جوبائیڈن انتشار اور خلفشار کا صدر!

300

تمام تر مشکلاتوں اور مصیبتوں اور بائیکائٹوں کے باوجود جوبائیڈن امریکہ کے صدر بن چکے ہیں جن کو لاتعداد انتشار اور خلفشار کا سامنا ہے جو سابقہ ٹرمپ صدر نے پیدا کئے ہیں جس سے امریکہ تقسیم ہو چکا ہے جس کو صدر جوبائیڈن متحد کرنے کا نعرہ لگا کر آیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پیروکاروں کو جھوٹ پر مبنی کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے پر اکسارکھا ہے جنہوں نے چھ جنوری کو کانگریس کے جائے مقام کیپٹل ہل پر حملہ کیا جس میں قانون ساز اداروں کے ممبران نے کیپٹل ہل کے بنکروں اور تہہ خانوں میں چھپ کر پناہ لے کر جانیں بچائیں تھیں جس پر سینکڑوں بلوائی گرفتار اور ٹرمپ کے اکسانے پر ان کے خلاف مواخذہ کا عمل جاری ہے جس میں کانگریس نے سابقہ صدر ٹرمپ کو ملزم ٹھہرایا ہے جو اب سینیٹ میں فیصلہ ہو گا کہ صدر ٹرمپ مجرم ہیں یا نہیں۔ اگر مجرم پائے گئے تو وہ کسی بھی عہدے کے قابل نہیں رہیں گے یا پھر تمام مراعات سے محروم ہو جائیں گے جس طرح ماضی میں صدر رچرڈ نیکسن نے صدارت سے مستعفی ہو کر مواخذے سے جان چھڑائی تھی تاہم ماضی میں صدارتی امیدوار الگوار نے تمام تر جائز شکایتوں کے باوجود صدر جارج بش کو مبارکباد دی تھی جبکہ انہیں پانچ لاکھ پاپولرز زیادہ ووٹ ملے تھے مگر الیکٹرول ووٹوں کی ازسرنوگنتی کی وجہ سے تعداد کم رہ گئی تھی جس کا مظاہرہ فلوریڈا میں ازسرنو گنتی کے عمل میں ہوا تھا جس کی وجہ سے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد کم ہو گئی تھی اس طرح صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن بھی تیس لاکھ زیادہ ووٹ لینے کے باوجود الیکٹروول ووٹ نہ لے پائی تھیں انہوں نے بھی صدر ٹرمپ کو مبارکباد دی تھی مگر صدر ٹرمپ نے صدر جوبائیڈن کو 81ملین پاپولر ووٹ اور 306الیکٹرول ووٹ لینے پر بھی مبارکباد نہ دی تھی جس کا امریکہ میں بہت افسوس کیا گیا کہ جمہوریت میں جو اکثریت میں جیت جائے اس کو حکومت بنانے کا حق ہے لیکن ٹرمپ ٹولہ جوبائیڈن کو صدر تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جو شاید سمجھ رہے ہیں کہ جوبائیڈن کو رنگداروں نے اکثریت دلوائی ہے یا پھر ایک پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر منتخب ہو چکی ہیں جو امریکی سفید فام نسل پرستوں کو قابل قبول نہیں ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ملک میں انتشار اور خلفشار پیدا کررکھا ہے جس کا سرغنہ سابقہ صدر ٹرمپ ہیں بہر کیف صدر ٹرمپ نے امریکہ کو تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کی لسٹ میں شامل کر دیا تھا جس کا پوری دنیا سے رابطہ ٹوٹ چکا تھا جس سے پوری دنیا ناراض نظر آرہی تھی جس کو موجودہ صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہائوس میں داخل ہوتے ہی اعلان کیا کہ آج کے بعد کرونا وباء کے خلاف جنگ ہو گی جس میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ 100دن کے اندر اندر 100ملین امریکی شہریوں کو ویکسین کے ٹیکے لگائے جائیں گے جن کو ٹرمپ دور میں سست روی سے محروم رکھا گیا۔ مسلمانوں پر عائد پابندیاں ہٹا لی گئی جو سات ممالک کے مسلمانوں پر امریکہ آنے جانے ،کاروبار، تعلیم اور صحت کے حصول کے لئے عائد تھیں۔ تارکین وطنوں کو لیگلائز کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ جس طرح صدر ریگن کے دور صدارت میں تمام امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطنوں کو عام معافی ملی تھی جو بعد میں امریکہ کے شہری بن گئے تھے۔پوری دنیا میں سفارت کاری کو بحال کیا جائے گا جس کی وجہ سے یورپ یا دوسرے ممالک سے رابطے ٹوٹ چکے تھے۔ بین الاقوامی اداروں سے مراسم اور تعلقات بحال کئے جائیں گے وغیرہ وغیرہ جو کہ اہم اعلانات ہیں جس سے امریکہ کا دنیا بھر میں اعتماد بحال ہو گا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی نمائندگی کرتا نظر آیا تھا جس کو صدر ٹرمپ نے کسی افریقی ریاست کے برابر بدل دیا تھا کہ کوئی بھی ملک امریکہ کے ساتھ تعلقات پر خوش نہ تھا۔ حتی کہ پڑوس میں آباد کینیڈا اور میکسیکن ریاستیں بھی امریکہ سے خوش نہ تھیں جس کا کینیڈین وزیراعظم برملا اظہار کیا کرتے تھے جو امریکی صدر ٹرمپ سے ملنا جلنا اپنی ہتک تصور کرتا تھا جس سے امریکی عوام اور کینیڈین عوام میں دوریاں پیدا ہورہی تھیں۔ جو اب شاید جوبائیڈن کی صورت میں کم ہو جائیں گی۔بہرحال جوبائیڈن امریکی کرائسز کا صدر ہو گا جن کو موجودہ حالات سے واسطہ پڑا ہے جس میں کرونا کی تباہ کاریاں سرفہرست ہیں جس میں کروڑوں افراد متاثر اور چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے جس کے بڑے معاشی اور مالیاتی ادارے مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں۔ہوٹل، ریسٹورنٹ، کلب اور دوسرے انٹرٹیمنٹ ادارے بند پڑے ہیں۔ فیکٹریاں، کارخانے، پیداواری یونٹ، جزوی کھلے ہوئے ہیں ۔بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز بندہورہے ہیں یا جن کی سیل گرچکی ہوئی ہے۔ ملک میں بیروزگاری کا طوفان برپا ہے۔ لاتعداد چھوٹے کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ ٹیکسوں کی ادائیگی میں سخت کمی واقع ہو چکی ہے جس کو اگر یہ کہا جائے کہ یہ طوفان نوح کی تباہ کاریاں ہیں تو کوئی مبالغہ نہ ہو گا جو پوری دنیا پر قہر بن کر نازل ہوا ہے جس میں یورپ اور امریکہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ایسے موقع پر ہر انسان کو خالق دنیا اور مالک قدرت سے دعا مانگنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کو اس وبائی تباہ کاریوں سے بچائے(آمین)