براڈ شیٹ کیس، جنرل مشرف اور جنرل امجد پر مقدمہ چلنا چاہیے!

319

ہمارا ملک پاکستان بھی عجیب و غریب لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف محب وطن اور ملک پر جان دینے والے لوگ ہیں تو دوسری طرف کرپٹ، بے ایمان، ڈاکو اور غیر ذمہ دار لوگ ہیں۔ اگر آپ براڈ شیٹ کیس کو غور سے سمجھیں اور تفصیلات جاننے کی کوشش کریں تو عجیب ہی کہانی سامنے آتی ہے اور اس میں بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام سامنے آتے ہیں، کیسے کیسے بڑے سیاستدان اور حکومت میں اہم عہدہ پر فائز لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، آفتاب شیر پائو، نواز شریف، جنرل امجد ،جنرل اکبر وغیرہ وغیرہ، کہانی شروع ہوتی ہے مئی 2000ء سے جب ایک شخص جس کا نام کاوے موسوی ہے چالاک ترین شخص ایک کمپنی براڈ شیٹ کے نام سے بناتا ہے جس کا کام لوگوں کی چرائی ہوئی یا چھپائی ہوئی دولت کو ڈھونڈنا ہوتا ہے، اس وقت پاکستانی نیب کے سربراہ جنرل امجد شعیب اس سے جون 2000ء میں ایک ایگریمنٹ کرتے ہیں اور اس کمپنی کو پاکستانیوں کی چرائی ہوئی یا چھپائی ہوئی دولت ڈھونڈنے کا کام دیتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کمپنی صرف ایک ماہ پہلے وجود میں آئی اس کے ساتھ جنرل امجد کیوں اتنا بڑا سمجھوتہ کرتے ہیں کہ جو دولت وہ تلاش کرے گی اس کا 20فیصد حصہ ان کو بطور کمیشن دیا جائے گا، نیب کا مقصد نواز شریف کی چوری کی ہوئی دولت ڈھونڈنا تھا، لیکن پرویز مشرف نواز شریف سے سمجھوتہ کر کے اس کو دسمبر 2000ء میں ہی سعودی عرب جانے کی اجازت دے دیتے ہیں تو اس سمجھوتے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے لیکن نیب کے سربراہ سمجھوتہ ختم نہیں کرتے۔ فوری طور پر بلکہ 2003ء تک یہ سمجھوتہ چلتا رہتا ہے بلکہ اس دوران یہ براڈ شیٹ کمپنی آفتاب شیر پائو کا نیو جرسی امریکہ میں ایک اکائونٹ ڈھونڈ کر لاتی ہے کہ آفتاب شیر پائو کے اکائونٹ میں 35لاکھ ڈالر جمع ہیں جو یقینا چوری کی ہوئی دولت ہو گی لیکن اس چوری کی دولت معلوم ہونے پر اس کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور اس کو وزیر داخلہ بننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے حالانکہ نیب کو اس کو گرفتار کر کے جیل بھیجنا چاہیے تھا اور اس سے ذرائع پوچھے جاتے لیکن وہ خود وزیر داخلہ بن گیا۔
براڈ شیٹ 2007ء تک انتظار کرتی ہے لیکن پھر 2007ء میںحکومت پاکستان کو نوٹس دیتی ہے کہ میرا 20فیصد کمیشن لائو، اب حکومت پاکستان کے کان کھڑے ہوتے ہیں اس سے بات شروع کی جاتی ہے لیکن وہ بہت چالاک ہے وہ کیس کو کورٹ میں لے جاتا ہے اور آربرٹیشن درخواست دیتا ہے، سر انتھونی اس کیس کی سماعت شروع کرتے ہیں، یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ عوام کی کمائی کا پیسہ یہ حکمران اس طرح لٹاتے ہیں جنوری 2016ء میں کیس کی سماعت شروع ہوتی ہے فیصلہ اگست 2016ء میں سنایا جاتا ہے لیکن اس سے پہلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت تقریباً 4.3ملین ڈالر ادا کر چکی ہوتی ہے لیکن موسوی نہیں مان رہا ہے۔ اس کو حرام منہ لگ گیا ہے۔ 2018ء میں کیئر ٹیکر حکومت اس کو اہم مسئلہ سمجھ کر دوبارہ اپیل میں جاتی ہے اب حکومت عمران خان کی ہے وہ بھی اس کو لمبا کھینچتے ہیں تقریباً ڈھائی سال ان کی حکومت کو بھی گزر گئے، جب لندن کے صحافی عمران ہاشمی اس مسئلے کو اٹھاتے ہیں اور موسوی کے کہنے پر اس کا انٹرویو کرتے ہیں تو پاکستانی میڈیا میں ہنگامہ مچ جاتا ہے اورآج تک وہ ہنگامہ چل رہا ہے، پورا پاکستانی میڈیا کاوے موسوی کا انٹرویو کرنے کے لئے بے چین ہے، ہر صحافی اپنے انداز سے انٹرویو کررہا ہے وہ میڈیا پر بیٹھ کر مزے لے رہا ہے، پاکستانی میڈیا کو بھی شرم نہیں آتی ہے کہ وہ ملک کی بدنامی کررہے ہیں، نئی نئی باتیں ڈھونڈ کر لارہے ہیں، عمران خان کے بھی بیانات آرہے ہیں۔
آج حکومت نے کیس کا فیصلہ عوام کے لئے کھول دیا۔ 82صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، ۱۳ صفحات بہت اہم ہیں۔سب کچھ تفصیلات ان ہی صفحات میں ہیں، کئی پردہ نشینوں کے نام اس میں شامل ہیں، کمیشن مانگنے والوں میں جیسے جنرل زاہد، علی اکبر، سابق چیئرمین واپڈا، شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس بھی کی اور سینیٹ میں بہت اہم بیان دیا۔
میری ذاتی رائے میں جنرل شعیب امجد کو گرفتار کر کے مقدمہ چلانا چاہیے اس وقت وہ ہی نیب کے انچارج تھے اور انہوں ہی نے یہ ایگریمنٹ کیا تھا جو آج تک حکومت پاکستان کے گلے کی ہڈی بناہوا ہے اس کیس میں شامل تمام لوگوں اور تمام فائدہ اٹھانے والے لوگوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