سیاست اور موقع پرستی

252

امریکی سینٹ میں اکثریتی جماعت کا لیڈرصدر کے بعد دوسرا طاقتور ترین شخص ہوتا ہے اسکی مرضی کے بغیر ایوان نمائندگان کی بھیجی ہوئی کوئی بھی قرارداد منظور ہو کر صدر کے دستخط کیلئے نہیں جا سکتی بعض اوقات صدر اگر سینٹ سے کوئی قرارداد منظور کروانا چاہے اور چیئرمین سینٹ اسکی منظوری نہ دے تو صدر بے بس ہو جاتا ہے گذشتہ مہینے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ہر ٹیکس دینے والے امریکی کو دو ہزار ڈالر کا گزارہ الائونس دینا چاہتے ہیںانکی یہ سخاوت ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کے عین مطابق تھی اسلئے ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے فو راًیہ قرارداد منظور کروا کے سینٹ بھجوا دی ریپبلیکن پارٹی کے سینٹ میں اکثریتی لیڈر مچ میکانل پہلے ہی چھ سوڈالر فی کس دینے سے انکار کر چکے تھے انہوں نے نئی قرارداد کے بارے میں صرف اتنا کہا کہ انکے پاس اسے منظور کروانے کیلئے ووٹ نہیں ہیں اور یوں یہ معاملہ رفت گذشت ہو گیا پچھلے چار سالوں میں یہ پہلی مرتبہ تھی کہ Mitch McConnell خم ٹھونک کر اپنی پارٹی کے صدر کے خلاف کھڑے ہوئے اور اپنی بات منوا لی دراصل ریپبلیکن پارٹی ہمیشہ سے عام آدمی کو زیادہ مراعات دینے کے حق میں نہیں رہی اسکا زیادہ رحجان اہل زر کو ٹیکس بریک دینے کی طرف رہا ہے اسکا ہمیشہ سے یہ کہنا ہے کہ ہم کاروباری طبقے کوچھوٹ اور آسانیاں دیں گے اور وہ اپنے کاروبار کو ترقی دیکر یہ ثمرات عوام کو منتقل کر دیں گے اور ایسا کسی حد تک ہوتا بھی رہا ہے اسلئے ریپبلیکن پارٹی اس پالیسی کے باوجود اپنے ووٹروں کی حمایت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے مچ میکانل کو اپنی جماعت کیطرف سے صدر ٹرمپ کی اس فیاضی کو مسترد کرنے پر کسی قسم کی مخالفت کی امید نہ تھی اسلئے انہوں نے سوچ سمجھ کر یہ چال چل دی
ریاست کنٹکی سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ سینیٹر میکانل پانچ مرتبہ سینٹر منتخب ہو چکے ہیں ایک طویل عرصے سے وہ ایک با اثر اور طاقتور سینیٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں پچھلے چار سال انکے لئے نہایت کٹھن تھے کیونکہ وہ اور انکی ریپبلیکن پارٹی ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بھی معاملے میں مخا لفت کرنے سے گھبراتی تھی یہ منتخب نمائندے صدر ٹرمپ کی ٹوئٹر پاور سے خوفزدہ تھے اور پھر ان میں سے اکثر نے الیکشن بھی لڑنے تھے اور انہیں ٹرمپ کے پرستاروں کے ووٹوں کی سخت ضرورت تھی اسلئے خاموش رہنے ہی میں انکی عافیت تھی یہ تابعداری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ریپبلیکن پارٹی صدر ٹرمپ کی ربڑ سٹیمپ بن گئی تھی ان دنوں مچ میکانل کی یہ بے بسی اسلئے بھی قابل فہم تھی کہ انہوں نے خود2020 میں سینٹ کا الیکشن لڑنا تھا اسلئے انکے پاس اپنے باس کی مکمل تابعداری کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ تھا اس حکمت عملی پر چلتے ہوے وہ پانچویں مرتبہ سینیٹر منتخب ہو گئے پھر چشم فلک نے دیکھا کہ امریکی سیاست اچانک ایک نئے دور میں داخل ہوگئی تین نومبر کے الیکشن کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہائوس سے رخصت ہونا نوشتہ دیوار بن چکا تھا مگر یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ دوسری مرتبہ مواخذے کی رسوائی کا داغ سجا کر سفید محل سے رخصت ہوں گے چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے