براڈ شیٹ یا چارج شیٹ؟

289

اسد اللہ غالب نے جو کہا خوب کہا۔ ان کی شاعری میں عصرِ حاضر اتنا نمایاں ہے کہ لگتا ہے کہ وہ ہمارے ہی دور کے شاعر اور ترجمان ہیں۔ کیا خوب کہا تھا جو لگتا ہے ہمارے پاکستان کیلئے ہی کہا تھا:؎
ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق!!
اور پاکستان میں رونق رہتی ہے کیونکہ کونسا دن ہے جو ہنگامہ نہ ہو۔
تازہ ترین ہنگامہ وہ ہے جو انگلستان سے چلا ہے۔ اب یہ بھی تو ہماری تاریخ ہے کہ ہنگامے کا آغاز جتنا اس چھوٹے سے جزیرہ سے ہمارے لئے ہوتا ہے شاید ہی دنیا میں کسی اور جگہ سے ہوتا ہو۔ جس دن سے اس منحوس ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہمارے برِصغیر میں قدم رکھا ہنگاموں کی ترسیل ہمارے لئے کبھی تھمی ہی نہیں!
ہنگاموں کی تازہ ترین رسد اس جزیرے سے آئی ہے براڈشیٹ کے عنوان سے۔
صحافت کی زبان میں براڈشیٹ اس اخبار کو کہا جاتا ہے جو بڑے سائز کے صفحات پر چھپتا ہو۔ لیکن یہ براڈشیٹ نام کی اس کمپنی کا نام ہے جو برطانیہ میں قائم ہے اور جس کی مہارت ایسی کارگزاری کی ہے جو ناجائز ذرائع سے جمع کی ہوئی دولت کا سراغ لگاتی ہے!
اس سراغرساں ادارہ کے سربراہ ایک ایرانی نژاد برطانوی شہری ہیں جن کا نام کاوے موسوی ہے اور یہ موسوی صاحب ان دنوں پاکستانی نیوز میڈیا کیلئے ہیرو کے درجہ پر فائز ہوچکے ہیں کیونکہ وہ جو انکشافات کررہے ہیں وہ نیوز میڈیا کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کیلئے اچنبھے اور حیرت سے بھرپور خبروں کا خزانہ ہے جسے پاکستانی سیاست اور حکومت کے معاملات سے دلچسپی ہو!
بلکہ ہماری دانست میں تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ موسوی صاحب پاکستان کے حالات کو بگاڑ کر موجودہ سطح پر لانے والے بدکرداروں کے سیاہ کرتوتوں سے لبریز اس تعفن زدہ گٹر سے ٹھکنا اٹھا رہے ہیں جہاں سے سوائے بدبو اور غلاظت کے اور کچھ نہیں ملتا!
موسوی کا کردار اس دن پاکستان کے منظر نامہ میں شامل ہوا جب نئی صدی کے آغاز پر پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن جانے والے پرویز مشرف نے ان کی کمپنی کی خدمات مستعار لیں اس نعرہ کو بلند کرنے کے بعد کہ وہ اپنے سے پہلے آنے والے سیاسی طالع آزماؤں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی کرپشن کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے!
ڈا نلڈ ٹرمپ نے بھی اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی ریاست میں کرپشن اور بدعنوانی کے ہاتھوں بنے ہوئے متعفن جوہڑ کو صاف کرنا چاہتے تھے اور دیکھئے کہ وہ امریکہ کو کس حال تک پہنچاکر جارہے ہیں!
