امریکا کی عمر شیخ کے خلاف قانونی کارروائی کی پیشکش

401

سپریم کورٹ سے  صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی بریت کے فیصلے کے ایک روز بعد پاکستان کے لیے اپنے پہلے بیان میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلِنکین نے کہا ہے کہ امریکا ملزم عمر شیخ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کو تیار ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روز عمر شیخ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ حکومت سندھ اور ڈینیئل پرل کے والدین کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کو بری اور رہا کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواستوں پر سنایا تھا۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘انہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کو بری کرنے کے فیصلے اور ان کی رہائی کی مجوزہ کارروائی پر سخت تشویش ہے’۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘امریکی شہری کے خلاف عمر شیخ کے ہولناک جرم پر ہم امریکا میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں’۔

ساتھ ہی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے یہ بھی کہا کہ ‘ہم ڈینیئل پرل کے اہلِ خانہ کے لیے انصاف حاصل کرنے اور دہشت گردوں کا احتساب کرنے کے لیے پر عزم ہیں’۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے بدھ کے روز ہی اپنا منصب سنبھالا تھا، اپنے بیان میں انہوں نے یاد کیا کہ سال 2002 میں عمر شیخ پر اغوا اور یرغمال بنانے کی ایک سازش، جس کا نتیجہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کی صورت میں نکلا، اور 1994 میں بھارت میں ایک دوسرے امریکی شہری کو اغوا کرنے کے پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