’ریڈ ربن‘ میانمار میں فوجی بغاوت کیخلاف مزاحمت کی علامت بن گیا

238

میانمار میں گزشتہ دنوں ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع  ہوگئی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف سرکاری اسپتالوں میں اسٹاف نے احتجاجاً کام چھوڑ دیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک سوشل میڈیا کے ذریعے بھی چلائی جارہی ہے اور اسی باعث  میانمار بھر کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف نے تحریک شروع کردی ہے۔

 رپورٹس کے مطابق سول نافرمانی کی تحریک میں 74 اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف  نے ایمرجنسی کے علاوہ کام بند کیا، ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف نے  پلے کارڈز اور پوسٹرز اٹھا کر احتجاج بھی کیا اور سینوں پر ریڈ ربن بھی لگائے۔

یہی ریڈ ربن اب فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گیا ہے۔

دوسری جانب آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت کے دفاتر پرچھاپوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ میانمار کی پولیس نے آنگ سان سوچی کا 15 فروری تک ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

میانمار کی پولیس نے آنگ سان سوچی پر مضحکہ خیز الزامات عائد کیے ہیں اور عدالت میں کہا ہے  کہ سوچی کے گھر پرتلاشی کے دوران چھ غیر لائسنس واکی ٹاکی ملے۔

پولیس کے مطابق ریڈیو غیر قانونی طور پر درآمد اور بغیر اجازت استعمال کیے گئے۔ بعدازاں عدالت نے سوچی کا  15 فروری تک ریمانڈ منظور کرلیا۔

میانمار کے آرمی چیف نے بیان دیا ہے کہ سوچی حکومت کا جانا ملک کیلئے ناگزیر تھا اور اس لیے انہوں نے یہ راستہ منتخب کیا۔

اُدھر گزشتہ روز میانمار کی صورتحال پر نیویارک میں سلامتی کونسل کے رکن ملکوں کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس ہوا،خبرایجنسی کے مطابق روس اور چین نے مشترکہ بیان پر بات چیت کیلئے مزید وقت مانگا ہے۔