پاکستان سمیت دنیا میں شارک اور رے کی کئی اقسام معدومیت کے قریب

347

 کراچی: دنیا بھرکےسمندروں میں شارک اوراس کے خاندان سے جڑی دیگرآبی انواع کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوگئے،بین  الاقوامی سطح پرہونے والی تازہ ترین تحقیق میں شارک اورریز کی 18اقسام میں گذشتہ 50برسوں کے دوران 70فیصدکمی واقع ہوئی جبکہ اگلے 20برسوں کے دوران شارک کی کچھ اقسام کے مکمل ناپید ہونے کا بھی انکشاف کیاگیاہے۔

ڈبیلوڈبیلوایف(پاکستان)کے مطابق ماضی میں پاکستانی ساحلی مقامات پر134اقسام کی شارک اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والی آبی حیات پائی جاتی تھیں،بلوچستان کے ساحلی مقامات اورماڑہ اورجیوانی شارک کے افزائش نسل کے گڑھ سمجھے جاتے تھے،پاکستان میں بے دریغ اوربے لگام شکار کے سبب پاکستان میں  گذشتہ تین دہائیوں کے دوران شارک کی بیشتر اقسام معدومیت جبکہ کچھ کے آثارسرے سے ہی ناپید ہوچکے ہیں۔

کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی کی شارک اور ریز پرحالیہ تازہ ترین تحقیق کے مطابق 1970کے بعد دنیا بھر کے سمندروں میں شارک اورریز کی 18اقسام کی آبادی میں 70فیصد کمی ہوئی ہے۔ شارک اورریز نسل  بےتحاشہ شکارکے باعث عالمی سطح پرمعدومیت کے خطرات سے دوچار ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر اس قدر تیزی سے شارک کا گوشت انسانی خوراک کا حصہ بنتا رہا تو اگلے10 سے 20برسوں میں شارک کی کچھ اقسام مکمل طورپر ناپید ہوسکتی ہیں۔