آنکھیں کھولو، پاکستانیو، جاگو!

396

امریکہ میں ایک نیا سویرا ہوگیا ہے۔ اس سویرے کا انتظار بہت شدت سے تھا، خاص طور پہ انہیں جن کو یہ احساس تھا کہ جمہوریت کی قبا ہماری دنیا کی اس سب سے بڑی اورپرانی جمہوریت میں ان ہاتھوں تار تار ہونے کا خدشہ تھا جو فسطائیت کے علمبردار تھے لیکن انہوں نے جمہوریت کے دستانے چڑھائے ہوئے تھے!
ایک صحتمند اور بالغ نظر جمہوری معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے شب و روز پہ گہری نظر رکھتی ہے اور اسے اسی وجہ سے کسی بھی بڑھتے ہوئے خطرے کا فوری احساس بھی ہوجاتا ہے۔ ٹرمپ کی ذہنیت فسطائی تھی وہ تیسری دنیا کے بہت سے آمروں کی طرح تا حیات منصبِ صدارت پر براجمان رہنے کا عزم لیکر آئے تھے اور چاہتے تھے کہ امریکی معاشرہ انہیں دل سے قبول کرلے۔ ایسا کرنے والا ایک طاقتور گروہ انہوں نے پیدا بھی کرلیا تھا لیکن امریکی جمہور جاگ رہے تھے۔ وہ ہماری طرح خوابِ غفلت کے شکار نہیں تھے کہ ہمارے ہاں تو ایک عر صۂ دراز سے جاگیردار اور ان کے بغل بچے جمہوری قبا پہنے اپنا رقص، ابلیس کررہے ہیں۔۔ اور ہماری اصطلاح میں فسطائیت ابلیسی کارنامے کے سوا اور کچھ نہیں۔۔ لیکن اب بھی جاہل پاکستانی ان شیطانی چنڈالوں اور ان کے گماشتوں کو اپنا نجات دہندہ اور قائد گردانے کی غلطی پہ غلطی کئے جارہے ہیں!
سو بیدار امریکی جمہوریت نوازوں نے اپنے معاشرے میں پھیلتے ہوئے زہر کا تریاق تلاش کرلیا اور فسطائی ٹرمپ کی ابلیسی چالوں کو ناکام بنا دیا۔ صدر جو بائیڈن کی کامیابی اور ٹرمپ کی فسطائی چالوں کا منہ پھیر دینے کی سازشوں کی ہزیمت امریکی جمہوریت کی صحت اور پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن امریکہ کے جمہوریت نوازوں کو احساس ہے، جو ہر بیدار جمہور میں ہونا چاہئے، کہ جو عفریت اپنا طاغوتی سر اٹھا رہا تھا اس کا مکمل سدِ باب ضروری ہے اور ٹرمپ کے خلاف قائم ہونے والا بغاوت اور سرکشی کو ہوا دینے کی سازش کا مقدمہ اسی کاوش کا حصہ ہے کہ زخم کو ناسور بننے سے پہلے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا ہی جمہوریت کے حق میں سب سے موثر کارروائی ہوسکتی ہے!
ٹرمپ کے خلاف اگلے مہینے، یعنی فروری کے آغاز سے، امریکی سینٹ میں ہونے والے مقدمںہ پر صرف امریکیوں کی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی نظریں لگی ہونگی اسلئے کہ چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن ہمارے عہد کی یہ بین حقیقت ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری اور اقتصادی طاقت ہونے کے سبب، یا یوں کہہ لیا جائے کہ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کی وجہ سے امریکہ دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی بن چکا ہے اور ضروری نہیں کہ اس کی سرحدیں کسی ملک سے ملتی ہیں یا نہیں۔ اور اسی وجہ سے امریکہ میں ہونے والے تاریخ ساز واقعات، جیسے امریکہ میں صدارتی انتخاب یا یہ جلد شروع ہونے والا ٹرمپ کے خلاف بغاوت اور سرکشی پر ابھارنے کے الزام میں مقدمہ، دنیا بھر کیلئے توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔!
