اللہ کی بے آواز لاٹھی سے ڈرو!

286

عوام آج جس بدحالی کا شکار ہیں ایسے حالات کی دلد ل سے انہیں فوری نکالنا ناممکن ہے، کوششیں جاری ہیں، مظلوم کی قباء میں بے شمار سوراخ ہیں کہاں تک پیوند کاری کی جائے۔ انسان جب اپنے حالات سے لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے تواپنے وسیلوں سے شکوہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو وسیلے بنائے تھے وہی رہزن نکلے تو انصاف کا تو خون ہونا ہی تھی۔
ایک طوطا اور طوطی ایک گائوں سے گزر رہے تھے۔ یہ گائوں بالکل اجڑا ہوا تھا۔ ہریالی کا نام نہ تھا۔ کوئی رونق نہیں تھی۔ اچانک ان کی نظر ایک سوکھے ہوئے درخت پر پڑی جس پر ایک الو بیٹھا ہوا تھا۔ طوطے نے کہا اس گائوں پر یہ نحوست الو کی وجہ سے طاری ہے۔ الو نے سن لیا اور طوطی کو پکڑ لیا۔ بولا ’’ یہ میری بیوی ہے‘‘۔ طوطا پریشان ہو گیا۔ ’’ارے بھئی یہ میری بیوی ہے، جبکہ ہمارے رنگ ایک جیسے ہیں سبز ہیں، سرخ چونچ ہے تم تو ہم سے کہیں سے بھی نہیں ملتے‘‘ الو نے کہا چلو گائوں کے چودھری سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔ گائوں کے چودھری نے فیصلہ الو کے حق میں دیا طوطی کو اس کے حوالے کر دیا، طوطا روتا پیٹتا اپنے ٹھکانے کی طرف پرواز کرنے لگا، الو طوطی کو لے کر اس کے پیچھے اڑا اور راستے ہی میں طوطے کو جا لیا۔ بھائی تو اپنی امانت لیتا جا۔ نحوست میری وجہ سے نہیں اس ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے ہے جس کا سب ساتھ دے رہے ہیں۔ الو نے لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ دیکھو سب اثبات میں سر ہلارہے ہیں کسی نے اس ظلم کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔
ظلم کی انتہا ہے، تف ہے، لعنت ہے ان رہزنوں پر جو غریبوں کے خون کے گارے سے اپنے محل تعمیر کرتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے یہ ملک جو قرضوں پر چل رہا تھا قرض پر قرض لیا جارہا تھا۔ وہ بڑا نوسرباز 180 کروڑ کی گھڑی پہنتا ہے، دنیا میں اس طرح کی چار گھڑیاں ہیں، پھولن دیوی اپنے باپ اور ٹبر کے ساتھ چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔ تم نے تو لوگوں سے زندگی چھین لی ہے۔ ان کے جسم برہنہ کر دئیے ہیں۔ انہوں نے پیٹ سے پتھر باندھ لئے ہیں اور تم بے غیرت لباس فاخرہ پہنے لاکھوں کا میک کروائے تقریریں کرتی پھرتی ہو۔ کیا عوام تمہارے اُس لوٹ مار کے مال کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر سرد آہیں نہ بھرتے ہوں گے۔ غور سے سنو ان کی بے آوازآہیں آسمانوں کے کنگورے ہلارہی ہیں۔ ڈرو اس وقت سے جب عذاب الٰہی تم پر ٹوٹ پڑے۔ آج نہیں تو کل باری آنی ہے تو پھولن دیوی تم لوگوں کی لوٹی ہوئی اربوں دولت سے ایک سانس بھی نہ خرید سکو گے۔!!
