عوام کے محافظوں کی غلطیاں کب تک؟ کچھ گذارشات!!!

273

اس سال کا آغاز21 سالہ نوجوان اسامہ ستی کی ہلاکت سے ہوا جسے پولیس نے چلتی کار میں گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اس واقع نے شہریوں کو ایک دفعہ پھر ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان کی پولیس جسے شہریوں کی جان اور مال کی حفاظت کے لیے رکھا گیا ہے جب وہی ان کی جان کے در پے ہو جائے تو شہری کدھر جائیں؟پولیس کا یہ دستہ جس نے یہ کارنامہ دکھایا ، ایک خبر کے مطابق، اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ سے تعلق رکھتا تھا۔ اسامہ کی گاڑی پر22 گولیوں کے نشان پائے گئے۔جو اسلام آ باد کے G-10 سیکٹر کے قریب تھی۔ کہتے ہیں کہ سکواڈ میں پولیس کے پانچ ارکان تھے جنہوں نے کار کا پیچھا کیا۔ پہلے کار کے ٹائروں پر فائر کیے اور پھر کار کے سامنے سے جا کر گولیاں برسائیں۔جس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ نوجوان کو جان سے مارنا مطلوب تھا۔ عمران خان صاحب کے پولیس ریفارمز کا وعدہ پورا کرنے کا اس سے بہتر اور کون سا موقع ہو گا؟ ۔ اسی خبر کے مطابق پانچ حملہ آور پولیس کے افراد کو گرفتار کر کے ان کی تفتیش کے لیے JIT بنا دی گئی ہے۔ اب کچھ دنوں کے بعد لوگ اس واقع کو بھول جائیں گے اور کوئی نیا حادثہ یا واقع ظہور پذیر ہو جائے گا اور زندگی کا کارواں ایسے ہی رواں دواں رہے گا۔جن کے عزیز ایسے واقعات میں جان سے جاتے ہیں ان پر جو بیتتی ہے، اور ان کی تمنائوں کا جیسے خون ہوتا ہے اس کا اندازہ کوئی اور نہیں لگا سکتا۔ابھی ذہنوں میں ساہیوال میں اسی قسم کی واردات کی یاد تازہ تھی جس میں نا اہل اورلا پرواہ پولیس والوں نے ایک کار کے مقیموں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔اس واقعہ کے بعد بھی جے آئی ٹی بنی تھی۔
پاکستان سے جب پولیس گردی کی خبر آتی ہے جس میں بے گناہ شہری گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ خدایا یہ آخری مرتبہ ہو۔ اور کچھ دن نہیں گزرتے کہ پھر ویسا ہی واقعہ ظہور پذیر ہو جاتا ہے۔ یا اللہ، یہ بھیانک قتل و غارت، وہ بھی ہمارے جان و مال کے رکھوالوں کے ہاتھوں کب ختم ہو گا؟ ہر دفعہ اعلیٰ حکام واقعہ کا نوٹس لیتے ہیں، کچھ کاروائی ہوتی ہے اور معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے۔ ہلاک شدگان کو اس ریاستی غنڈہ گردی کے نتیجہ میں انصاف ملتا ہے یا کچھ لے دیکر معاملہ دبا دیا جاتا ہے، یہ ایک علیحدہ بحث ہے ۔ جو بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پولیس والے جن کا بنیادی فرض شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے وہ کیوں نہیں اپنے ذمہ واری پوری کرتے بلکہ اس کے مخالف شہریوں کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں؟
معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کے سربراہ اور بڑے افسر یہ کچھ اپنی شہرت اور محکمہ کی مقبولیت کی راہ میں ایک دھبہ سمجھتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ پولیس کے پٹرول اپنی بندوقوں کا استعمال احتیاط کے ساتھ کریں، اور محکمہ کی بدنامی کا باعث نہ بنیں، لیکن جب تک تمام پولیس کو ایک نئے تربیتی پروگرام سے نہیں گزاریں گے، یہ واقعات ہوتے رہیں گے۔ اور عوام میں پولیس کی اہلیت اور اعتبار پر سوال ابھرتے رہیں گے۔
