خاص ہے ترکیب میں۔۔۔۔

383

نو آبادیاتی نظام جب پر سمیٹ رہا تھا تو مغرب کی تمام قوتوں کو ایک خوف تھا کہ یہ سارے علاقے جب آزاد ہو جائیں گے تو ان کو وہ مظالم تو یاد آئیں گے جو صدیوں ان کا مقدر رہے اور ایسا بھی ہوا کہ نو آبادیات کے وسائل کو بھی بے دردی سے لوٹا گیا، ظاہر ہے غلامی کے دن جو جبر میں گزرتے ہیں کبھی بھلائے تو نہیں جا سکتے، ظاہر ہے کہ اس خوف کی پیش بندی تو کرنی تھی سو ان کے دانشور سر جوڑ کر بیٹھے اور ایسے طریقے وضع کئے جن سے تمام نوزائیدہ ممالک کو اپنے کنٹرول میں رکھا جائے، برٹرینڈرسل نے ایک مضمون لکھا تھا THE REAWAKENING OF THE EAST لوگوں کا خیال تھا کہ رسل مشرق کے بڑے خیر خواہ تھے اور مشرق کی حمایت کرتے تھے مگر ایسا یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اگر میں کٹ حجتی پر اتر آئوں تو کہوں گا کہ مغرب کے دانشور یہ تو جانتے ہیں کہ مشرق کا آئی کیو کم ہے اور وہ مغرب کی ذہانت اور فطانت کا مقابلہ نہیں کر سکتے، تو مغرب کاکوئی دانشور ایسا ہوتا جو مشرق کو یہ بتاتا کہ مغرب مشرق کے ساتھ اس کو EXPLOITEکیسے کر تا ہے اور اس کا توڑ کیا ہے، کبھی ایسا ہوا نہیں،سارتر کا فرانس کے ڈیگال سے الجائر پر بہت اختلاف تھا اور آخرِ کار سارتر سرخرو ہوا اور ڈیگال نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو خراج تحسین ان الفاظ میں پیش کیا کہ ’’سارتر فرانس ہے‘‘ یہ وہ وقت تھا جب فرانس کا سارا میڈیا سارتر پر تنقید کررہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ فرانس کے مفادات کے خلاف کام کررہا ہے، ایسا کم دیکھنے میں آیا، نیشنلزم کے بعد ہر ملک کا دانشور اپنے ہی ملک کے مفادات کا عَلم بردار رہا، گو کہ رسل کے ہاں وسعت ہے مگر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ رسل برطانیہ کے ماضی سے متنفر تھا اور اس نے برطانیہ کے اس کردار کو ہدفِ تنقید بنایا ہو جس کی وجہ سے مشرق کو مصائب کا سامنا رہا، کبھی کبھی کسی دانشور کے ہاں آفاقی بات آجاتی ہے، رسل نے اپنے مضمون میں اس خدشے کااظہار کیا کہ ایشیاء میں تین بڑی طاقتیں ہیں۔ روس، چین اور ہندوستان اور اگر یہ تینوں متحد ہو جائیں تو مغرب کے لئے بڑاخطرہ ہو سکتا ہے، روس، چین اور ہندوستان نے رسل کی اس بات کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا مگر مغرب کے پالیسی سازوں نے اس خطرے کوبھانپ لیا اور ایسے جال پھیلائے کہ روس، چین اور بھارت کا کبھی اتحاد نہ ہو سکا، تیسری دنیا اور غیر جانبدار تحریک بھی تتربتر ہو گئیں اور ان کے لیڈر بھی برے انجام کو پہنچے، بھٹو کی اسلامی بلاک بنانے کی کوششیں بھی تاراج ہوئیں اور وہ جنہوں نے اسلامی کانفرنس میں شمولیت اختیار کی تھی برے انجام کو پہنچے خود بھٹو کو بھی خوفناک انجام دیکھنا پڑا۔
ابتداء میں مغربی طاقتوں نے ان تمام ممالک جو کبھی نوآبادیات تھیں فوجی جنرلز اور بادشاہوں کے ذریعے تسلط برقرار رکھا، پھر جمہوریت کا غلغلہ اٹھا، ان کو معلوم تھا کہ جہالت میں جمہوریت نہیں پنپتی، اس دوران سیاست دانوں کی ایسی کھیپ پیدا کی گئی جو فیوڈل لارڈز تھے، یہ سب کے سب جنرلز کی طرح مغرب کے اشاروں پر رقص کرتے رہے، ترقی کے نام پر ممالک کو قرضوں میں جکڑ دیا گیا اور ان ممالک کی معیشت پر پنجے گاڑ دئیے گئے، بھارت ایک عرصے تک ان کے اثر سے بچا رہا مگر آخرِ کار یہ زہر اس کی رگوں میں بھی انجیکٹ کر دیا گیا انتہا پرستی کا جو تجربہ پاکستان میں کیا گیا تھا وہی انتہا پسندی بی جے پی کو بھی بخش دی گئی، کمیونزم کی شکست اور روس کی شکست و ریخت مغرب کی بڑی فتح تھی اور ان کی نظریں چین پر مر کوز ہیں۔ مغرب اپنی پالیسیوں کو بروئے کار لانے کے لئے مختلف پیٹرن استعمال کرتا رہا ہے۔
