مفتی قوی ان لوگوں میں سے ہیں جو مشہور ہونے کے لئے برہنہ ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے، ننگ وطن بھی ننگِ دین بھی!

406

ہم جب سن چوراسی میں پہلی دفعہ امریکہ آئے تو پاکستان سمیت پوری دنیا اور امریکہ بھر میں گلوکار مائیکل جیکسن کا طوطی بول رہا تھا اور نوجوان نسل مائیکل کے پیچھے پاگل ہوئے جارہی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ ہیوسٹن کے سمٹ ہال میں ہم بھی مائیکل جیکسن کا شو دیکھنے گئے تھے۔ ایسے میں ایک اور گلوکار پرنس بھی اپنی جگہ بنانے کی سر توڑ کوشش کررہا تھا مگر مائیکل کے آگے ٹک نہیں پارہا تھا اور وہ مقبولیت نہ حاصل کرپارہا تھا۔ پھر ہم نے اور پورے امریکہ نے دیکھا کہ گلوکار پرنس اپنی براہِ راست پرفارمنس میں ننگا ہو کر آگیا ہاتھ میں ایک گٹار اور بدن پر صرف ایک مختصر سا انڈرویئر تھا۔ مقبولیت میں تو ذرا سا اضافہ ہوا کیونکہ کئی دنوں تک پرنس کے آئوٹ فٹ کا چرچا رہا مگر وہ جوکہتے ہیں ناکہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں بھی یہ ہی کچھ ہورہا ہے۔ پہلے انٹرنیٹ، پھر سوشل میڈیا پھر فیس بک پھر واٹس اپ، پھر ٹک ٹاک پھر سیلفی اور ابھی دیکھتے جائیں کہ آگے اور کیا کچھ ہو گا۔ ان گیجٹس کا جس طرح استعمال ہورہا ہے اس سے نہ صرف ہر شعبے میں افراتفری اور بے راہ روی پھیل رہی ہے بلکہ لوگ مارے بھی جارہے ہیں۔
ایک صاحبہ نے پنجاب کے ایک سکول کے خلاف قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے کیونکہ ان کے فیس بک اکائونٹ پر انہوں نے ٹیکسٹ کیا ہے کہ سکول نے انہیں اس بنیاد پر نوکری سے نکالا ہے کہ وہ بہت خوبصورت اور سیکسی ہیں جو معقول وجہ نہیں ہے نکالے جانے کی لیکن جب فیس بک پر ان ٹیچر صاحبہ کی پوسٹ کی گئی تصاویر دیکھنے کا موقع ملا تو انتہائی قابل اعتراض اور ہماری ثقافت سے قطعاً میل نہیں کھاتیں۔ اشارتاً کہہ دیں کہ ان کے گہرے گلے کا کٹائو اور منی اسکرٹ کے لباس یقینا سکول کے طلباء کے لئے بالکل مناسب نہیں۔ اب اس خاتون نے یہ ایشو کیوں بنایا تو وہی سستی شہرت والی بات آجاتی ہے۔ تصاویر کو اور نام کو پہلے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جارہا ہے پھر ریگولر ٹی وی چینلز پر یہ مواد آئے گا تو نام تو ہو گا نا! بھلے بدنامی کا باعث ہی۔
آج کل ایک مرتبہ پھر بدنام زمانہ مفتی قوی صاحب میڈیا کی رونق بنے ہوئے ہیں۔ ان کا بھی یہ ہی فارمولا ہے کہ ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی ایسا قابل مذمت، قابل شرم اور متنازعہ کام کیا جائے تاکہ وہ پھر میڈیا میں آئیں اور کمپنی کی مشہوری ہو ،ان پر تو میڈیم نور جہاں کا وہ گانا بالکل صادق آتا ہے کہ؎
ہم پر الزام تو ایسے بھی ہے، ویسے بھی سہی
نام بدنام تو ایسے بھی ہے، ویسے بھی سہی
مفتی قوی کی تازہ ترین ویڈیو جو آئی ہے اس میں ایک ان کی ہی طرح کی پبلسٹی کی شوقین خاتون حریم شاہ ان کے منہ پر تمانچہ رسید کررہی ہیں اور اس طرح سے ایک بار حریم شاہ اور مفتی قوی کو سو سے زائد نجی ٹی وی چینلز ٹی وی نیوز میں اور پھر اپنے ٹاک شوز میں کوریج دے رہے ہیں۔ حریم شاہ وہ بے شرم اور بے غیرت پشتون خاتون ہیں جن کے باپ نے ٹی وی پر آ کر پاکستانی قوم سے اس کی شرمناک حرکتوں پر معافی مانگی تھی ہاتھ جوڑ کر مگر مجال ہے کہ اس ڈھیٹ خاتون پر ذرا سا بھی اثر ہوا ہو۔ میڈیا میں رہنے کے شوق نے مفتی قوی کو بے غیرتی اور ڈھٹائی کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ وہ طمانچہ کھا کر بھی ڈھٹائی کے ساتھ ہر نیوز بلیٹن اور ٹاک شو میں آرہے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ ان سے ان کی شہرت کو پاکستان اور اسلام کی شہرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ میں تو اتنا مشہور ہوا ہوں کہ اکثر تقریبات میں بقیہ علماء تنہا ہوتے ہیں اور لوگ میرے ساتھ ایک ایک گھنٹے کی سیلفیاں بنواتے ہیں۔ اس سے قبل وہ کیا کیا ارشادات فرما چکے ہیں وہ ہیں کہ شراب پینا حرام نہیں ہے، پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ عورتیں اپنے نکاح میں لانی چاہیئں، ہیجڑوں سے شادی کرنا جائز ہے جبکہ ان کے اعمال کچھ یوں ہیں کہ ایک طرح قندیل بلوچ کو مفتی صاحب کے ساتھ قابل اعتراض تصویر کھنچوانے پر قتل کر دیا گیا، مفتی صاحب کو شادیوں میں رقص کرنے اورمجرا کرنے والی طوائفوں پر نوٹ لٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ان کے بقول شراب ہر وقت ان کی گاڑی میں موجود رہتی ہے اور خواتین ہر وقت ان سے نکاح کرنے پر اصرار کرتی ہیں۔ فیصلہ آپ کریں کہ اگر مفتیان دین ایسے ہوں گے تو پھر ان کی پیروی کرنے والے عوام الناس کیا کچھ نہ کریں گے۔ اب آپ کو سمجھ آئی انحطاط پذیری کی اصل وجہ؟