ایسے واقعات تو پولیس کے ساتھ عوامی مٹھ بھیڑکا عشر عشیر بھی نہیں جو روزآنہ کی بنیادوں پر رو نما ہوتے ہیں۔ ان میں ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی سے لیکر چوری ، ڈاکہ زنی، تشدد، خاندانی چپلقشیں اور ان سے متعلق مار پیٹ، عورتوں کے ساتھ بد سلوکی، اغوا، اور گھریلو نا چاکیاں، تو مشتے از خروارے ہیں۔
سن 2018 میں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کل 7,03,481 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں، ان میں سے اغوا کی بیس ہزار سے زیادہ وارداتیں کی گئیں۔ ۱۴ ہزار سے زیادہ وارداتیں ڈکیتی اور ڈاکہ زنی کی تھیں۔ آٹھ ہزار دو سو سے اوپر قتل ہوئے، اور دس ہزار سے زیادہ قتل کی کوشش کی گئی۔سب سے زیادہ وارداتیں چوری کی تھیں۔ پانچ لاکھ اٹھاسی ہزار سے اوپر کی متفرق واداتیں تھیں جن کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ سن ۲۰۱۲ء کے مقابل میں یہ اعدادو شمار تقریباً ۹ فیصد زیادہ تھے۔ اب اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان اعداد و شمار میں ان سے کئی گنا زیادہ وہ وارداتیں ہوں گی جن کی ایف آئی آر بھی نہیں کٹی تھی۔اگر صوبوں کا تقابل کیا جائے تو ملک کی کل وارداتوں کا ۵۸ فیصد سے زیادہ پنجاب سے منسوب تھا۔جو آبادی کے لحاظ سے زیادہ ہونا متوقع ہے۔
پولیس کی نا اہلی کی ایک وجہ سروس میں داخلے کے لیے قابلیت کا معیار نہیں ہے۔ سوائے ان افسروں کے جو سول سروس کا امتحان پاس کر کے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے رستے بھرتی ہوتے ہیں، باقی کی نفری زیادہ تر رشوت اور سفارش سے کی جاتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کو جو تنخواہ ملتی ہے وہ غالباً 1960 کی دہائی میں متعین کی گئی تھی۔ہمارا اندازہ غلط بھی ہو سکتا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2018 میں پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر، جو افسروں میں سب سے کم عہدہ ہے (اور اس کے نیچے حوالدار، پولیس مین وغیرہ ہوتے ہیں)، اس کی تنخواہ 12,000 – 34,000. روپے تھی۔ SHO کی تنخواہ 19,000 – 65,000.روپیہ۔ پولیس کے سب سے بڑے افسر یعنی انسپکٹر جنرل پولیس کی تنخواہ Rs. 82,000 – 164,560 تھی۔ یہ تنخواہیں، اگر مختلف الائونسز بھی ملا دئیے جائیں تو ایک کنبہ کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔ حکومت کے پاس اتنا مالیہ نہیں اکٹھا ہوتا کہ وہ پولیس والوں کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ کر سکے، یعنی اتنا کہ انکا گزارہ بغیر اوپر کی آمدنی کے ہو سکے۔یہ پولیس والے بھی جانتے ہیں اور حکومتیں بھی۔اس لیے پولیس والوں کی کرپشن پر کوئی حکومت ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتی، یہ رویہ آج سے نہیں گذشتہ ستر سال سے ہے۔ اگر پولیس میں کرپشن ختم کرنی ہے تو حکومت کو مالیہ بڑھانا پڑے گا جو مستقبل قریب میں تو ہوتا نظر نہیں آتا۔موجودہ حالات میں حکومت صرف ایک کام کر سکتی ہے کہ پہلے تنخواہیں بڑھائے اتنی کہ جس میں ایک کنبہ کو مناسب گزارہ ہو سکے، پھر رشوت لینے والے پولیس کے افسروں کو ملازمت سے نکال دے اور ان کی جائدادیں ضبط کر لے، اور ان بڑھے ہوئے اخراجات کو بھاری جرمانوں سے پورا کرے۔شہری پہلے ہی بھاری رشوت دے رہے ہیں، اس لیے انہیں بھاری جرمانہ ادا کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔صرف اس بات کا خیال رہے کہ یہ نہ ہو کہ تنخواہیں بھی زیادہ ہو جائیں اور اوپر کی آمدنی بھی ویسی ہی رہے۔ اگر احتساب کا محکمہ اور محکمہ انسداد رشوت ستانی کو بھی انہی بنیادوں پر نئے رولز اور ریگولیشنز کے مطابق چلایا جائے تو ممکن ہے کہ پاکستانیوں کی قسمت سنور جائے۔
سوال یہ ہے کہ پولیس والوں کو معصوم شہریوں کے قتل سے کیسے روکا جائے؟ اور انہیں شہریوں کے انسانی حقوق سے کیسے آگاہ کیا جائے؟ جہاں تک پولیس کی دوبارہ ٹریننگ کا تعلق ہے، وہ ایک مشکل کام ہے۔ اور وجہ وہی، وسائل کی کمی ۔ البتہ کیوں نہیں محکمہ کی نفری کو غیر رسمی طریقہ تعلیم سے آ گاہی دی جا سکتی؟
یہ کہنا بھی غلط ہو گا کے سو فیصد پولیس والے کرپٹ ہوتے ہیں۔ بہت سے ایماندار بھی ہوں گے۔ ممکن ہے کہ ان تک اس قسم کے پولیس گردی کے واقعات کی خبر ہی نہیں پہنچتی ہو اور خاص طور پر یہ کہ ایسے افراد کو کیا سزا ملی۔اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ پولیس کی ٹریننگ میں، انہیں کبھی انسانی حقوق کے بارے میں بتایا ہی نہ گیا ہو اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے سے نہ صرف پاکستان کی تعزیرات لگتی ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔علاوہ ازیں قوانین کے نفاذ کے فرسودہ طریقے بدل رہے ہیں۔ آج کی پولیس مار پیٹ کر ملزموں سے جرم کا اقرار نہیں کرواتی بلکہ شہادتوں سے ان کو جرم کو قبول کرواتی ہے۔ آج کی پولیس بجائے تشدد کے ، شہادتیں حاصل کرنے کے نئے طریقہ استعمال کرتی ہے جن میں DNA کا ثبوت،وڈیو کیمرے، سیل فون کے ریکارڈ، وغیرہ سے بہت سے جرائم حل کیے جارہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پاکستان کے قانون سازوں کو جلد از جلد ایسے قوانین بنانے چاہییئں جو شہادت کے جدید طریقوں کو قابل اعتنا سمجھیں۔
اس کے لیے آج کی دنیا میں الیکٹرونیک ذرائع اور سوشل میڈیاہیں جنہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً کم خرچ پر وڈیو بنائی جائیں جو پولیس والے اپنے فون پر دیکھ سکیں۔ پھر ٹیکسٹ میسیجز بھی کیے جا سکتے ہیں جن میں مختصر پیغامات بڑی آسانی سے اورتقریباً مفت مشتہر کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جا رہا تو اسے شروع کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ پولیس کا ٹریننگ کا محکمہ یہ با ٓسانی کر سکتا ہے۔
