہ بھارت میں کروڑوں کسان یاکاشتکار حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جو گزشتہ کئی دنوں سے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں جس سے بھارتی سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی ہے جنہوں نے بقول پاکستانی میڈیا دہلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرا دیا ہے جوکہ ایک نہایت احمقانہ سوچ ہے، یہ جانتے ہوئے بھارتی کسان یا کاشتکار ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں جو محدود زرعی زمینوں کے مالکان ہیں یہاں 1951ء میں جواہر لعل نہرو نے جاگیرداری ختم کر کے جوہل چلائے گا اسی کو زمین دی تھی جو آج کے کاشتکار یا کسان کہلاتے ہیں یہاں کوئی غیر کاشتکار زرعی زمین کا مالک نہیں بن سکتا ہے۔ جس طرح پاکستان میں جاگیردار، وڈیرہ، کرنل، جنرل، بیوروکریٹ ، زرعی زمینوں کے مالکان نہیں تھے جن کو انگریزوں نے مخبریوں، وطن دشمنیوں، وطن فروشیوں کی بناء پر بڑی جاگیریں عطاء کی تھیں یا پھر گزشتہ 72سالوں سے سابقہ فوجی افسروں، بیوروکریٹوں اور دوسرے اہلکاروں کو زرعی زمینیں دے کر مالکان بنایا گیا ہے، جن کا زراعت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ جن کی وجہ سے پاکستان کا کسان اور ہاری صوبوں کا غلام ابن غلام بنا ہوا ہے۔
جو زرعی زمین کی ملکیت کا جواز تو کجا اپنے گھروں، مکانوں اور جھونپڑیوں کے مالک نہیں ہوتے ہیں جن کے بچے جاگیردار، وڈیرہ اور زمینداروں کی مرضی کے بغیر سکول نہیں جا سکتے ہیں ، ہاری اور کسان اپنی بچیوں کی شادی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے ہیں جن کی عزتیں جاگیرداروں، وڈیروں اور بڑے زمینداروں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہوتی ہیں لہٰذا پاکستانی میڈیا کے ہرکاروں کو اس بات کا موازنہ کرنا ہو گا کہ بھارتی اور پاکستانی کسان میں کیا فرق ہے کہ بھارتی کسان احتجاج کا حق رکھتا ہے جو اپنی زرعی زمینوں کا مالک ہے جبکہ پاکستانی کسان جاگیرداروں، وڈیروں اور زمینداروں کا غلام ہے جس کا اپنا گھر کچھ نہیں ہے جو جبر کے حاکموں کے ماتحت ہیں جو عہد غلامی کی نشانی ہے کہ پاکستان کے ہاری اور کسان جاگیرداروں، وڈیروں، مہروں، چوہدریوں کے زرخرید غلام ہیں جن کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہے۔ اگر اوکاڑہ پنجاب کے علاقے میں کسان اپنے فوجی زمینوں کے مالکان کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے یا پھر کاشتکار لاہور میں دھرنا دیتے ہیں تو انہیں مار مار کر لہو لہان کر دیا جاتا ہے تاہم زمین کا مالک صرف اور صرف خدا تعالیٰ ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے۔ زمین کے تمام وسائل برابر انسانوں میں بانٹنے چاہئیں ، کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی زمین کا مالک نہیں ہو سکتا ہے جس کو ریاست نے اپنایا کہ تمام اللہ تعالیٰ کی زمین کی ذمہ داری ریاست کے پاس ہے جس طرح روس اور چین نے اپنایا تھا کہ تمام زمین ریاست کہلائی یہاں آج نجی زمین کا کوئی مالک نہیں ہے یہاں جاگیرداری کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا برصغیر میں بھی انگریزوں سے پہلے زمین ریاست کے پاس ہوا کرتی تھی جس کا امین بادشاہ یا راجہ تھا۔ ہر کاشتکار کو زمین ملا کرتی تھی جو لگان کی شکل میں کاشتکاری پر ٹیکس ادا کرتا تھا جس کو سامراجی اور استعماری طاقت فرنگیوں نے اپنے مخبروں، وطن فروشوں کو بطور انعامات بانٹنا شروع کر دیا ہے جس کا آج بھی کوئی قانونی جواز نہیں ہے یہی وجوہات ہیں کہ بھارتی پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے جاگیرداری کا خاتمہ کر کے زرعی زمینیں کسانوں کو دے دیں کہ آج بھارت میں کوئی بھی غیر کاشتکار زرعی زمین کا مالک نہیں بن سکتا ہے نہ ہی کوئی امیر شخص فارم ہائوس کے نام پر زرعی زمین کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا ہے یہی وجوہات ہیں کہ بھارت کے مشہور ایکٹر اداکار امیتابھ بچن کو راجھستان میں فارم ہائوس کے لئے زمین خریدنے کی اجازت نہ ملی تھی کیونکہ وہ کاشتکار نہ تھے۔ بہرحال بھارتی اور پاکستانی کسان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ بھارت کسان زرعی زمین کا مالک کہلاتا ہے جواپنے جمہوری حق کو استعمال کر کے لال قلعہ پر چڑھ جاتا ہے جس پر پاکستان میں جشن منائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں کسان غلام ہے جو صدیوں سے زمین ،گھر بار سے محروم ہے جس کا سب سے فائدہ اٹھانے والا پاکستانی جاگیردا، جنرل اور کرنل نکلا کہ جن کو پاکستان بننے کا سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے جو آج پاکستان میں ہزاروں ایکڑوں کے مالکان ہیںجن کی زرعی زمینوں پر کئی کئی ریل گاڑیوں کے اسٹیشن بنے ہوئے نظر آتے ہیں جس کے بارے میں بھٹو نے اپنی کتاب میں ذکر کیا تھا کہ برصغیر کاسب سے بڑا جاگیردار سلطان احمد چانڈوی ہے جن کے پاس تین لاکھ زرعی زمین ہے جس کی زمین پر ہزاروں کسان غلام ہیں۔ اس لئے پاکستانی میڈیا کو بھارتی کسانوں کے ساتھ پاکستانی کسانوں کے بارے میں بھی لکھنا اور بولنا چاہیے جن کو بھارتی کسانوں کے ٹریکٹروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی پیدل کسانوں کا بھی ذکر کرنا چاہیے جو بے زمین، بے زبان اور بے گھر ہیں جن کے پاس ٹریکٹروں کی بجائے گدھا گاڑیاں تک نہیں ہے جو پاکستان کے جاگیرداروں، وڈیروں، چوہدریوں اور غیر حاضر زمینداروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں۔ کاش وہ دن آئے جب پاکستان کے کسان اور ہاری بھی بھارتی کسانوں کی طرح اپنے حکمرانوں کے خلاف کروڑوں کی شکل میں احتجاج کریں۔ زرعی زمینوں کی ملکیت کا حقوق مانگیں پھر دیکھو یہ زرعی پاکستان دنیا کے کس نقشے پر نظر آتا ہے جو آج زرعی ملک ہونے کے باوجود غیر ملکوں سے گندم اور چینی منگوارہا ہے جبکہ بھارتی پنجاب پورے بھارت کو روٹی فراہم کررہا ہے جو صرف اور صرف جاگیرداری کے خاتمے سے ہوا ہے جو کسی انقلاب سے کم نہیں ہے جبکہ پاکستان زرعی ملک بنگلہ دیش، ویت نام کے کپڑے پہننے پر مجبور ہے یہاں کپاس پیدا نہیں ہوتی۔ شرم کا مقام ہے بھارتی کسانوں کے ہاتھوں لال قلعے پر جھنڈے لہرانے پر جشن منارہے ہیں لیکن اپنے کسانوں کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں لکھا، نہ بولا جاتا ہے۔