تو پرویز مشرف کا احوال بھی اس سے مختلف نہیں ہوا۔ انہوں نے نعرہ لگایا، بلند بانگ دعوی کیا کہ وہ کرپشن کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائینگے اور اپنے ارادے کو تکمیل تک لیجانے کیلئے انہوں نے کرپشن کے خلاف اپنی ایجاد، نیب، کو حکم دیا کہ وہ کاوے موسوی کی کمپنی، براڈشیٹ، سے معاہدہ کرے تاکہ چوروں کی لوٹی ہوئی دولت کا سراغ لگایا جائے اور پاکستان کی دولت واپس لائی جائے! سو ان کے حکم پر نیب اور براڈشیٹ کا معاہدہ ہوا اور اس ادارہ کو فوری کارروائی کی تاکید کی گئی بلکہ موسوی کے کہنے کے مطابق نیب کے ادارے نے انہیں دو سو پاکستانی سیاستدانوں اور بیروکریسی کے نامی کارندوں کے ناموں کی ایک طویل فہرست بھی فراہم کی جن کے متعلق شبہ ہی نہیں بلکہ یقین اور اعتماد تھا کہ انہوں نے کرپشن کی تھی اور ملک کی دولت پر اپنے گندے ہاتھ صاف کئے تھے!
سو موسوی نے کام شروع کیا پاکستان کی مسروقہ دولت کا سراغ لگانے کا لیکن بہت جلد انہیں احساس ہوگیا کہ جنہوں نے انہیں کرپشن کے عفریت کے گھناؤنے چہرے سے نقاب نوچ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی ان کے اپنے ارادے بھی اس عفریت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے!
موسوی کے مطابق انہوں نے بڑی تندہی سے اپنی ذمہ داری نبھائی اور بڑے بڑے خزانوں کا سراغ لگایا لیکن وہ جیسے ہی نیب کے ذمہ داروں کو کسی عفریت کی لوٹی ہوئی دولت کی خبر دیتے تو چند دن بعد ہی ان پر انکشاف ہوتا کہ اس کے غیر ملکی بنک اکاوٗنٹ سے وہ رقم نکالی جاچکی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ نیب خود ہی کرپشن زدہ تھا اور وہاں کام کرنے والے اپنی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے چوکنے والے نہیں تھے بلکہ لگتا تھا کہ وہ اس گنگا میں اشنان کرنے کا عزم بھی رکھتے تھے!
یہی نہیں تھا کہ نیب میں پاکستان کے جغادری کرپٹ سیاستدانوں کے جاسوس اور مخبر گھات لگائے ہوئے بیٹھے تھے کہ ان کے مربیوں پر کوئی آنچ نہ آنے پائے بلکہ خود پرویز مشرف بھی انہیں جغادری مگر مچھوں کی سنت زندہ رکھنے کی قسم کھائے بیٹھے تھے!
موسوی کے بقو ل مشرف کا ہدف صرف ان کے نامی سیاسی حریف، نواز شریف اور بینظیر بھٹو اور ان کے شوہرِ نامدار، نامی چور، آصف علی زرداری تھے بقیہ کرپٹ سیاستدانوں اور خاندانوں کو وہ اپنی صف میں لانے پر کام کررہے تھے۔ گجرات کے رسوائے زمانہ چودہریوں سے ان کی پینگیں بڑھ رہی تھیں اور ان کی سربراہی میں وہ نواز کے حلیفوں کو توڑ کر مسلم لیگ (ق) بنانے کے تانے بانے بن رہے تھے۔ سو موسوی سے کہا گیا کہ ان بدعنوان چودھریوں پر ہاتھ نہیں ڈالنا۔
موسوی نے آفتاب شیر پاؤکے بنک اکاؤنٹ سے پردہ اٹھایا تو کہا گیا اس کو رہنے دو اسلئے کہ پرویز مشرف تو اس چور کو ساہوکار بناکر اپنی کابینہ میں وزیرِ داخلہ بناچکے تھے۔
کرپشن صرف روپے پیسے کی نہیں ہوتی کرپشن یہ بھی ہے کہ ایک چور کو وزیرِ داخلہ بنادیا جائے۔ پرویز مشرف بھی اتنا ہی کرپٹ ہے جتنا نواز شریف یا زرداری بلکہ حقیقت میں مشرف کی کرپشن ان چوروں سے کہیں زیادہ ہے کہ اس نے ان ہی چوروں سے بعد میں ہاتھ ملائے اور انہیں دوبارہ، این آر او کی سہولت اور راہداری مہیا کرکے پاکستان پر مسلط ہونے کا موقع دیا تاکہ یہ مگرمچھ اور جی بھر کے پاکستان کے جوہڑ کو مزید گندا کرسکیں!
