جھوٹ بولنا ضمیرکو ہلاک کرنا ہے!!

284

عوام کو کسی نے حافظہ بہتر کرنے کے لئے ’’بدام، شدام‘‘ کھانے کا مشورہ دیا تھا، سو بدام تو مہنگائی کی وجہ سے کھانے مشکل تھے اس لئے عوام نے شدام کھانے پر ہی اکتفا کیا ۔ سو حافظے کا جو عالم ہوا وہ سامنے ہے۔ حضورﷺ کے زمانے کاایک واقعہ بیان کیا گیا تھا عوام یقینا بھول گئے ہوں گے اس لئے دوبارہ تحریر کرنا پڑرہا ہے۔ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’یا رسول اللہ ﷺ دنیا کا کوئی بھی گناہ ایسا نہیں جو میں نے نہ کیا ہو، اب چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن چھٹکارہ ناممکن ہو گیا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ ان قبیح عادات سے مجھے چھٹکارہ دلائیں‘‘۔ آپ نے فرمایا بس تو اتنا کر کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور اپنی دن بھر کی مصروفیات کو میرے سامنے آ کر بیان کر دیا کر۔ وہ شخص جب بھی گناہ کی طرف راغب ہوتا تو اسے خیال آجاتا مجھے حضور کے سامنے کارستانی بتانی پڑے گی اور جھوٹ بول نہیں سکتا چونکہ انہیں سب معلوم ہو جائے گا۔ اس نے جھوٹ سے بچنے کے لئے گناہ کرنے چھوڑ دئیے۔ یہ تو ہر ایک ذی ہوش انسان کو معلوم ہے کہ جھوٹ اُم ال گناہ ہے۔ شراب اُم الخبائث ہے۔ سب سے پہلے انسان کو اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ جھوٹ کو اپنی زندگی سے نکالنا ہو گا اور صاف ستھری زندگی گزارنی ہو گی۔ ضمیر کی پاکیزگی کے لئے یہ ضروری ہے۔
ملک خدادا میں جھوٹ اس روانی سے بولا جاتا ہے کہ سچ معلوم ہوتا ہے، ان کے ضمیر مردہ ہی ہیں۔ دین کے بدلے انہوں نے دنیا خریدی ہے؎
روح کا کیسا زیاں ہو مگر
نفس کو لقمہ تر چاہیے!!
اور اس ہوس کے سمندر میں کچھ لوگ پریشان ہیں؎
یہ سوچتے ہیں کب تک ضمیر بچائیں گے
اگر یونہی جیا کئے ضرورتوں کے درمیاں!!
(پیرزادہ قاسم)
جون ایلیا کہتے ہیں باہر کی گھٹن اندر کی گھٹن کچھ کم تو نہ تھی اور یہ فضاء میں قہر تھا ،ہوا میں زہر تھا، ہوا کا زہر فضا کا قہر ضمیر کی ہلاکت، ذہن کی ہزیمت تھا، ہم نے حکمت کو ہوس بنتے دیکھا اور دلیل کو دلالی، قیادت نے قزاقی کا پیشہ اختیار کیا اور قانون نے نقب زنی شعار کی تو پھر ہو کیا؟ کیا ہم اندر سے اسی طرح کراہتے رہیں۔ میں تو کہتا ہوں اندر کی ہلاکت سے باہر کی ہلاکت ہزار گنا بہتر ہے۔ اندر کی زندگی بھی موت ہے اور باہر کی موت بھی زندگی، کسی طرح بھی اپنے آپ کو باہر نکالنا ہے۔ چاہے کسی طرح۔۔۔۔۔!
سنا ہے لاش سے لڑنے کا عزم رکھتا ہے
قسم خدا کی منصف یزید لگتا ہے!!
برسوں سے آپادھاپی کا دور چل رہا ہے۔ باری لگ رہی ہے ’’تو چل میں آیا‘‘ کا حساب ہے۔ گدھوںنے سارا جسم نوچ لیا ہے ، فقط اب ڈھانچہ بچا ہے۔ اس میں جان ڈالنے کی کوشش۔عبث؟۔
کہیں بھی وزیراعظم یا سیاستدان کی ذاتی زندگی پر اتنی ریسرچ آج تک نہیں ہوئی جتنا عمران خان کی ازدواجی زندگی کو کھنگالا گیا۔ پہلی شادی بہت کامیاب تھی۔ جمائما ایک وفا شعار عورت تھی۔ اس سے خان کے دو حسین بیٹے ہیں لیکن لوگوں کو یہ شادی ایک آنکھ نہ بھائی، اتنے روڑے اٹکائے گئے کہ طلاق ہو گئی۔ دوسری خاتون ریحام خان کھسیانی بلی بنی اب تک کھمبا نوچ رہی ہے۔ کبھی انگور کی بیل تلے بیٹھ کر لومڑی اپنے سے دور انگور دیکھ کر فتویٰ دیتی ہے کہ انگور کھٹے ہیں۔ انتہائی ذلت کا مقام ہے خان نے بالمشافہ طلاق نہیں دی بلکہ فون پر ہی کام ہو گیا۔ وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ خاصے پر پرزے نکالنے لگی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ پارٹی کی چیئرمین وہی ہیں۔ لوگوں کو بھی ناگوار ہوا اور خان کی برداشت سے بھی باہر ہو گیا۔
کیا عوام کو معلوم ہے کہ شوباز نے کتنی شادیاں کیں؟ کتنی طلاقیں ہوئیں، موجودہ بیگم تہمینہ دولتانہ ،تہمینہ کھر تھیں۔ یعنی مصطفی کھر کی بیگم شاید عوام کو یاد ہو کہ مصطفی کھر پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ بیگم کو کیوں طلاق دی؟ شوباز کا تکا کیسے لگا؟ کیا عوام کو معلوم ہے اور دیگر بیگمات کا شجرہ نسب کیا ہے؟ کسی کو معلوم نہیں، صاحبزادے حمزہ نے بھی کئی شادیاں کی ہیں، ابھی چند سال پہلے ایک بیگم عائشہ سے کچھ طلاق کا جھگڑا چل رہا تھا۔ معاملہ دب گیا، مال مفت دل بے رحم والا معاملہ ہے۔ لوٹی ہوئی دولت وافر ہے۔ شادیاں کررہے ہیں، بیویوں کو دیگر لوازمات گارڈ، گاڑیاں سب مہیا کر دی ہیں، بہتر تھا کہ پاکستان کی باگ ڈور ڈاکوئوں کے ہاتھ میں دے دی جاتی۔
بختاور خیر سے پیا گھر سدھاریں، ان کا شادی کا جوڑا 1 کروڑ 87لاکھ اور جہیز تو اربوں کا ہو گا جبکہ اندرون سندھ لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ بچے غذائی قلت کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ علاج کا تو سوال ہی کیا ہے، سکولوں، ہسپتالوں کی ادھوری تعمیر شدہ عمارتوں میں ڈنگر بندھے ہوئے ہیں۔ درجنوں ایمبولینس کھڑے کھڑے ناقابل استعمال ہو گئی ہیں، الیکشن کے زمانے میں ووٹ لیتے وقت ان غریبوں سے بہت وعدے کئے جاتے ہیں اور ان کے حالات بعد میں بد سے بدتر ہو جاتے ہیں۔ بتائیے جینے کا حق کس کا ہے؟