2021ء خوش آمدید

313

بالآخر 2020ء اختتام پذیر ہو گیا، کسی بھی سال کے ختم ہونے کا دنیا نے اتنی شدت سے انتظار نہیں کیا ہو گا جتنا 2020ء کا کیا، نیا سال نئی امنگ، نئی امیدیں اور نئے جذبے لے کر آتا ہے لیکن 2020ء عجیب سال تھا، کئی سال سے 2020ء کا انتظار ہورہا تھا۔2000، 2010، 2020ء یہ وہ سال ہوتے ہیں جن میں دہائیاں بدلتی ہیں، اسی لئے ایسا لگتا ہے کہ کوئی نئی شروعات ہورہی ہیں، جیسے وقت بدل سا گیا ہو، دنیا اب گریڈ ہو گئی ہو، اسی لئے 2020ء کاانتظار تھا اور لوگ کئی چیزوں کی کئی منصوبوں کی تکمیل کی امید اس سال سے لگائے ہوئے تھے، سب سے پہلے تو 2020ء میں سمراولمپک گیمز کا انتظار تھا جو جولائی 24سے اگست 9کے درمیان ٹوکیو میں منعقد ہوتے تھے۔ جاپان ان اولمپکس کو لے کر بہت پرجوش تھا اور کیوں نہ ہوتا، 1972ء کے بعد اب ٹوکیو میں اولمپکس ہونے جارہے تھے، جاپان زور و شور سے اس کی تیاریوں میں لگا ہوا تھا۔ 2020ء میں اسی کی دہائی کی مشہور فلم Ghost Busterکا پارٹ 2بھی آرہا تھا، عموماً کسی بھی ہٹ فلم کا پارٹ 2دو چار سال میں آجاتا ہے لیکن گھوسٹ بسٹرز کے شائقین کو کافی انتظار کرنا پڑا اس فلم کے دوسرے حصے کے لئے،سب انتظار کررہے تھے کہ 2020ء میں تھیٹر میں جا کر دیکھیں گے اس کو ۔ مصر میں 2002میں ایک بہت بڑے میوزم کاپلان ہوا جس کی لاگت ایک بلین ڈالر ہے اور یہ اپنی قسم کا انوکھا میوزیم ہو گا، صرف پلاننگ میں دس سال لگے جس کے بعد باقاعدہ تعمیر شروع ہوئی، پانچ لاکھ اسکوائر میٹر جگہ میں ایک لاکھ سے زیادہ نادر و نایاب اشیاء ڈسپلے کے لئے رکھی جائیں گی، اس میوزیم کا افتتاح بھی 2020ء میں ہونا تھا۔
دوبئی میں 2020 کے Expoکا بہت چرچا تھا، اس کے انتظامات کئی برسوں سے چل رہے تھے، لیکن 2020ء میں یہ بھی نہ کھل سکا، Berlin Brandenburgایئرپورٹ جو جرمنی میں کئی سال سے زیر تعمیر تھا اس کا افتتاح بھی 2020ء میں ہونا تھا جو نہ ہو سکا۔ جب یہ ایئرپورٹ 2006ء میں بننا شروع ہوا تھا تو پلان تھا کہ 2012 ء میں اس کی تعمیر مکمل ہو جائے گی لیکن پھر تاخیر کی وجہ سے 2020ء ہو گیا، یہاں سے پہلی فلائیٹ 31اکتوبر 2020ء کو اڑنی تھی۔
ایئرپورٹ کی بات ہورہی ہے تو بادلوں سے آگے کی بات بھی کر لیتے ہیں، NASAنے 2020ء میں اپنا Marsمشن بھی لانچ کرنا تھا اور Teslaکار کمپنی جو دنیا بدلنے کا ارادہ کر چکے ہیں اپنی الیکٹرک کار کے ذریعے اس کا فل سیلف ڈرائیو کار ریلیز ہونے کا پورا امکان 2020میں تھا جو کہ نہیں ہوا۔ سب ہی کو اندازہ تھا کہ 2020ء کے الیکشن بہت ہی زبردست ہونیوالے ہیں کیونکہ ٹرمپ بہت ہی متنازعہ صدر تھے اور اسی لئے سخت مقابلہ ہونا تھا، بہت بڑی بڑی رے لیز، سکول کالجوں، یونیورسٹیوں میں بڑے اجتماعات، دھواں دھار تقریریں، یہ سب 2020ء کے الیکشنز کے لئے متوقع تھا لیکن ایسا ہوا کچھ بھی نہیں کیونکہ2020ء میں وہ کچھ ہو گیا کہ جس کے لئے پلان کسی نے بھی نہیں کیا تھا یعنی کہ Covid19۔۔۔ یہ 2020ء کے ہر پلان کو چوپٹ کر گیا، سال 2020ء صرف کووڈ وائرس کے خوف اور ویکسین آنے کے انتظار میں گزر گیا۔
سال ختم ہوتے ہوئے الیکشن تو آئے لیکن ویکسین نہیں آئی، ماسک پہن کر گھر سے نکلنا اب عام سی بات ہو گئی ہے، اگر چار پانچ لوگوں سے زیادہ جمع ہو جائیں تو فوراً احساس ہوتا ہے کہ غلط کام ہورہا ہے۔ سکول، کالج کی کلاسیں گھروں سے کمپیوٹر سکرین پرہورہی ہیں اور دفتروں کا کام بھی Work From Homeہو گیا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ 2020گزرتے گزرتے ان سب چیزوں کی عادت سی بھی ہو گئی ہے، شروع شروع میں لوگوں کو بہت شکایتیں تھیں، الجھنیں تھیں مگر وقت گزرتے وہ عادی ہو گئے، یہ انسانی فطرت ہے، شکایات بھی کم ہوتی گئیں، سب کو انتظار تھا کہ بس کسی طرح 2020ء ختم ہو جائے کیونکہ عام طور پر ذہنوں میں یہی ہے کہ جیسے ہی 2020ء ختم ہو گا وہ تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔
2021ء تو 2020ء سے بھی زیادہ عجیب شروع ہوا سب سے پہلے تو امریکہ کی تاریخ میں 6جنوری کو وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، امریکہ تو کیا غالباً دنیا کے کسی بھی مغربی ملک میں ایسا نہیں ہواتھا کہ کسی فیڈرل بلڈنگ میں اتنے لوگ گھس جائیں اور وہاں موجود 500پولیس والے کوئی خاص ایکشن نہ لیں، ساتھ ہی ٹرمپ یہ ٹھان چکے تھے کہ وہ کسی بھی حال میں اقتدار کو شریفانہ طریقے سے منتقل نہیں کریں گے، یعنی وہ آفس چھوڑ دیں گے تو بھی وہ مانیں گے نہیں کہ وہ ہار گئے ہیں۔
جس ویکسین کے انتظار میں 2020ء نکل گیا وہ بالآخر آگئی ہے، لیکن یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ جن لوگوں کو پہلی خوراک مل گئی ہے ویکسین کی ان کیلئے فی الحال دوسری بوسٹر خوراک کی کمی یادقت ہورہی ہے، یہ دوسری ڈوز تین ہفتوں بعد لگتی ہے، پہلی کے بعد اگر دوسری خوراک نہ لگی تو پہلی بھی بیکار ہو جائے گی، ابھی تو سال 2021کا آغاز ہے اور عجیب و غریب واقعات ہورہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ 2020ء کے اثرات 2021ء میں جلد ہی ختم ہو جائیں اور یہ سال اچھی، خوشگوار یادوں کے ساتھ ختم ہو۔