نے امریکی سیاست کی قلب ماہیت کر دی اسکے شب وروز اب پہلے جیسے نہیں رہے ڈیموکریٹس کے حوصلے خاصے بلند ہیں اور ہر ریپبلیکن لیڈر نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ 74ملین ووٹ لینے والے ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ ہے یا اسکے مخالف ‘ اب تک کئی سرویز کے مطابق نصف سے زیادہ ریپبلیکن لیڈر ٹرمپ کی مخالفت کرنے سے انکار چکے ہیں چھ جنوری کے بعد امریکی عوام اور میڈیا کو جس شخص کے فیصلے کا سب سے زیادہ انتظار تھا وہ مچ میکانل تھا سب سوچ رہے تھے کہ چار سال تک صدر امریکہ کی ہر صحیح اور غلط بات پر مہر تصدیق ثبت کرنیوالا سینیٹر میکانل کیا فیصلہ کریگا اسکا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ ریپبلیکن پارٹی کے مستقبل پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا تھا اس نے چھ جنوری کی شام حملے کے بعد سینٹ کا اجلاس دوبارہ بلا کر یہ اشارہ دے دیا تھا کہ اسکے تیور بدلے ہوئے ہیں اس اجلاس میں الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کے بعد جوزف بائیڈن کی فتح کا اعلان ہونا تھا اس مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد اگلے روز جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سینٹ میں مواخذے کی کاروائی کے دوران صدر ٹرمپ کا ساتھ دیں گے یا نہیں تو انکا جواب یہ تھا کہ وہ دلائل سنکر ہی کوئی فیصلہ کریں گے سامنے کی بات یہی ہے کہ چار سال تک ایک برخود غلط صدر کو بھگتنے کے بعد اور کیپیٹل ہل پر اسکے بھیجے ہوے ہجوم کے حملے کے بعد سوچنے کیلئے کیا رہ جاتا ہے مگر وہ ٹرمپ کے حامیوں کیلئے لقمہ تر نہیں بننا چاہتے تھے اسلئے انہوں نے اسوقت درمیانی راستہ اختیار کرنا بہتر سمجھا نظر یہی آرہا ہے کہ وہ ریپبلیکن پارٹی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے تسلط سے آزاد کروانے کا فیصلہ کر چکے ہیںاسکی جو قیمت بھی ہو وہ اسے ادا کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں انکا حساب کتاب یہی ہے کہ اگلا صدارتی الیکشن چار سال بعد ہو گا اور انکی اپنی سینٹ کی سیٹ کا الیکشن بھی چھ سال تک نہیں ہونا لہٰذا بہت جلد ہی صدارت سے سبکدوش ہونیوالے ایک ضدی اور ہٹ دھرم شخص سے راستے جدا کرنیکا وقت آ گیا ہے اس موقع پر عرفان صدیقی صاحب کی تازہ غزل کا یہ شعر یاد آرہا ہے؎
کل تک تو قربتیں تھیںتقاضائے عافیت
اب ہر ثواب اجرو جزا فاصلے میں ہے !
اسی غزل کا ایک دوسرا شعر بھی اس صورتحال سے لگا کھاتا ہے ؎
باہر بہت گھٹن سہی ‘ یہ تو نہ تھا مگر
دستک کا ایک خوف جو گھر بیٹھنے میں ہے !
مچ میکانل ڈونلڈ ٹرمپ کی دستک کے خوف سے گھبرا کر چار سال تک باہر کی گھٹن کا سامنا کرنے سے کتراتے رہے ‘ اس دستک کا خوف اب بھی باقی ہے یہ کسی بھی وقت سنائی دے سکتی ہے مگر جب تک سینٹ میں مواخذے پر ووٹنگ نہیں ہو جاتی ٹرمپ کسی سینیٹر کو ناراض کرنیکی غلطی نہیں کریں گے وہ اسوقت تک ہوا کے رخ کو دیکھنے پر قناعت کریں گے ٹوئٹر کی طاقت کے چلے جانے کے بعد وہ اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے اس دلچسپ صورتحال پر شاد عظیم آبادی کے اس شعر کیساتھ اس کالم کا اختتام کرتے ہیں اگلی نشست میں امریکی سیاست کے عبقری سینیٹر مچ میکانل کی موقع پرست سیاست کے اسرارو رموز پر مزید بات ہو گی؎
یہ بزم ِمے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کے خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے!!