بابا جی کے قاتل

388

نیویارک میں ہمارے پڑوسی کے والد ہمارے بھی با با جی تھے۔ مومن با ہمت پر وقار شخصیت بابا جی چھ ماہ پاکستان اور چھ ماہ امریکہ بیٹی جو کہ ہماری پڑوسی ہیں ان کے ساتھ گزارتے تھے۔ بابا جی کا ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ئو گیا اور چھ معصوم بچوں کو یتیم کر گیا۔ جوان بیٹے کی موت کے صدمے نے با با جی کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اس المناک سانحہ کے بعدہم نے بابا جی کو پل پل ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔با با جی ہم سب کے باپ تھے۔اس مرتبہ جب نیویارک آئے تو چھ ماہ کیا چھ دن بھی رکنا نہیں چاہا اور واپسی کی ضد لگا لی کہ انہیں فوری کے پی کے گائوں واپس جانا ہے۔ہماری چھٹی حس بتا رہی تھی کہ یہ بے چینی با با جی کو ہمیشہ کے لئے لے جائے گی۔گائوں کی مٹی بلا رہی ہے، اب روکنا زیادتی ہو گی۔ بابا کو کوئی میڈیکل مسلہ نہیں تھاعمر رسیدہ ضرور تھے مگر روحانی طاقت جوانوں جیسی تھی۔ ہفتہ پہلے ہم اور با با جی ایک ہی روز پاکستان کے لئے روانہ ہو ئے۔ہماری منزل لاہور تھی اور با با جی اسلام آباد روانہ ہو گئے۔پاکستان پہنچتے ہی موت کا فرشتہ تعاقب میں لگ گیا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں موت کا فرشتہ زیادہ تر طبی علاج کو جواز بناتا ہے۔ امریکہ میں کرونا سے اموات کا خوف تو بہت مسلط کر دیا گیا ہے مگر بابا جی کو کرونا نے نہیں پاکستان کے ڈاکٹر کی غفلت نے مارا ہے۔اچھے ضاصے با با جی اچانک اللہ کو پیارے ہو گئے۔با با جی کا بیٹا قتل کر دیا گیا تھا جبکہ بہو کو ڈاکٹروں نے مار دیا تھا، چھ یتیم پوتے پوتیوں کا سہارابا با جی بھی انتقال کر گئے ہیں۔نیو یارک ہمارے پڑوسی اور با با جی کے داماد ڈاکٹر شفیق نے بتایا کہ‘‘میرے سسر اور اس سے پہلے ان کی بہو کے انتقال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا،کہ کیا پاکستانی ڈاکٹروں کی اکثریت اس معیار پر اترتی ہیں۔کہ عام سی بیماری کا علاج کر سکیں،یا ان میں بیمار کے لئے کسی ہمدردی کا جز بھی پایا جاتا ہے یا نہیں،اس سے پہلے ان کی بہو جو بیوہ تھی ان کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے،ان کو جب بخارہوا کرک کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کو بتایا کہ ان کو ملیریا ہے،ملیریا کے علاج سے جب ان کا بخار نہیں اترا،بلکہ بڑھتا گیا،تو بجائے اس احتمال کے کہ ان کے جسم میں ملیریا کے parasite کے بجائے،جراثیم ہوسکتے ہیں،اور اس کو ڈرپ میں antibiotics دیئے جائیں ،ان کو پشاور بھیج دیا،اور راستے ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔اور ایک گھر جو پہلے ان کے خاوند کے قتل سے محروم ہوا تھا ،اب ماں بھی ڈاکٹروں کی غفلت کے سبب چل بسی،اوربچے دونوں ماں باپ سے محروم ہوگئے،یعنی خاوند کو کسی نے قتل کیا،اور بیگم کو ڈاکٹروں نے،
میرے سسر امریکہ سے پچھلے ہفتے جارہے تھے،انھوں نے ویکسین کا ٹیکہ بھی لگایا،اور نہ انکو بخار تھا اور نہ کسی قسم کا مسئلہ،ایک صحتمند انسان پاکستان پہنچے،لیکن جب گاؤں پہنچے تو ان کو قبض کی شکایت ہوگئی اور اس کے لئے خود سے کچھ جلاب (laxative)لیا جس سے ان کو loose stool یعنی اسہال آنا تو شروع ہوئے لیکن تھمتے نہیں تھے،جس کے لئے وہ بنوں کے ہسپتال میں معائنہ کیلئے اس لئے گئے،کہ اس سے پہلے ان کی بہو کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا وہ دوبارہ نہ ہو،سوبنوں کے ڈسٹرکٹ ہسپتال نے بھی اس احتمال کو بالکل نظرانداز کیا یا ان کواس بات کا علم ہی نہیں تھا،کہ اتنے گھنٹو ں سے متواتر باتھ روم جانے سے ان کو dehydration ہو چکی ہوگی اور اس کو saline drip دینے چاہئے لیکن ان کو پشاور بھج دیا،اور اس کا خیال بھی نہیں رکھا،کہ اس سفر کے دوران ان کو ایک ڈرپ تو لگا دیتے۔پشاور کے ہسپتال جب پہنچے،تو ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد بتایا کہ ڈی ہائیڈریشن سے ان کے گردوں نے کام چھوڑ دیا ہے،انھوں نے کوشش کی لیکن سسر جانبر نہ ہو سکے،اس سارے واقعے پر سوچا جائے،تو ایک بات واضح ہوجاتی ہے،کہ یہ سب کچھ ایسے گھرانے کے ساتھ ہوا،جن کے وسائل تھے،وہ عوام کیا کریں گے،جو مہنگائی کے سبب دو وقتوں کے کھانے کے لئے ترستے ہیں،اور دوسری بات یہ امریکہ میں ڈاکٹر کے پریکٹس کے لائسنس کی تجدید دو سال بعد اس شرط پر ہوتی ہے کہ 100گھنٹوں کا refresher کورس کرلے تاکہ ماڈرن علاج کیساتھ ان کا تعارف ہوتا رہے،انتہا یہ ہے،کہ یورپ اور مڈل ایسٹ اور سعودی عرب جیسے آمری ملک بھی ڈاکٹروں کے لائسنس کی تجدید اس وقت نہیں کرتے جب تک تین سال میں ان نے ری فریشر کورس نہ کئے ہوں ایسا لگتا ہے کہ گویا پاکستان کی حکومت ملک کی آبادی گھٹانے میں ڈاکٹروں کی اس گھٹیا تربیت سے مطمئن ہے’’۔۔۔پاکستان میں ناقص میڈیکل کے سبب کرونا کو بھی جواز بنا لیا گیا۔ ایک برس سے ہر موت کرونا کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ بابا جی امریکہ میں کرونا سے بھی محفوظ رہے مگر پاکستان ڈاکٹروں کی جہالت اور غفلت نے قتل کر ڈالا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون