جلسوں میں عوام کو کوروناکی آگاہی بھی دیں !

250

کورونا وائرس کو ایک عالمگیر وباء بنے ایک سال ہو گیا ہے اور جو دنیا میں اس کے پھیلائو اور تباہ کاریوں کا حال ہے یہ سن ۲۰۲۲ء سے پہلے ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔اس وباء نے جس طرح معمول کی زندگی کو مفلوج کیا ہے، اور سماجی، معاشی اور تعلیمی شعبوں میں انسانوں کو جس طرح لا چار اور مجبور کر دیا ہے، اس کی مثال عہد جدید کی انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی ہو ۔
کووڈ سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ سر فہرست ہے، اس کے بعد انڈیا اور برازیل۔ وکی پیڈیا کے مطابق، متاثرہ افراد میں اموات کا تناسب ۳۰ نومبر ۲۰۲۰ء میں سب سے زیادہ یمن میںتھا جہاں 28.3%اموات ریکارڈ ہوئیں۔ اور سب سے کم سنگا پور میں جہاں یہ تناسب صرف 0.05% تھا۔۱۵ جنوری ۲۰۲۱ء کے اعداد و شمار کے مطابق، سنگا پور میں یہ تناسب 0بتایا گیا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت میں ایک کڑوڑ پانچ لاکھ سے اوپر لوگ کووڈ کا شکار ہو چکے ہیں اور ابتک ایک لاکھ اکاون ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، اموات کا تناسب متاثرہ افراد کا صرف 1.4 فیصد بنتا ہے۔ اور کل آبادی کے اعتبار سے اموات 11.22 فی لاکھ آبادی، ہوئیں ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں کو وڈ سے ہونے والی اموات کا یہ تناسب بھارت کے مقابلے میں نصف سے بھی کم یعنی 5.12 فی لاکھ تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان نے کووڈ کو بھارت کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے سنبھالا ۔ اگرچہ پاکستان میںمتاثرہ افراد میں اموات کا تناسب قدرے زیادہ تھا، یعنی 2.1% ۔ ان کے مقابلہ میں امریکہ میں ابتک دو کڑوڑ تینتیس لاکھ افراد کووڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ اور تین لاکھ اٹھاسی ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ اور اموات کا تناسب کل آبادی کا 118.76 فی لاکھ تھا۔ جو پاکستان سے ۲۳ گنا سے بھی زیادہ تھا۔ آبادی کے لحاظ سے بنگلہ دیش پاکستان سے بھی قدرے بہتر رہا جہاں 4.86 اموات فی لاکھ ہوئیں۔ اگرچہ وہاں متاثرہ افراد کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں ذرا زیادہ تھی۔ اس لحاظ سے، بنگلہ دیش نے کم از کم علاج کے سلسلہ میں پاکستان سے قدرے بہتر کارکردگی دکھائی۔
پاکستان میں کورونا کے پہلے دو متاثرہ افراد ۲۶ فروری ۲۰۲۰ء میں ، سندھ اور اسلام آباد میں پائے گئے۔۱۵ مارچ کو پنجاب میں پہلے مریض کی شناخت ہوئی۔۲۰ ستمبر ۲۰۲۰ء تک پنجاب میں تقریباً ایک لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے تھے، سندھ میں ایک لاکھ چونتیس ہزار اور کے پی کے میں ۳۷ ہزار ۳۵۷۔ کل تین لاکھ سے زائد افراد جن کو یہ مرض لاحق ہوا ، ان میں سے 6,420 وفات پا گئے۔ اور ۹۵ فیصد سے زیادہ صحتیاب ہو ئے۔
پاکستان میں عوام الناس کیا اور قایدین کیا، سب ہی ماسک (نقاب) لگانے سے بدکتے ہیں۔ یہ لوگ ماسک لگانا اپنی مردانگی کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ مختلف سیاسی جماعتوں کی میٹنگز میں نظرآتا ہے کہ سٹیج پر اگر قائدین نے ماسک لیے ہوئے بھی ہیں تو ان کے حواری سب بغیر ماسک کے نظر آتے ہیں ۔ انہی سیاسی قائدین کے جلسوں میں جیالے کارکن سب بغیر ماسک کے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ا ن کے قائدین کا رویہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ کووڈ سے بچائو کی احتیاطی تدابیر محض حکومت کا پراپیگنڈا ہے۔ ان کے اس بچگانہ رویہ سے، پاکستان بھر میں کووڈ تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ خصوصاً جب سے کووڈ۔۱۹ کی انگلینڈ سے دوسری ، زیادہ سرعت سے پھیلنے والی قسم پاکستان میں پہنچی ہے یہ خطرہ پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ چکا ہے۔ لیکن پاکستانی عوام اس کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ آج کی تازہ ترین اطلاع کے مطابق پاکستان میں کووڈ سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ سترہ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔اور تقریباً گیارہ ہزار اموات واقع ہو چکی ہیں۔ گذشتہ چند مہینوں میں اس وباء کا تیزی سے پھیلنا ، بلا شبہ سیاسی جلسے جلوسوں کا شاخسانہ ہے۔ لیکن چونکہ عوام میں اس مرض کے پھیلنے کے طریق کارسے ٓآگاہی نہ ہونے کے برابر ہے، اور سیاسی قائدین کو اپنی سیاست زیادہ عزیز ہے، یہ بیماری تیزی سے پھیلتی رہے گی۔ اور حکومت کے مخالفین سیاسی قائدین جان بوجھ کر عوام کو اس تکلیف دہ مرض کے حوالے کرتے رہیں گے۔ اور بیماری بڑھنے کا الزام حکومت پر ڈالتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ یہ وائرس انفلوائنزا اور دوسرے ایسے وائریسز سے مختلف ہے اور اس سے احتیاط کیوں اتنی مشکل ہے؟ وہ اس لیے کہ کسی مریض کو پہلے تین دن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کورونا ہو گیا ہے۔ اور وہ دوسروں کو یہ بیماری منتقل کر رہا ہے۔ دوسری وائرس کی بیماریوں میں نشانیاں شروع ہی میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اب ذرا عالمی ادارہ صحت سے سنئیے۔ اگر سب لوگ یہ بات سمجھ لیں تو اس وباء سے جلد چھٹکارا لیا جا سکتا ہے۔ کورونا وائرس جسے کو وڈ۔۱۹ ((Covid-19 کہتے ہیں، ایک ایسا جرثومہ ہے جو مریض کی ناک سے نکلتا ہے اور اس کے نہایت باریک ذرات ہوا میں پھیل جاتے ہیں۔ اگر ایسے ذرات کسی اور شخص کی ناک میں داخل ہو جائیں، تو اس شخص کو بھی بیماری لگ جاتی ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مریض کو تین دن تک کوئی اثرات نمایاں نہیں ہوتے لیکن اس اثنا میں وہ اپنے ارد گرد کے ملنے والوں، کنبہ کے ارکان کو جراثیم بانٹ سکتا ہے۔ مریض کو پہلے سانس کی تکلیف شروع ہوتی ہے جو بہت معمولی یا تھوڑی بہت محسوس ہوتی ہے۔بہت سے لوگ اس کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔لیکن بوڑھے لوگ جو پہلے سے ہی پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جیسے فشار خون، قلبی بیماریاں، ذیابیطس، اور پرانی سانس کی تکالیف میں مبتلا ہوتے ہیں، ان میں یہ بیماری شدید نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت ( WHO ) کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام اور پھیلائو میں کمی لانے کا طریقہ یہ ہے کہ لوگوں میں اس وائرس کے بارے میں بہت اچھی آگاہی ہو کہ یہ بیمار ی کیسے ہوتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ ُ اپنی حفاظت بھی کریں اور اور دوسروں کی بھی۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اپنے ہاتھ اچھی طرح سے دھوتے رہیں یا کسی اچھے جراثیم کُش محلول کو ہاتھوں پر ملتے رہیں اور اپنے چہرے کو مت چھوئیں۔ (بہتر ہو گا کہ چہرے پر ایک مناسب قسم کا نقاب پہنیں جو منہ اور ناک کو اچھی طرح سے چھپا دے)۔ کورونا کے ذرات بنیادی طور پر مریض کے تھوک اور ناک کے اخراج سے (جب وہ کھانسے یا چھینک مارے) دوسروں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اس لیے چاہیے کہ جب کھانسیں یا چھینکیں تو اپنے بازو سے منہ کو ڈھک لیں۔
کورونا کے بڑے اورنمایاں آثار یہ ہیں: بخار، خشک کھانسی اور تھکاوٹ۔ دوسری نشانیاں جو سب میں نہیں نظر آتیں: ذائقہ اور سونگھنے میں کمی، ناک بند، آنکھوں میں سرخی، گلا خراب، سر درد، پٹھوں یا جوڑوں میں درد، جلد پر سرخی مائل نشانات، دل خراب ہونا یا الٹی آنا، دست، جاڑا لگنا یا چکر آنا۔ البتہ اگر کورونا کا مرض شدت اختیارکر لے تواس کی نشانیاں یہ ہیں: سانس چڑھنا، بھوک نہ لگنا، وغیرہ۔
سوشل میڈیا اس بیماری کی روک تھام اور علاج کے نسخوں سے بھرا ہو ہے۔ ان میں حکیموں کے نسخے، مذہبی حضرات کے ٹوٹکے، اور ڈاکٹروں کے مخلصانہ مشورے سب شامل ہیں۔ امریکہ کی انجمن برائے بزرگان، نے اپنے تازہ ترین نیوز لیٹر میں ایسے مشوروں کی ایک لسٹ دی ہے اور بتایا ہے کہ کیا واقعی مفید ہے اور کیا نہیں۔سب سے پہلے ماسک یا نقاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں جتنی زیادہ کپڑے کی تہیں ہوں گی اور جتنا بہتر وہ منہ اور ناک کو چھپائے گا اتنا ہی بہتر ہے۔ خالی ایک تہ کے کپڑے کا ماسک نا کافی ہے کیونکہ بہت باریک وائرس کے جرثومہ اس سے گزر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے برقعہ بھی نا کافی ہے اور جو لوگ پلاسٹک کی شیلڈ چہرے پر لگاتے ہیں وہ بھی صرف ساٹھ فیصد موثر ہوتی ہیں، ان کے ساتھ ماسک بھی استعمال کرنا چاہیے۔
ہینڈ سینیٹائزر اچھی چیز ہے یہ کام کرتے ہیں اگر کئی بار لگائے جائیں اور ان میں کم از کم ۶۰ فیصدایتھانول ہو۔
مائوتھ واش اس بیماری میں اتنا مفید نہیں کیونکہ وائرس ناک کے رستے دوسروں تک پہنچتا ہے۔اگر قوت مدافعت بڑھانی مقصود ہو تو وٹامن سی، بی اور زنک اتنے مفید نہیں جتنا وٹامن ڈی۔اس کے چھ سو سے آٹھ سو انٹر نیشنل یونٹس کی ایک گولی روزآنہ کافی ہے۔
کووڈ،۱۹ اتنی جلدی دنیا سے رخصت نہیں ہونے والا۔ یہ مرض کوئی تعجب نہیں کہ سن ۲۰۲۲ء تک یا اس کے بعد بھی ہمارے ساتھ رہے۔ اب صرف ایک ہی امید ہے کہ کوئی موثر ٹیکہ ایجاد ہو جائے ۔ امریکہ میں دو کمپنیوں، فائزر اور موڈرنا کے ٹیکے ایف ڈی اے نے ہنگامی حالت کی وجہ سے منظور کر دیئے ہیں اور وہ گذشتہ دو ہفتوں سے کئی شہروں میں لگائے جا رہے ہیں۔ یہ ٹیکے تب ہی موثر ہو ں گے جب دو دفعہ لگیں۔ اور تین ہفتوں کے وقفہ میں۔اور دوسرا ڈوز لگنے کے تین ہفتوں کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ ایک سو میں سے۹۵ افراد کو کورونا لگنے سے کوئی دیرپا نقصان نہیں ہو گا۔ٹیکے تو دنیا کے اور ملکوں میں بھی بن گئے ہیں یا بننے والے ہیں۔ مثلاً انگلینڈ میں آکسفورڈ یونیورسٹی والوں کا ٹیکہ بھی منظور کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ چین، بھارت اور روس نے بھی ٹیکے بنا لیے ہیں۔ لیکن معتبر کمپنیوں کے ٹیکوں کی مانگ زیادہ ہے اگرچہ ان کی پیداوارانہ صلاحیت اتنی نہیں کہ وہ سب کی مانگ کو پورا کر سکے۔ یہی نہیں۔ ٹیکوں کا حصول اس تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ، ان ٹیکوں کی ترسیل، لگانے والے سٹاف کی مناسب تعداد اور دیگر انتظامی امور جن میں اس سارے مراحل میں درکار اخراجات کا پورا کرنا۔ امریکہ جیسے امیر ملک میں بھی اگرچہ ٹیکوں کی قیمت عوام سے وصول نہیں کی جائے گی، جو غالباً ۲۰ یا ۲۵ ڈالر فی انجیکشن ہے، اس پر انتظامی اخراجات کے بل انشورینس کمپنیوں سے لیے جائیں گے۔ ایک اندازہ ہے، کہ اگر توقع کے مطابق ٹیکوں کی فراہمی ہوتی رہی اور وہ عوام کو لگائے جا سکے تو شاید اسی سال ستمبر تک امریکہ میں حالات معمول پر آ جائیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آبادی کا اسی فیصد ٹیکے نہیں لگوا لیتا، احتیاطی تدابیر کو نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
ان حالات کے پیش نظر پاکستان کے عوام کو ماسک لگانے، چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے اور دن میں متعد بار صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنانے پر اکسانا نہایت ضروری ہے۔ البتہ اگر پاکستانی ٹیکے لگانے میں بھی سمارٹ لاک ڈائون والا طریقہ اختیار کریں تو شاید جلد اس بلا پر قابو پا سکیں۔ابھی جو حالات ہیں، اور سیاسی جماعتیں جو اپنے سیاسی اہداف کے لیے ملک میں ہجوم بنانے اور طاقت کے مظاہرے کرنے کی حکمت عملی پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں، کوئی اچنبہ نہیں کہ یہ عالمی وباء ہمارا پیچھا آیندہ دو سال تک نہ چھوڑے۔ اس سے نہ صرف ملک کی اقتصادی حا لت کو شدید خطرہ ہے، ہمارا اجتماعی نفسیاتی بریک ڈائون ہونے کا بھی خدشہ ر ہے گا۔