امریکہ میں پولیس کے محکمے اپنی نفری کے لیے نیوز لیٹر اور جرائدبھی شائع کرتے ہیں، اس میں پولیس کی خبروں کے علاو ہ ضروری معلومات، ملازمت اور ترقی کے مواقع، سہولتیں، پولیس کے لیے ڈسکاؤنٹ والی اشیائے خرید، خدمات کی معلومات دی جا سکتی ہیں۔ اگر نئے قوانین جاری ہوئے ہیں تو انکی معلومات۔ اگر کہیں پولیس سکواڈ نے کوئی اچھا کارنامہ انجام دیا ہے تو اس کی خبر اور اگر کہیں غلط کام کیا تو اس پر کیا کاروائی ہوئی؟ اگر پولیس کی کھیلوں کی ٹیموں نے کوئی میچ جیتے تو ان کی خبریں۔ کسی کو کوئی انعام ملا تو اس کی خبر، وغیرہ۔ ایسا نیوز لیٹر کاغذ پر بھی شائع کیا جا سکتا ہے اور ای میل کے ذریعے بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے پولیس کے اکثر افسران انگلینڈ اور امریکہ کے پولیس کے محکموں میں تربیت لے کر آتے ہیں۔ لیکن کیا واپس آکر اس تربیت کو استعمال کرتے ہیں؟ شاید نہیں یا کم۔یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہو گا کہ پولیس اپنی کا کردگی کو بہتر بنانے اور عوام میں اپنی کار کردگی کا بہتر تاثر بنانے میں کوشاںنہیں۔ایسا ہر گز نہیں۔ لیکن جب تک پولیس گردی کے واقعات کا خاتمہ نہیں ہوگا، عوام میں پولیس کا اعتماد قائم نہیں ہو گا۔
یہ حیرت کی بات ہے کہ پولیس کا محکمہ ابھی تک پوری طرح کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے لیس نہیں ہوا۔ اس کو جلد از جلد پورے طور پرکمپیوٹرائز کر نا چاہیے۔ ایف آئی آر کو ہاتھ سے لکھنے کا زمانہ کبھی کا جا چکا۔ اسے کمپیوٹر پر لکھنا چاہیے تا کہ اس کی کاپی فوراً سائل کو بھی دی جا سکے اور دفتری نظام میں بھی بھیجی جا سکے۔ پولیس افسروں کے پاس سمارٹ فون ہونے چاہیئں تا کہ جرائم کی روک تھام میں مدد ملے۔ مغرب کی پولیس اس سے بہت سے کام لیتی ہے۔ اور پولیس کے کام تیزی سے کیے جا سکتے ہیں۔ چونکہ بہت سے پولیس افسران زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے یا انہیں کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا، تو ان کو اس کی تربیت دینا چاہیے۔کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے پولیس والوں کو کچھ تحفطات بھی ہو نگے کہ ان کی اوپر کی آمدنی کے حصول میں کچھ روکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں، لیکن اس بات پر محکمہ کو سمجھوتہ نہیں کرنا ہو گا۔دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور امید ہے کہ پاکستان پیچھے رہ جانے کی غلطی نہیں کرے گا۔
آخر میں راقم قارئین کی توجہ ایک بڑے قابل اور ایماندار پولیس افسر کی سوانح حیات کی طرف دلانا چاہتا ہے جس میں بہت سے راز اور گوہر نایاب پوشیدہ ہیں، ایم ۔اے۔ کے ۔چودھری کی کتاب Of All Those Years (آغا عامر حسین،کلاسک پبلیشرز، لاہور، 2006 ) اسقدر دلچسپ ہے کہ آپ ناول کی طرح پڑھتے چلے جائیں اور دلچسپی بر قرار رہے۔ ہر صفحہ پر انسانی دلچسپی کی کئی کہانیاں ہیں، جن میں پولیس کے سینکڑوں روپ نظر آتے ہیں، کبھی سیاستدانوں کے ساتھ، کبھی جاگیر داروں کے ساتھ اور کبھی عام انسانوں کے ساتھ۔ اس کتاب کو پڑھ کر آپ کو پولیس کے کردار، مسائل، اور کارناموں کی ایک حیرت انگیز داستان ملے گی۔ جس میں پولیس کے محکمہ میں اصلاحات پر دانشمندانہ اشارے بھی ملیں گے۔اور معاشرہ کے ناسوروں کی نشاندہی بھی۔