کنفیوژن

364

ہندوستان کی سماجی حالت اور سیاست کو گہری نظر سے دیکھنا ہوگا تو کچھ رازکھل جائینگے جوبہت سے دبیز پردوں میں ہیں یہ بات توسبھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بادشاہت تھی اور بادشاہ کی زبان ہی حکم کا درجہ رکھتی تھی اور مجال کسی کو کہ حکم عدولی کرسکے؟،انگریز جب ہندوستان آیا تو اس وقت ملک میں 367 چھوٹے بڑے راجواڑے اور137 مسلم ریاستیں تھیں ان سب کے اپنے اپنے قانون اور اپنی اپنی چھوٹی چھوٹی فوجیں تھیں،بادشاہت اکھڑگئی تو ان راجواڑوں اورنوابوں کے اسٹیٹس کو انگریزوں نے استعمال کیا اور بہت سی تو ایسی لرزیں کہ خود ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کی مطیع ہوگئیں باقی کمپنی نے اپنی عیاری سے استعمال کیا۔دراصل یہ عیاری کمپنی کی سیاست تھی ، کمزور لوگ ہمیشہ یہی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا، سازش ہوئی، مگر دراصل بات یہ ہوتی کہ جو ذہنی طور پر زیادہ مستعد ہو وہ کمزور کو اپنی عقل سے زیر کرلیتا ہے اور کمزور یہی سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ،مسلمان چونکہ اقلیت میں رہتے ہوئے اکثریت پر حکومت کر رہے تھے لہٰذا ایک کھوکھلا احساس برتری سا تھا جو بری طرح پاش پاش ہو گیا اور ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ پورے ہندوستان کی حکومت اس طرح ان کے ہاتھوں سے پھسل جائے گی، بات یہ بھی تھی کہ مغل بادشاہوں کو خبر ہی نہ تھی کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے، نہ ان کو جدید علم کا پتہ تھا اور نہ ہی جدید جنگی مہارت کا، ان کو مطلب تو صرف مال سے تھا اور اس دولت پر ان کی عیاشیاں چل رہی تھیں، پھر عجیب مرحلہ پیش آیا کہ ہندوستان کے علماء نے انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کو اسلام پر حملہ قرار دے دیا اور پھر صبح شام انگریزوں کے خلاف فتوے آنے لگے، انگریزی زبان تک حرام قرار دی گئی اور کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ حضور یہ تو بتائیے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں اسلامی حکومت تھی اور اس حکومت کے تمام اقدام کیا حرام نہ تھے؟ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ تھا جو ان نام نہاد علماء نے ہندوستان کے مسلمان کے ساتھ کیا، ہندوستان کی تاریخ میں ٹیپو سلطان اور سراج االدولہ کا بڑا ذکر ہے مگر سچ بات یہ تھی کہ ان دونوں کی کوشش اپنی اپنی ریاستوں کو بچانے کی تھیں نا کہ ہندوستان سے انگریزوں کو بھگانے اور کوئی اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے 1915ء میں انگریزوں نے آل انڈیا نیشنل کانگریس قائم کر دی، عجیب بات ہے کہ یہ نیشنل جماعت تھی نیشنل یعنی قومی جماعت جبکہ ہندوستان کے لوگوں کو نیشنل کا مطلب بھی پتہ نہیں معلوم تھا، نہ سیاست کا اور نہ سیاسی جماعت اور اس کے FUNCATOINSکا اور پھر اسی جماعت کے بطن سے آل انڈیا مسلم لیگ نکلی، یہ بات آپ کو سمجھ تو آتی ہے کہ انگلستان کو جمہوریت تین سو سال کی جدوجہد، جنگوں اور بحث مباحثہ کے بعد ملی، ہندوستان کو یہ جمہوریت ایک پارٹی کے قیام سے مل گئی، ایک قوم جو راجواڑوں اور مسلم ریاستوں میں بٹی ہوئی تھی راتوں رات قوم بھی بن گئی، اس کو سیاسی جماعتیں بھی مل گئیں لیڈر بھی مل گئے یہ سب کچھ دنوں یا چند ہفتوں میں ہو گیا، یہ سب ہندوستان کے ساتھ بھونڈا مذاق تھا ایک سازش جس کی کانگریس اور مسلم لیگ کے زعماء کو سمجھ ہی نہیں آئی، بحث مباحثہ، سیاسی تربیت اور شعور کے بغیر جمہوریت کو سمجھا نہیں جاسکتا، جیسے کلمہ پڑھ کر بندہ فوری طور پر مسلمان ہو جاتا ہے، ایسے ہی اس وقت ہندوستان کے 45کروڑ افراد مشرف بہ جمہوریت ہو گئے اور بندر کے ہاتھ میں استرا دے دیا گیا تب سے جمہوریت مانگنے والا بندر اپنے گلے پر استرا چلا رہا ہے زخمی ہوتا ہے چیختا چلاتا اور پھر اس پر غشی طاری ہو جاتی ہے یہ عمل اس وقت پاکستان اور بھارت کی سیاست میں جاری ہے۔
