اخوت یونیورسٹی نے حیران کر دیا!!

298

پاکستان جیسا غریب ملک جہاں دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں ایسی درسگاہیں وجود میں آجائیں جہاں غریب کے بچے کو اعلی تعلیم و رہائش سو فیصد مفت مہیا کی جائے تصور بھی محال ہے لیکن ایک درویش صفت نے اس تصور کو حقیقت بنا کر پیش کر دیا۔ میرے پیارے بھائی ڈاکٹر امجد ثاقب نے خواب کو تعبیر دے دی۔ آج میں اس مقام پر کھڑی حیران نظروں سے یونیورسٹی کی عالی شان عمارت اور سٹوڈنٹس کا اعتماد دیکھ کر اپنے ابا جی کے مرشد کا شعر گنگنا رہی تھی‘‘ نیرنگیوں سے یار کی حیراں نہ ہو جائیو، ہر رنگ میں اسی کو نمودار دیکھنا‘‘۔ رب کی شان ہے جنون کیا کیا معرکے انجام دے دیتا ہے۔ اخوت یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئے تو باوردی طلبا نے زبردست پروٹوکول دیا، یونیورسٹی کا وزٹ کرایا، یونیورسٹی کا ہر گوشہ اپنے عشق کی داستان خود بیان کر رہا تھا۔عمارت کی صفائی ستھرائی ڈیزائن اور سہولیات دیکھ کر لگا کسی مغربی ملک کی درسگاہ میں گھوم رہے ہیں۔ایک ہزار کی ایک اینٹ کاچیریٹی پروگرام کی برکت سے تعمیر شدہ یہ یونیورسٹی ایسی مزید کئی درسگاہوں کی ماں ثابت ہو رہی ہے۔ پہلی اینٹ رکھنا مشکل ہوتا ہے باقی اینٹیں جنون اکٹھی کر لیتا ہے۔ قصور کے نواح میں اخوت یونیورسٹی کا وزٹ ہمارا روحانی وزٹ تھا۔ پاکستان کی پہلی مفت تعلیم اور رہائش فراہم کرنے والی اخوت یونیورسٹی کے طالب کااعتماد اور ایمان ان کی پیشانی سے پھوٹ رہا تھا۔ ملک بھر سے مستحق طلبا اتحاد ایمان کی علامت نظر آ رہے تھے۔بلا سود قرضے دینے والا ادارہ اخوت اب تک53ارب سے زائدرقم کے قر ضہ جات جاری کر چکا ہے جن کی ریکوری سو فیصد ہے۔ اخوت کے بانی اور مرشد ڈاکٹر امجد ثاقب فروری 1957ء میں کمالیہ میں پیدا ہوئے۔ اس گھرانے کا پس منظر زمیندارانہ ہے۔ کمالیہ میں ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لاہور چلے آئے۔ 1974ء میں گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کے بعد انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ میو ہسپتال میں ہاؤس جاب کی پھر اس پیشہ سے ذہنی مناسبت نہ ہونے کے سبب سول سروس کی طرف راغب ہوئے۔ امجد ثاقب کا تعلیمی سفر ہمیشہ شاندار رہا تھا اسی لئے جب انہوں نے 1985ء میں سی ایس ایس کا امتحان دیا تو پورے پنجاب میں پہلی اور ملک بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ سی ایس ایس میں کامیابی کے بعد ڈاکٹر امجد ثاقب کو پہلی بار شیخوپورہ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ وہ شورکوٹ اور چنیوٹ میں بھی اے سی رہے۔ ان کی آخری پوسٹنگ شہبازشریف دور میں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری کی تھی۔ سرکاری ملازمت سے چھٹی لے کر انہوں نے 1998ء میں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام میں کام شروع کر دیا جس کا مقصد غربت کا خاتمہ تھا۔آج اخوت فاؤ نڈیشن پاکستان میں مائیکرو فنانس (قرض حسنہ)کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کی شہرت بیرون ملک تک دکھائی اور سنائی دیتی ہے۔ اخوت کے پلیٹ فارم سے قصور کے قریب پہلی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ یونیورسٹی کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے لیے فی اینٹ 1ہزار روپے نرخ مقر ر کیے ہیں۔اللہ تعالی نے اس ملک و قوم کو فراخ دلی سے نوازا ہے۔یہ نیک دل قوم خالق کی مخلوق کی خدمت میں دنیا کی بہترین قوم ہے۔اخوت کا بنیادی تصور آقا نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ مبارک سے مستعار لیا گیاہے۔آپ نے بدر کے وہ قیدی جو فدیہ ادا نہیں کر سکتے تھے ان کی رہائی کافدیہ یہ مقرر کر دیا کہ ایک قیدی دس صحابہ کرام کو لکھنا پڑھنا سکھادے۔ یہ تھی دنیاوی تعلیم کی افادیت۔ دینی تعلیم کا آفتاب اور مرکز خود نبی پاک ہیں اور مسجد نبی پہلی اور آخری یونیورسٹی ہے۔اعلی دنیاوی تعلیم حاصل کرنا بھی ہر مومن مسلمان پر فرض کر دیا گیا ہے لیکن بد قسمتی سے اسلامی ریاست پاکستان میں غریب کا بچہ سرکاری کالج یونیورسٹی کی فیس بھی ادا نہیں کر سکتا کجا نجی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھے؟اس خواب کو اخوت یونیورسٹی نے عملی جامہ پہنایا اور آج ہمارے سامنے وہ یونیورسٹی قائم ہے جو غریب کے بچے کو سو فیصد مفت اعلی تعلیم اور سہولیات مہیا کر کے ملک کے مہنگے ترین نجی اداروں کا منہ چڑا رہی ہے۔ —