فضلو بڑے فتوے دیتا ہے، بڑا جائز و ناجائز کا ڈنکا پیٹتا ہے تو تم پر کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا تو جو اس کے کندے پر سر لٹکائے کھڑی ہو محرم نامحرم کی حد ختم ہو گئی کیا، فضلو جواب دو کیا تمہاری جنس تبدیل ہو گئی ہے؟ فضلو تم جو اسلام کے نام پر کشکول لئے پھرتے ہو ناقابل اعتبار ہو چکے ہو جو اپنوں سے وفاداری نہیں کرتا اسے دوسرے بھی قابل اعتماد نہیں گردانتے۔
ایک اور تماشا بلاول کی صورت میں ہوا، وہ بڑی شد ومد سے پاکستان کی وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی فکر میں ہے اور اتنا قابل انسان دنیا کے کسی خطے میں نہ پایا جاتا ہو گا۔ جو یہ کہتا ہے جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، پھر اس نے اپنی قابلیت کا ایک اور ثبوت دیا ’’انڈے کلو کے حساب سے فروخت کر دئیے ‘‘ اور آلو درجن کے حساب سے بکنے لگے۔ اب قابلیت کا تیسرا ثبوت گندم زمین سے اگتا ہے اور شیخ رشید کے جگر نے چینی بھی زمین سے اُگا دی ہے۔لیجئے صاحب شوگر ملوں سے چھٹی ہو گئی۔ اللہ نہ کرے پاکستان اتنا بھی بدقسمت نہیں کہ تمہیں کسی بھی عہدے پر برداشت کرے۔ بھٹو کی نقل میں آستیں چڑھا کر جوش خطابت میں فرماتے ہیں ’’خون چاہیے، خون دیں گے ہم، جان چاہیے جان دیں گے ہم‘‘ گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ نعرے لگاتے ہو، کبھی یہ کہہ جائو ’’اپنا لوٹا ہوا مال چاہیے مال دیں گے ہم‘‘زرداری کو چاہیے اپنے اس سپوت کو لندن بھیج دے، سیاست کرنا اس کے بس کا روگ نہیں، خوامخواہ نانا کی نقلیں کر کے اسے بھی قبر میں شرمند ہ کروارہا ہے۔ ماں الگ بے چین ہو گی۔
ایک بات قابل غور ہے کہ جتنے لوگوں نے پیسہ باہر بھیجا انہیں لندن ہی کیوں اتنا بھایا۔ انگریزبڑی کائیاں ہڈی کا نام ہے، اُسے اپنی معیشت مستحکم کرنی تھی، اسے اس سے غرض نہیں کون کہاںسے اور کیسے رقوم لا رہا ہے، اس طرح اُس گینڈے الطاف حسین کو بھی برسوں سے پناہ دے رکھی ہے۔ اس کے اوپر بہت سے مقدمات بھی ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا بھی کیس ہے۔ اس شخص کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ
دیکھوں ہوں تجھے میں تو یہ خیال آتا ہے
شاید کہ تیرے اجداد میں گینڈے بھی تھے!!
بھارتی ٹی وی چینل پر اکثر نظر آتا ہے، خاتون اینکر کی چاپلوسی کرتے ہوئے۔ اس کی تعریفوں کے پل باندھتا ہوا۔ اینکر نے انٹرویو کے اختتام پر فرمائش کی کہ آپ ہندوستان کے بارے میں جو گیت گاتے ہیں وہ ذرا سنا دیں، غدار جوش میں آگیا اور علامہ اقبال کی روح کو اذیت دینے لگا۔ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ خوب لہک لہک کر گارہا تھا اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ خود وہاں کے ایک معتبر شاعر من موہن گلزار نے کیا کہا ہے۔
(گلزار صاحب پنڈت جواہر لال نہرو کے رشتے دار تھے حال ہی میں ان کا انتقال ہوا ہے)
سارے جہاں میں رسوا ہندوستان ہمارا
ہم اس کے چیل کوے یہ بے زباں ہمارا!
الطاف حسین مودی سے ہر وقت سیاسی پناہ مانگتا رہتا ہے۔ وجہ یہ بتاتا ہے کہ اس کے اجداد وہاں دفن ہیں اور یادداشت کا یہ عالم ہے کہ ماں یعنی خورشید بیگم کو بھول گیا جو پاکستان(کراچی) میں دفن ہیں۔ اگر تم نمک حرام بھارت جارہو اجداد کی قبروں پر مجاوری کرنے تو اللہ کے واسطے اپنے والدین اور دوسرے خاندان والوں کے ڈھانچے بھی کھدوا کر لے جائو اور یاد رکھو مودی جیسا گھاگ آدمی تم پر اعتماد کرے گا؟؟