پاکستان میں مغرب نے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کیا، جو آخرِ کار انتہا پسندی اور دہشت گردی پر منتج ہوا اور پاکستان جس نے ایوب دور میں بے انتہا POTENTIALظاہر کیا تھا اور جس سے مغرب ڈر گیا تھا، اس کو انتہا پرستی اور دہشت گردی دے کر عشروں پیچھے دھکیل دیا اور مگر اب خوش ہے کہ پاکستان مکمل طور پر مذہب کی گرفت میں ہے اور جاہل مولوی نے معیشت بیچ کر مذہب بیچ دیا، ایوب دور کے بعد حکومتوں کاایک خاص پیٹرن نظر آیااور وہ یہ کہ کسی حکومت کو اپنی مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی، فوج کو سمجھایا گیا کہ معاشی ترقی سے ملک پر فوج کی گرفت کمزور پڑ جائے گی اور عوام فوج کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کریں گے، یہ بات فوج کو سمجھ میں آگئی، تب سے کوئی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرتی اور وقت سے پہلے فارغ ہو جاتی ہے اس کے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ تمام سیاستدان بدنام ہو جاتے ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، چونکہ یہ تبدیلی فوج کے ایما پر آتی ہے تو ہر جماعت کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ اپنے سیاسی منشور کے بل پر نہیں، فوج کی حمایت سے برسرِاقتدار آسکتی ہے اب ہر جماعت کو ایک امیدوار کی حیثیت سے جی ایچ کیو کو درخواست دینی پڑتی ہے، عوام کی حالت ایک قلندر کی طرح ہے وہ ہمہ وقت ایک نشے کی کیفیت میں رہتی ہے اور نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں، دوسری بات جو پاکستان کے لئے بہت منفرد ہے وہ یہ ہے کہ اسلحہ بردار مذہبی جتھے بنا دئیے گئے ہیں جو کبھی بھی لبیک یا رسول اللہ کہتے یا ختمِ نبوت کے نام پر نکل آتے ہیں اور ریاست کو مفلوج کر دیتے ہیں، پورا اسلام آباد لال مسجد سے کانپتا رہتا ہے۔
پاکستان کی ایک STRATEGIC LOCATIONہے جس کا علم پاکستانی فوج اور سیات دانوں کو تب ہوا جب ایک امریکی کالم نگار نے اس اصطلاح کو استعمال کیا، اس لوکیشن سے عالمی طاقتوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں، اس لئے اس ملک کو بفرزون بنا کر رکھنا بہت ضروری ہے، پاکستان کو آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا، سیاست دانوں کو الیکشن لڑنا ہوتا ہے وہ ملک میں معاشی ترقی کے لئے کچھ کام تو کریں گے اور تھوڑا بہت کام ہو گا تو عوام اس کا تسلسل چاہیں گے بس اس عمل کو روکنے کے لئے عالمی طاقتوں نے فوج کا انتخاب کیا ہے، ملک میں جمہوریت اور سیاست دانوں کو فوج کنٹرول کرتی ہے مگر وہ کسی کو جواب دہ ہر گز نہیں، اب جبکہ ملک میں UNANNOUNCEDمارشل لاء ہے ہم فوج سے کہتے ہیں کہ ملک کے مائی باپ آپ ہی تو ہیں سب کنٹرول اپنے پاس رکھیں مگر عوام کو روٹی کتاب اور دوا دے دیں۔ وہ کہتے ہیں ووٹ کا موقع ہی نہیں ملا، پاکستان میں عالمی طاقتوں کا یہ کھیل جاری ہے اور مولوی کہتا ہے نمازپڑھو، قرآن پڑھو، تمہارے مسائل حل ہو جائیں گے، اگر رب نے چاہا کہ اس مرضی کے خلاف پتہ بھی نہیں ہلتا۔