موسوی کی کمپنی، براڈشیٹ کو حکومت پاکستان نے اپنے خزانے سے ۹۲ ملین ڈالر کی خطیر رقم جرمانے اور تاوان کی صورت ادا کیا ہے کیونکہ براڈشیٹ سے کیا ہوا معاہدہ مشرف کے حکم پر نیب نے ۳۰۰۲ میں ختم کردیا تھا جو معاہدہ کی شق کے برخلاف تھا۔اور یہ تاوان اس عالمِ غربت میں ادا کیا گیا ہے جب پاکستانی معیشت کیلئے کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں!
اور آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا! ابھی تو ایک اور بڑی تلوار پاکستان کے سر پہ لٹک رہی ہے اور وہ ہے ایک اور ہرجانے کی خطیر رقم، چھہ ارب ڈالر، کی ادئیگی کی تلوار۔ اور یہ بلوچستان میں تانبے کی دنیا کی سب سے بڑی کان، ریکو ڈگ نام کی، کے حوالے سے جس کا ایک کینیڈین اور چلّی کی مشترکہ کمپنی سے کئے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کے مقدمہ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں نہیں ہوا۔ عمران حکومت سرتوڑ کوشش کررہی ہے کہ اس تلوار کی کاٹ سے بچ جائے۔ دعا کا وقت ہے ورنہ تو دعا دینی چاہئے افتخار چودہری کو جن کا یکطرفہ فیصلہ، جو انہوں نے آنکھیں بند کرکے صادر فرمایا تھا، پاکستان کے حلق کی ہڈی بن گیا ہے۔ اللہ ایسے چیف جسٹس سے پاکستان کو محفوظ رکھے جو ملک کو اتنے بڑے امتحان میں ڈال گیا!
چوروں کو پکڑو، ضرور پکڑو، اور محض پکڑو ہی نہیں بلکہ چین کی مثال سامنے رکھو اور ان چوروں کو ٹانگ دو، نشانِ عبرت بنادو ان ملک لوٹنے والوں کو تاکہ چوری کی نیت رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو لیکن وہ کہاوت بھی یاد رکھو کہ چور کو نہیں چور کی ماں کو پکڑو۔ اور یہ جو چوروں نے، زرداری اور نواز جیسے نامی ڈا کو ؤں نے، گذشتہ دس بارہ برس میں پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اس کا تمام تر ذمہ دار وہ کمانڈو پرویز مشرف ہے جس نے اپنی ہوس اقتدار سے اندھے ہوکر ان چوروں کو این آر او دیا اور کھل کھیلنے کہ ہر سہولت ان کیلئے فراہم کردی۔ اسے پکڑو جو آج بھی دبئی میں دادِ عیش دے رہا ہے اور انصاف کا منہ چڑارہا ہے!
عمران حکومت کیلئے ایک اور امتحان سر پہ کھڑا ہے۔
کاوے موسوی کہہ رہا ہے کہ وہ ۹۲ ملین ڈالر کا ہرجانہ پاکستان کو واپس کرنے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ پاکستانی حکومت اس سے معاہدہ کرے کہ وہ پاکستان کو لوٹنے والوں کو بے نقاب کرنے کی اپنی مہم جاری رکھ سکے۔ موسوی نے یہ دھماکہ خیز انکشاف بھی کیا کہ دو برس پہلے انہوں نے عمران حکومت کو اس سے آگاہ کیا تھا کہ انہوں نے ایک ایسے اکاؤنٹ کا سراغ لگایا ہے جسمیںپاکستانی کاروباریوں نے سعودی عرب سے برطانیہ کے ایک بنک میں ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم جمع کروائی گئی۔ اب اس حقیقت سے تو پاکستان کا بچہ بچہ آشنا ہے کہ پاکستان میں سعودیوں کے گماشتے کون کون ہیں اور ان گماشتوں میں کون سب سے آگے اور سعودیوں کے مقربینِ خاص ہیں! انہوں نے یہ بھی کہا کہ ۹۱۰۲ میں انہوں نے لندن میں ایک ملاقات میں جو عمران کے مشیر برائے اینٹی کرپشن، شہزاد اکبر کی موجودگی میں اس کا انکشاف کیا تو اکبر صاحب کے ایک ساتھی نے ان سے استفسار کیا کہ اس میں سے ان کا حصہ کتنا ہوگا!
اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران اپنے ایک رفیق کی اس دیدہ دلیری پر ان کا مواخذہ کیا کرتے ہیں؟یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اتنے ہی کرپٹ عناصر عمران کے قرب میں، ان کی حکومت کے مشیروں وزیروں میں، بھی پائے جاتے ہیں اور ان کا احتساب اور مواخذہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کا جو اپنی گردنوں کو بچانے کی مہم میں عمران کے خلاف پیش پیش ہیں اور اسے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں!
کرپشن کا ناسور پاکستان کو کھوکھلا کرچکا ہے۔ اب ایک لمحہ کی تاخیر بھی پاکستان کے حق میں زہرِ قاتل ہوگی۔ وہ چاہے عمران ہو یا کوئی اور۔۔ہر اس شخص کی جو پاکستان کی رہنمائی اور قیادت کا دعویدار ہے پہلی اور آخری وفاداری صرف اور صرف پاکستان اور اس کے مفادات سے ہونی چاہئے۔ اس پر کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہے!
وقت پاکستان کے پاس بھی کم ہے اور عمران کے پاس تو شاید اس سے بھی کم ہے۔ لہذا اس اہم کام میں پیش رفت بلاتاخیر ہونی چاہئے اور اس راہ میں کسی مصلحت، کسی سیاسی مفاد کو ترجیح نہیں ہونی چاہئے۔
پرویز مشرف خود بھی سیاسی شعبدہ باز تھا لہٰذا اس کی کرپشن کے خلاف مہم بھی ایک ڈھکوسلہ تھی، صرف ایک نمائش تھی، ایک نعرہ تھا، مشرف جیسے بددیانت کی اس خوش فہمی کو ہوا دینے کیلئے کہ ان کیلئے پاکستان سب سے پہلے تھا جبکہ ان کے پورے دورِ حکومت میں ان کی رہنمائی اس خود غرضی نے کی جس کا عنوان تھا، پرویز مشرف کی ذات سب سے پہلے۔ ان کی اینٹی کرپشن مہم چونکہ بد دیانتی پر مبنی تھی اسلئے ناکام رہی کیونکہ جس کام میں اخلاص اور دیانت نہ ہو وہ ناکام ہی رہتی ہے!
عمران کی ذات کے بارے میں کسی کو شبہ نہیں ہے کہ وہ دیانت دارہے اور پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتا ہے۔ عمران کی ترجیح صرف اور صرف ایک ہونی چاہئے اور وہ یہ کہ پاکستان کے سیاسی سرکس کے مسخروں کے چہروں سے نقابیں نوچ کر ان کے اصل، کریہہ اور بدنما داغ نہ صرف پاکستانی قوم کو بلکہ پوری دنیا کو دکھائے جائیں۔ دنیا دیکھ لے کہ یہ سیاسی شعبدہ باز، مسخرے اور گماشتے کتنے بدصورت اور بداطوار ہیں!
لیکن عمران کی مہم بھی ناکام رہے گی اگر وہ کام نہ کیا گیا جس کی اشد ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ نیب کے ادارے کی تطہیر کی جائے اور بڑے پیمانے پر کی جائے۔ مشرف نے اسے اپنے مذموم مقاصد کیلئے بنایا تھا اسلئے کوئی تعجب نہیں کہ یہ ادارہ خود ہی کرپشن کی آماجگاہ ہے۔ اس میں سے بددیانت اور پاکستان کے مفادات کے دشمن عناصرکی کاٹ چھانٹ کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس کے بغیر نیب سے بھلائی کی ہر توقع بیکار رہے گی! دیکھتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف صف آرا مجاہد، عمران کو اس کام کی اہمیت کا کتنا اندازہ ہے! یہ اندازہ ہی ان کی کامیابی یا ناکامی کی کسوٹی بنے گا۔