گورا صاحب تہتر سال قبل چلا گیا مگر پاکستان میں برائون صاحب کی شکل میں ذہنی پسماندگی اور غلامانہ سوچ چھوڑ گیا!

257

ہیوسٹن میں اکثر اوقات ہمارا سامنا ایسی فیملیز کے ساتھ ہوا ہے جن میں والدین کی انگریزی تو بڑی ٹوٹی پھوٹی سی ہوتی تھی مگر وہ اس بات پر بڑے فخر سے سینہ پُھلا کر کہتے تھے کہ دیکھئے ہمارا بچہ کتنی فر فر انگریزی بولتا ہے، اس کا لہجہ تو بالکل امریکیوں جیسا ہے، یہ تو ہم سے بھی انگریزی ہی میں بات کرتا ہے اور ہم دل ہی دل میں طنزیہ مسکراتے رہتے کہ کہیں ہمارے سچے ردعمل سے انسان کے فخر کا بھرم نہ ٹوٹ جائے۔ یہ بات صرف کم پڑھے لکھے پاکستانی تارکین وطن تک ہی محدود نہیں بلکہ خاصے تعلیم یافتہ افراد بھی اس احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں جس کا اظہار بعض اوقات ان کے ریمارکس سے ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ ہمارے ایک جاننے والے میاں بیوی انجینئر اور ڈاکٹر گھر پر آئے ہوئے تھے، ہماری بیٹی جو اس وقت تین یا چار سال کی رہی ہو گی تو کسی بات پر ہم نے پوچھا کہ بیٹا نپکن کا باکس کہاں ہے تو اس نے کہا کہ میز پر رکھا ہے۔ دونوں میای بیوی ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے کہنے لگے کہ اس کی اس عمر میں اردو اس قدر عمدہ کیسے ہے اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ میز کسے کہتے ہیں۔ اور ہم ہنس دئیے، ہم چپ رہے۔۔۔۔۔۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ہم دونوں میاں بیوی نے پہلے ہی دن سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ گھر میں حتی الامکان ہم بچوں سے اردو میں بات کریں گے کیونکہ باقی سارا وقت وہ سکول میں، ٹی وی دیکھتے ہوئے اور دوستوں کے ساتھ انگلش ہی میں مکالمہ کریں گے تو کم از کم گھر کے اندر تو ان کی مادری زبان سے واقفیت رہے گی۔
اس تمام تمہید کا پس منظر گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں پیش آنے والا وہ واقعہ ہے جس نے پورے پاکستان اور دنیا بھر میں آباد پاکستانیوں کو چونکا دیا۔ دارالحکومت میں واقع ایک پوش ریسٹورنٹ ’’کینولی کیفے‘‘ کی دو خاتون مالکان نے تفریحٔ طبع کے لئے اپنے منیجر اویس الطاف کی انگریزی بولنے کی صلاحیت کا مذاق اڑانے کی ویڈیو بنائی اور اُسے انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دیا۔ دونوں مغرب زدہ خواتین عظمیٰ اور دیا اس ویڈیو میں اپنے منیجر سے کہتی ہیں کہ ہم نے تمہیں انگلش کے تین کورسز کرائے گزشتہ نو سالوں میں تو ذرا اپنا انگریزی میں تعارف کرائو۔ منیجر اویس الطاف نے گھبراہٹ میں غلط ملط انگلش میں تعارف کرا دیا اپنا جس پر وہ دونوں ذہنی طور پر معذور خواتین کیمرے کی طرف دیکھ کر کہتی ہیں انگریزی میں کہ تو جناب یہ ہے ہمارا منیجر جو نو سال سے یہاں کام کررہا ہے اور اسے ہم نے چھ چھ مہینے کے تین انگلش کورسز بھی کرائے اور اب آپ اس کی انگلش کا مظاہرہ بھی دیکھ لیں۔ منیجر شرمندہ سا کھڑا سب سنتا رہتا ہے۔ یہ ویڈیو وائرل ہو گئی مگر ان دونوں خواتین کے اندازوں کے بالکل برعکس پیرائے میں۔ بجائے لوگ اس سے محظوظ ہو کر ’’لائک‘‘ کرتے لوگوں نے اس تمسخرانہ انداز کو ’’ڈس لائک‘‘ کرتے ہوئے دونوں برائون خواتین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں القابات سے نوازا۔ بات قومی میڈیا تک پہنچ گئی اور دونوں خواتین کو معذرت کی ٹویٹ کرنا پڑی۔ یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان بھی اس غلامانہ ذہنیت کے مظاہرے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہیں کہنا پڑا کہ ہمارے ملک کے ستر فیصد لوگ انگلش نہیں سمجھتے، اسی لئے میں ہر جگہ چاہے وہ سیمینار ہو، کوئی ادارے کا فورم ہو یا میٹنگ ہو ہر جگہ اردو بولتا ہوں اس بنیاد پر کسی کا مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ سب سے دلچسپ ٹویٹ وسیم اکرم کی آسٹریلوی نژاد اہلیہ کی جانب سے خواتین سے کیا گیا کہ میں بھی بور ہورہی ہوں تو کیوں نہ میں بھی آپ سے انگلش میں بات کر لیتی ہوں تاکہ پتہ چل جائے کہ کون بہتر بول سکتا ہے۔ تمام رائے عامہ بشمول آرٹ انڈسٹری کے جو ردعمل سامنے آیا ہے اچھی بات یہ ہے کہ ان دو خواتین کی ذہنیت کی سطح کسی بھی پاکستانی سے میل نہیں کھاتی۔ اس ویڈیو کے بعد سے منیجر اویس الطاف کو پورے پاکستان سے ملازمت کی آفرز کی لائن لگ گئی ہے ظاہر ہے کہ اگر وہ گزشتہ 9سالوں سے اس کیفے سے وابستہ ہے تو کچھ بہتر ہی کررہا ہو گا۔ کیفے نے اب اپنے نام کے سائن بورڈ کو تبدیل کر کے اس کا نام اردو میں بھی شامل کر دیا ہے۔ کچھ من چلوں نے کینولی کیفے کے سامنے اردو محفل مشاعرہ بھی کر ڈالا۔ لاہور کی فرنچائزنے اعلان کر دیا ہے کہ ان کا اسلام آباد کی کسی برانچ سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا ان کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔ اگر آپ کبھی اسلام آبادجائیں تو اس کیفے میں ضرور جائیں۔ باہر سے تصویر بنائیں اندر جا کر ان خواتین کو بتائیں کہ آپ کھانا نہیں کھائیں گے مگر تصویر ضروراپ لوڈ کریں گے یہی انکی سزا ہے۔