کچھ تو لوگ کہیں گے!

366

ٹرمپ چلے گئے، وہ بھی ناراض ہو کر، جاتا تو ان کو پڑا کیونکہ وہ الیکشن ہار گئے تھے لیکن آخر تک وہ یہ بات ماننے پر تیار نہیں ہوئے، انہوں نے پوری کوشش کی یہ ثابت کرنے کی کہ الیکشن میں فراڈ ہوا ہے، وہ سب سے لڑ لئے یہاں تک کہ خود کے وائس پریذیڈنٹ تک سے لیکن ہر کوشش کے باوجود وہ ناکام ہی رہے اور جوبائیڈن امریکہ کے صدارت کے عہدے پر فائز ہو گئے۔
پچھلے ایک سو پچاس سال میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ نومنتخب صدر کو پچھلے صدر نے خوشی خوشی اقتدار نہ منتقل کر دیا ہو لیکن ٹرمپ نے ڈیڑھ صدی پرانی اس روایت پر بھی عمل نہ کیا ، وہ ناراض ناراض ایک دن پہلے ہی وائٹ ہائوس سے چلے گئے تاکہ انہیں نئے صدر کو نہ تو خوش آمدید کہنا پڑے اور نہ ہی بیس جنوری 2021ء کی افتتاحی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا پڑے۔
امریکہ کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازعہ صدر غالباً ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہوں گے، ان کی زیادہ تر پریس کانفرنس کسی نہ کسی بحث پر ختم ہوتی تھیں کوئی نہ کوئی رپورٹر ایسا سوال کر دیتا تھا جس پر ٹرمپ کو غصہ آ جاتا تھا اور پھر وہ اس رپورٹر، اس کے خاندان اور اس کے چینل کو برا بھلا کہنے لگتے تھے، بس پھر کیا تھا اگلے دن پریس اور چینلز کئی مدعے اور سوالات اٹھا لیتے تھے، تجزیے، تبصرے کرتے، ٹرمپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا، اس سوال کا یہ جواب نہیں دینا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔
ٹرمپ کچھ بھی کرتے یعنی چاہے ویکیشن پر جاتے یا آفیشل ٹرپ کوئی نہ کوئی غلط بات ان کے ساتھ لگ ہی جاتی، ایسا معلوم ہوتا کہ ٹرمپ شاید صدر بنے ہی غلطیاں کرنے کے لئے ہیں، حالانکہ کچھ اچھے کام بھی انہوں نے کئے ہیں مگر انسانی فطرت ہے کہ دوسروں کی غلطیاں نکال کر وہ اطمینان محسوس کرتا ہے، لوگوں کے کہنے کے لئے کچھ نہیں بہت کچھ ہوتا ہے، بہرحال ٹرمپ چلے گئے اور بیس جنوری 2021ء کو جوبائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر کی حیثیت سے وائٹ ہائوس سنبھالنے آگئے۔
کوئی بھی ہو اگر غلطی نکالنی ہے تو لوگوں کو کوئی نہ کوئی غلطی نظر آ ہی جاتی ہے۔ جہاں کئی چینلز نے جوبائیڈن کے قصیدے پڑھے وہاں کئی نیوز چینلز ایسے بھی تھے جن کو کئی غلطیاں نظر آئیں اور وہ بھی صرف افتتاحی تقریب کو لے کر۔
Fox Newsپر ہونے والے ڈسکشن پر ماہرین حیران تھے اوراِس مدعے پر بات ہورہی تھی کہ کیسے اتنا تجربہ کار سیاست دان نوٹ کارڈز پر پوائٹس لکھ کر پڑھ رہا تھا۔ اس کو وہ سب سے اہم پانچ چھ پوائنٹ زبانی یاد نہ تھے کہ جو نہایت ضروری تھے، اس موضوع پر پندرہ منٹ کی بحث ہوئی۔
ایک چینل پر میزبان اینکر ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک لیڈر سے سوال کرتے نظر آئے کہ جوبائیڈن نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ متحد ہو جائیں، کیا صرف ہم سے یہ کہہ دینا کافی ہو گا؟؟ یہ کہہ دینے سے کہ سب متحد ہو جائیں کیا یہ ہو جائے گا؟؟
ایک اور نیوز چینل پر بات ہورہی تھی جوبائیڈن کی ’’انرجی‘‘ کو لے کر، وہ بہت کمزور لگ رہے ہیں، ان میں بالکل انرجی نظر نہیں آرہی تھی، یقینا انہیں کوئی مسئلہ ہے اور ان کی تقریب کے دوران یہ صاف محسوس ہورہا تھا وغیرہ، ایک چینل فکر مند تھا کہ جوبائیڈن کی جو اپنی Exercise Cycleہے اسے وائٹ ہائوس میں لگانے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے انہیں خاصی دقت ہو گی لہٰذا اب انہیں پش اپس کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
پریس کانفرنس کو لے کر یہ خبر بھی ہے کہ جوبائیڈن نے خود رپورٹرز چُنے تھے جو ان سے پریس کانفرنس میں سوالات کر سکتے تھے یعنی Pre Screeningکرنے کے بعد سوالات لئے گئے تھے اور یہی طریقہ کار مستقبل میں بھی اپنایا جائے۔ایک شکایت یہ بھی ہے کہ جوبائیڈن نے آتے ہی ملین کے حساب سے کووڈ ویکسین کا وعدہ کر لیا ہے جبکہ ابھی تک ان کے پاس کوئی ایسا جامع منصوبہ نہیں ہے کہ وہ ویکسین کی تقسیم کس طرح کریں گے۔
ایک اور بات جس کا چرچا ہورہا ہے کہ جوبائیڈن نے اپنی پرائیویٹ سکیورٹی تعینات کروائی تھی جبکہ لوکل پولیس، نیشنل گارڈز اور امریکن ملٹری بھی موجود تھی لیکن شاید ان کو زیادہ بھروسہ پرائیویٹ سکیورٹی پر تھا۔یہ شکایت بھی ہے کہ افتتاحی تقریب میں Social Distacingکا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا سب آزادانہ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، قریب قریب کھڑے تھے اور بیشتر نے تو ماسک بھی صحیح طرح سے نہیں لگا رکھا تھا۔
ایک شکایت یہ بھی ہے کہ جوبائیڈن نے بائبل پر ہاتھ رکھ کر کیوں Oathلی جبکہ امریکہ کو سیکولر ہونے کا دعویٰ ہے۔بہت سی شکایتوں میں سے ایک اہم شکایت یہ کہ جوبائیڈن نے 11.48پر Oathکیوں لی؟ جبکہ صدر کو ٹھیک 12:00بجے اوتھ لینی ہوتی ہے تو اس حساب سے بھی انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔
جی ہاں تو یہ تھے جوبائیڈن کی صدارت سنبھالنے کے پہلے کچھ منٹ جس میں نیوز چینلز کو اتنی ’’غلطیاں‘‘ نظر آگئیں ،دیکھتے ہیں کہ آئندہ چار برسوں میں کیا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے جو غلطیاں چینل والے نکالتے ہیں اگلے برسوں میں وہ اتنی ہو جائیں گنتے گنتے کہ ٹرمپ کی غلطیاں اتنی ’’بڑی غلطیاں‘‘ نہ لگیں!!!۔