انگریزوں نے جو نظام تعلیم دیا اس نے بھی گل کھلائے انگریزی سکولوں اور کالجوں سے جو بھی نکلا اس نے انگریزوں کو ہی برا بھلا کہا اور یہ بھی کہ ہندوستان میں سب غلط ہورہا ہے اور مذہب کو بھی کالی پڑ گئی، اندازہ لگائیے کہ سو سال کے اندر ہندوستان کے اسکولوں اور کالجوں میں سارے نظریات کا تھوڑا چورن بانٹا گیا، اسی دوران کارل مارکس کو بھی پذیرائی ملی اور کمیونسٹ پارٹی بھی بن گئی، پاکستان نے سارے انقلابی لیڈروں، ادیبوں، شاعروں کو ٹھکانے لگا دیا، ہندوستان کے چند ہی ادیبوں اور شاعروں کو MODERNISMکی ادبی تحریک کا علم ہو سکا، چپکے چپکے یہ خبر سینہ بہ سینہ چلی کہ جدیدیت خدا کو نہیں مانتی اور سرگوشی کے عالم میں یہ کہا گیا کہ نطشے اور گوئٹے نام کے دو فلسفی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ خدا مر چکا ہے اور کانوں پر ہاتھ لگا کر یہ بھی بتایا کہ توبہ توبہ اقبال بھی ان سے متاثر ہے، اسی دوران ڈارون کا بھی چرچا ہوا، نظریہ ارتقا تو اپنی طاقت کے سبب اس نے قوم کے مستقبل کو دریا برد کیا اور جاگیردار اور دینی جماعتوں سے مراسم بڑھائے، اس طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب فوج نے بھٹو کو دار پر لٹکایا اور سب سیاست دانوں کو یہ پیغام بھیجا کہ عوام کے حق میں بولنے کی سزا یہی ہو گی، اس کے بعد کسی سیاست دان کو عوام کے حق میں بولنے کی ہمت نہیں ہوئی، کہا جاتا ہے کہ یہ پیغام امریکہ نے فوج کے ذریعے ہر سیاست دان تک پہنچا دیا تھا، اس کے بعد سیاست کی اس تعریف پر کسی نے اصرار نہیں کیا کہ سیاست عوام کی معاشی، سماجی، تعلیمی ترقی کا نام ہے، فوج کا سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے عوام کو معاشی طور پر کمزور کر دیا، جس کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہ ہو وہ کیا احتجاج کرے گا اور کیا اپنے حق کے لئے آواز اٹھائے گا، تماشا یہ ہے کہ اس وقت قرآن ناظرہ پڑھانا آن لائن سب سے بڑا کاروبار ہے، جس کا عملی زندگی میں کوئی مصرف ہے ہی نہیں، حال یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شعبۂ زندگی پر فوج کی مضبوط گرفت ہے اور وہ سیاسی طور پر بادشاہ گر بھی ہیں، یہ بھی شعبدہ بازی ہے کہ دہشت گردوں کو باقی رکھا گیا ہے اور دنیا کو خوف زدہ کیا جاتا ہے کہ ان دہشت گردوں نے دنیا کا امن تباہ کر دینا ہے سو پاکستان کی مدد جاری رکھی جائے تاکہ ان کے خلاف جنگ جیتی جا سکے، افغان مسئلہ پاکستانی فوج نے خود اپنے گلے میں ڈال لیا ہے نہ یہ مسئلہ حل ہو گا اور نہ پاکستان سے فوج کی گرفت ڈھیلی پڑے گی، نہ امریکہ افغانستان سے جائے گا، گویا پاکستان میں STATUS QOUتادیر باقی رہے گا، یعنی پاکستان بفر زون ہی رہے گا، پاکستان میں نہ سیاست ہے اور نہ ہی جمہوریت جس کی بات رات دن کی جاتی ہے، آئین قانون اور انصاف کب کا بھاری بوٹوں کے نیچے ہے، فوری طور پر اس کاکوئی حل نظر نہیں آتا، ملک میں رہنما اور دانشور بھی پیدا نہیں ہوتے یہ فسطائیت کی نئی شکل ہے جو عالمی طاقتوں کے مفادات کی نگرانی کی وجہ سے معرض وجود میں آئی ہے اور جو ان عالمی قوتوں کی ضرورت بھی ہے، جب ملک میں کوئی طاقت ہے ہی نہیں تو ہاتھ جوڑ کر فوج سے ہی درخواست کی جا سکتی ہے کہ بہت ہو چکا ان بائیس کروڑ بہرے گونگوں اور اندھوں پر رحم کریں، ان کو آزاد کریں بس ان کو روٹی اور تعلیم دے دیں، ان داتا تو فوج ہی ہے شائد اس طرح ایک دو عشروں کے بعد عوام کو سیاست کا مفہوم سمجھ آجائے اور زندگی کا بھی!!!