ٹرمپ کے خلاف دائر شدہ مقدمہ کیا شکل اختیار کرتا ہے، انہیں سزا ہوتی ہے یا نہیں، وہ تا حیات کسی بھی انتخابی منصب کیلئے نا اہل قرار دئیے جاتے ہیں یا نہیں، اس کا احوال تو آنے والے دنوں میں کھلے گا لیکن فی الحال ہم پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد امریکیوں کیلئے جو فوری دلچسپی اور توجہ کا موضوع ہے وہ یہ کہ صدر جو بائیڈن نے اپنی معاونت کیلئے جو ٹیم اپنے گرد منتخب اور مرتب کی ہے اس میں کون سے افراد شامل کئے گئے ہیں۔!
لیکن اس سے پہلے کہ اس موضوع پر آگے بڑھیں ایک اعتذارضروری ہے اور وہ یہ سوال ہے کہ امریکی سیاست اور سیاسی کلچر کے بارے میں پاکستانی امریکیوں کا سیاسی قبلہ کس سمت میں ہے اور یہ سمت درست ہے یا نہیں؟
ہم نے دیکھا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری طرح اور بہت سے ہم وطنوں کا یہ تجربہ ہوگا، کہ ہمارے احباب اور کرمفرماؤں میں شاید غالب اکثریت ان اصحاب کی ہے جو پچاس پچاس برس یہاں گذار چکے ہیں لیکن جب امریکہ کا تذکرہ ہوتا ہے تو شروع وہیں سے ہوتے ہیں کہ اس دیارِ غیر میں وغیرہ وغیرہ یہ ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے! میاں، کوئی ایسے احباب سے پوچھے، جب آپ نے اسے اپنا وطن بنالیا، وطنِ ثانوی سہی، تو پھر یہ دیارِ غیر کیسے رہا؟ ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں، کوئی معذرت نہیں، کہ یہ سوچ، یہ ذہنیت، وہ ہے جو فرار کی ہوتی ہے۔ یہ منفی سوچ ہے۔ ٹھیک ہے ہم نے مانا کہ آپ پاکستان کو اپنی یادوں سے نکال نہیں سکتے، ممکن ہی نہیں ہے اور کوئی آپ سے یہ مطالبہ نہیں کرتا، اور اگر کرتا ہے تو غلط کرتا ہے، کہ آپ پاکستان کو اپنی سوچ سے محو کردیں لیکن پاکستان کو یہاں، اس امریکی معاشرے میں آگے بڑھنے کی راہ کا پتھر نہ بننے دیجئے۔ پاکستان کے غم میں آپ ضرور دبلے ہوئیے لیکن اپنے جوانوں کو یہ تعلیم دیجئے کہ ان کا ملک یہ ہے، ان کا مستقبل اس سے وابستہ ہے اور آپ نے ان کیلئے ہی یہ انتظام کیا ہے، آپ نے ہی ان کیلئے یہ راستہ چنا ہے کہ وہ یہاں اپنی دنیا بسائیں!
ہماری یہ بھی بڑی کمزوری ہے کہ ہم اپنے بچوں کیلئے جو مستقبل دیکھتے ہیں اس میں انہیں یا تو ڈاکٹر بننے یا انجینئر بننے کا خواب دکھاتے ہیں، یہ ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اگر ڈاکٹر یا انجینئر بن گئے تو یہی ان کی کامیابی ہوگی ورنہ وہ زندگی میں کامیاب نہیں کہلائیں گے!
