ویلکم جوبائیڈن، تاریخ آپ کو ہمیشہ جرأت مند صدر کے طور پر یاد رکھے گی!

386

جوبائیڈن نے امریکہ کے صدر کاحلف اٹھا لیا۔ امریکہ کی تاریخ کا شائد یہ پہلا موقع تھا کہ اس قدر ہنگامہ خیزی کے بعد حلف اٹھایا گیا۔ ٹرمپ شائد ذہنی طور پر معذور ہو گیا تھا یا اقتدار کا نشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کو چھوڑتے ہوئے بہت دکھ ہوتا ہے وہ امریکی تاریخ کا سب سے متنازع صدر بن گیا، پلوسی نے اس کے خلاف مواخذے کی تحریک ہائوس میں پیش کی ہے کہ ٹرمپ کو ساری زندگی کے لئے ایک نصیحت ہو جائے اور آئندہ کسی صدر کو یہ ہمت نہ ہو کہ وہ اس طرح کی ہمت کرے۔ امریکی تاریخ میں بہت سے صدر ایک دور کے بعد الیکشن ہارے ہیں جس میں تازہ ترین مثال بش کی ہے الیکشن میں ہارنے کے بعد ہر شخص اس کو قبول کرتا ہے اور آنے والے صدر کے لئے خوش دلی سے وائٹ ہائوس خالی کر دیتا ہے لیکن ٹرمپ کو یہ قبول ہی نہیں ہوا کہ وہ الیکشن ہار سکتا ہے اور اس کو وائٹ خالی کرنا پڑے گا یہ شائد تاریخ کا المیہ تھا ذہنی طور پر گندا شخص امریکہ کا صدر بن گیا، امریکی تاریخ بحیثیت صدر دنیا کے بہترین انسانوں سے بھری پڑی ہے، ہر شخص نے ملک کی بہتری کے لئے کام کیا، امریکہ شائد چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہے، اس ملک کو اگر کسی چیز نے باندھ رکھا ہے تو وہ قانون ہے، آئین یہاں پر سب سے مقدم ہے کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، دوسوسال سے زیادہ تاریخ میں کتنے صدور آئے اور چلے گئے لیکن ٹرمپ جتنا ضدی اور خودغرض شخص آج تک صدر نہیں بنا جس نے پوری تاریخ کو ہلا کر رکھ دیا اور لوگوں کو بغاوت پر اکسایا اور ہائوس پر حملہ کروایاایسا نظارہ نہ تاریخ نے کبھی دیکھا اور نہ شائد آئندہ دیکھے گی۔
ٹرمپ کی اگر آپ ذہنی ساخت دیکھیں تو وہ انتہائی کینہ پرور اور مفاد پرست انسان تھا اس نے ہر چیز کو اپنے تابع رکھا ہوا تھا، اپنے کاروبار کو اس نے جس طرح پھلایا ہوا تھا، اس کا داماد اس کے بہت سے فیصلے کرتا تھا۔ خارجہ پالیسی وہ ہی چلارہا تھا۔ عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ میں اس کے ہی فیصلے چلتے تھے، ٹرمپ اس کے آگے بے بس تھا۔ متحدہ امارات کو اس نے ہی مجبور کر کے اسرائیل کو منظور کروایا۔ سعودی عرب بھی شائد اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیتا لیکن شاہ سلمان آگے آئے اور اس کو روکا، خیر اب ٹرمپ کا دور ختم ہو گیا اور ایک نئی صبح کا آغاز ہو گیا، اس ملک میں ایک انصاف پسند اور آئین پر چلنے والا شخص وائٹ ہائوس میں آگیا ہے۔ ویلکم جوبائیڈن! ہر قانون پر عمل کرنے والا شخص آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ تاریخ بتائے گی کہ ایک شخص دوبارہ ملک کو صحیح راستے پر ڈال گیا ہے اور قانون کی حکمرانی کو زندہ کر گیا ہے۔
حلف اٹھانے کے بعد اگر آپ جوبائیڈن کے اقدام دیکھیں وہ قابل تعریف ہیں۔ سب سے اہم بل جو اس نے واپس لئے وہ مسلمان ملکوں پر پابندی کا بل تھا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مذہب کے نام پر آپ کسی ملک کے باشندوں پر امریکہ آنے پر پابندی لگا دیں اس ملک کے آئین میں ہر شخص کو مذہبی آزادی دی گئی ہے اورمسلما ن ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔ دنیا میں بہت بری آبادی مسلمانوں کی ہے۔ امریکہ کیسے ان کے آنے پر پابندی لگا سکتا ہے۔
یہ صرف ٹرمپ کی مسلمان دشمنی تھی کہ اس نے دہشت گردی کے نام پر پانچ ملکوں پر پابندی لگا رکھی تھی جو امریکی آئین اور قانون کے خلاف تھی۔ اب وہ پابندی بائیڈن نے ہٹادی ہے ویلڈن جوبائیڈن !دنیا کے ہر انصاف پسند انسان نے آپ کے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔
جوبائیڈن کے سامنے بہت سے مسائل اور دشواریاں ہیں سب سے پہلے کووڈ کا مسئلہ ہے دوسرے امریکی معیشت ہے تیسرا چائنہ کی بڑھتی ہوئی طاقت ہے وہ ہر سطح پر امریکہ کو ٹکر دینے کے لئے تیار ہے۔ چائنہ آہستہ آہستہ اپنی فوجی طاقت کو بھی بہت اوپر لے آیا ہے اور اپنے لئے ایک نیا بلاک دنیا میں تشکیل دے رہا ہے اس میں پاکستان سب سے اہم ملک ہے بائیڈن کو ہانگ کانگ اور تائیوان کو بھی دیکھنا ہو گا۔ اسرائیل کی سیاست بھی امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اور خاص طور سے عرب ممالک کے لئے، امید ہے کہ جوبائیڈن ان سب مسئلوں پر قابو پا لیں گے اورامریکی معیشت کو بہت مضبوط بنا جائیں گے۔ امریکہ ہر حال میں دنیا کا نمبر ون ملک رہے گا۔