کبھی سوچا آپ نے کہ یہ سوچ آپ کے بچوں کے حق میں زہر ہے کیونکہ یہ انہیں کویئںکا مینڈک بنادینے والی ہے؟ یہ وہ ملک ہے جس میں ہر اس پیشے میں کامیابی ممکن ہے جس میں محنت اور لگن کے ساتھ کام کیا جائے۔ اور اگر آپ کو اس بیان پر یقین نہیں آتا تو چلئے یہ بات ہوجائے، اور یہی آج ہمارا مدّعا ہے، کہ صدر جو بائیڈن نے اپنی جس ٹیم کا انتخاب کیا ہے اس میں ان کے قریب رہ کر کام کرنے والوں میں کم از کم سترہ، جی ہاں17، ایسے ماہرین ہیں جو ہندوستانی نژاد ہیں، جو یا تو یہاں پیدا ہوئے یا کم عمری میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں آکر آباد ہوئے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کے ماں باپ نے انہیں یہ تعلیم نہیں دی ہوگی کہ ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ اگر ان کے ذہنوں میں بھی یہی بٹھایا جاتا کہ بس یہی دو پیشے ہیں جن میں کامیابی ہے تو وہ ان میدانوں کو نہ اپناتے جن کو اپنا کر وہ آج امریکہ میں سیاسی قوت اور اقتدار کی مسند سے کتنے قریب پہنچ گئے ہیں!
یقین نہ آتا ہو تو چلئے ایک نظر ڈال لیتے ہیں ان پیشوں پر جن سے وہ ہندوستانی امریکن وابستہ ہیں جو بائیڈن کی ٹیم میں شامل کئے گئے ہیں
یہ پیشے ہیں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مینیجمنٹ اور بجٹ، پالیسی پلاننگ، اقتصادیات اور معاشیات، ماحولیات، دنیا کی آب و ہوا پر آلودگی کے اثرات، قومی سلامتی کے امور، جمہوریت اور انسانی حقوق کے مسائل اور معاملات، اور ہمارے لئے خاص دلچسپی اور توجہ کا مرکز یعنی جنوبی ایشیا کے مسائل اور معاملات وغیرہ۔
جو ٹیم ہندوستانی امریکی ماہرین کی بائیڈن نے اپنے گرد جمع کی ہے وہ جوانوں کی بلکہ نوجوانوں کی ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن کی تعلیم یہاں ہوئی ہے، جنہوں نے اس معاشرہ میں آنکھ کھولی ہے اور اس کے مسائل اور چلینجز کا انہوں نے بھرپور ادراک کیا ہے اور انہیں اپنی فکر اور اپنی سوچ کا حصہ بنایا ہے۔ یہ وہ ذہنی تربیت ہے جس کی ہمارے نوجوانوں کو بھی ضرورت ہے اور اسلئے ہے کہ ان کا مستقبل اس سرزمین سے وابستہ ہے۔ اور یہ مت سمجھئے گا کہ بائیڈن کی ٹیم میں صرف نوجوان لڑکے ہیں، نہیں، ان میں لڑکیاں بھی برابر کی شریک ہیں کیونکہ یہ وہ معاشرہ ہے جو مرد اور عورت کے درمیان اس طرح کا فرق نہیں رکھتا جس کا ہمارے ہاں رواج عام ہے اور مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہماری جاگیردارانہ سوچ تعلیم کا غازہ چڑھنے کے بعد بھی وہی رہتی ہے جس میں لڑکیوں کے خلاف ذہنیت انہیں بہت سے دائروں میں قید کردیتی ہے!
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان سترہ نوجوانوں میں دو وہ خواتین بھی ہیں جو مسلمان ہیں اور ان کا تعلق بھارتی تسلط والے مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ یہ ثبوت ہے اس کا کہ بائیڈن انتظامیہ کا مرکزِ نگاہ مذہب اور ذات پات کی قید سے آزاد ہے اور اس کیلئے ترجیح صرف یہ ہے کہ کون کس کام کا ماہر ہے اور اس کی مہارت سے امریکہ کس طور فائدہ اٹھا سکتا ہے!
آپ کا دل چھوٹا نہ ہو اسلئے یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ دو پاکستانی نژاد ماہرامریکی بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے امریکی دفترِ خارجہ میں بھی شامل کئے گئے ہیں جو مزید اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ اس نئی انتظامیہ میں اہمیت صرف اس کی ہے کہ کس کی مہارت سے کہاں استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں رنگ و نسل، مذہب یا معاشرتی پس منظر کو اہمیت نہیں ہے!
سترہ بھارتی نژاد امریکیوں کے مقابلہ میں صرف دو پاکستانی نژاد ماہرین کی اس ٹیم میں شمولیت ہمیں سوچ پر مجبور کرنے کا وسیلہ ہونا چاہئے۔ سوچئے کہ یہ فرق کیوں ہے؟
ہماری پاکستانی سوچ بھارت کے ساتھ مسابقت اور دوڑ میں ہمیشہ فعال رہتی ہے۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ بھارت سے کئی قدرے چھوٹا ہونے کے باوجود پاکستان کی عسکری صلاحیت اور مستعدی ایسی ہے کہ بھارت کی مسلم دشمن مودی سرکار کی مجال نہیں کہ پاکستان سے ٹکر لے سکے۔ مودی اور اس کے گماشتے گیدڑ بھبھکیاں بہت دیتے رہتے ہیں لیکن ٹکرانے کی مجال نہیں ہے کیونکہ جانتے ہیں کہ ان کے دانت کھٹے ہوجائینگے اگر انہوں نے پاکستان سے ٹکرانے یا مذاق کرنے کی حماقت کبھی کی!
لیکن ہمیں بھارت کے ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی مسابقت کرنی چاہئے جس میں ہم بھارت اور بھارتیوں سے بہت پیچھے ہیں اور اس کا منہ بولتا ثبوت یہ دو اور سترہ کا واضح فرق ہے۔ ایٹمی میدان میں یا عسکری صلاحیت میں ہم بھارت کا منہ چڑا سکتے ہیں جو اپنی جگہ بہت خوب سہی لیکن یہ دنیا اور آگے آنے والی دنیا صرف اور صرف ان کی ہوگی جو تعلیم، ٹیکنالوجی اور سائنس سے متعلق پیشوں اور شعبوں میں آگے ہونگے اور ان میدانوں میں سبقت لیجانے میں صرف تعلیم، صرف تعلیم، ہی ایک ہتھیار ہے جو کام آئیگی۔ وہاں نہ فوجی مہارت کام دیگی نہ ایٹمی صلاحیت آپ کے کام آئیگی۔ کام دکھائے گی تو صرف آپ کی تعلیم اور فنی صلاحیت اور مہارت۔ اس نئی دنیا کی منزل وہی ہے جو ستاروں سے آگے ہے جس کیلئے شاعرِ مشرق نے کہا تھا؎
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
تو ستاروں پہ کمند وہی ڈال سکتے ہیں اور وہی ڈالیں گے جن میں تعلیم اور فنی صلاحیت کے بل بوتے پر اڑان بھرنے کی استعداد ہوگی!
تو، بس، ہماری آپ سب سے جو یہ کالم پڑھتے ہیں یا پڑھیں گے یہی التجا ہے کہ اپنے بچوں کو اس ملک میں تعلیم اور صلاحیت کے زیور سے آراستہ کیجئے تاکہ وہ آپ کے نام کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اس ملک اور قوم کا نام بھی روشن کریں جس میں ان کی جڑیں ہیں۔ اس ملک سے ذہنی وابستگی ضرور رکھئے اور اپنے جوانوں کو اس معاشرت اور تہذیب سے محروم نہ رکھئے یا ہونے دیجئے جو ہمارا اور آپ کا قابلِ فخر ورثہ ہے۔ اس سے پیوستہ رہتے ہوئے ہماری نئی نسلوں کو اس سورج کے تلے اپنے لئے کامیابی اور کامرانی کے افق پیدا کرنے کی ترغیب اور تربیت دیجئے تاکہ وہ اپنے لئے ایسا درخشاں مستقبل تعمیر کرسکیں جس پر ہم اور ہمارے بعد آنے والے بجا طور پہ فخر کرسکیں!!