بچا کچاپاکستان!!

294

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے وہ پاکستان بنایا تھا جو بنگال، پنجاب، سندھ، نارتھ ویسٹ فرنٹیئر اور بلوچستان کے بعض علاقوں پر مشتمل تھا۔ جس کو جنرلوں نے سولہ دسمبر 1971ء کو توڑ ڈالا جس کو بعد میں بچا کچا پاکستان کہا گیا جو آج قائد کا پاکستان نہیں ہے، جس کی مثال سابقہ سوویت یونین کی ہے جو تحلیل ہونے کے بعد روس اور گیارہ ممالک پر مشتمل ہے جس طرح قائد کا پاکستان آج بنگلہ دیش اور موجودہ بچے کچے علاقوں پر مشتمل پاکستان ہے یا پھر آج کاامریکہ جارج واشنگٹن کا نہیں ہے جو ان کے وقت میں صرف تیرہ ریاستوں پر مشتمل تھا جس کو بعد میں مختلف جنگوں اور جنرلوں نے پچاس ریاستوں کا ملک بنا دیا جس میں ریاستوں کا اضافہ ہوا جس کو آج خطرات لاحق ہو چکے ہیں، لہٰذاآج کا پاکستان کل کا پاکستان نہیں ہے جو قائداعظم کا نہیں جنرلوں کا بچا کچاپاکستان کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا جو بنگال کے بغیر مکمل نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے اصلی خالق بنگال اور اہل بنگال تھے جنہوں نے خالق پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ قرارداد لاہور منظور کرائی، پاکستان کی حمایت میں ووٹ دیا جس کو ہمارے جنرلوں نے مار مار کر الگ کر دیا، تاہم پاکستان ایک مرتبہ توڑ دیا گیا اس پر آج تک اشرافیہ کو کوئی افسوس اور ندامت نہیں ہے جن کو کل بھی توڑنے کی ضرورت پڑی تو وہ ملک توڑنے سے گریز نہیں کرے گی۔
پاکستان دنیا کا واحد بدقسمت ملک ہے یہاں آئین شکنی کر کے دو دفعہ آئین منسوخ اور تین مرتبہ آئین معطل کیا گیا جس کی عہد جدید میں مثال نہیں ملتی، جس کی بدولت ریاست پاکستان کے اوپر ایک ریاست وجود میں آئی ہے جو طاقتور اور مضبوط ہے جس کے حکمران پیسیے پاکستانی ریاست سے وصول کرتے ہیں مگر حکمرانی اپنی اپنائے ہوئے ہیں جس سے پاکستانی ریاست ایک بنانا ریاست بن کر رہ گئی ہے کہ آج پاکستانی ریاست کا ہوائی جہاز ملائیشیا میں ضبط کر لیا گیا ہے کیونکہ حکمرانوں نے اس کی لیز کے پیسے ادا نہیں کئے تھے جو ایک شرم کا مقام ہے کہ آج ہوائی جہاز کو ضبط کیا گیا ہے کل ساہوکار ایٹم بم پر قبضہ کر سکتے ہیں جس کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں مگر مارشل لاء نما حکمران طبقہ ابھی تک قرضوں، لیزوں، مہنگائی، بیروزگاری، بھوک، ننگ کو پچھلے حکمرانوں پر ڈال کر اپنے آپ کو بیوقوف بنارہے ہیں جو احمق اور نااہل ہیں کہ جن کو ریاستی معاملات کا علم تک نہیں ہے، جو نہیں جانتے کہ ریاست کیا ہوتی ہے اور اس کے معاہدے کیا ہوتے ہیں اور ریاست کے حکمران کیا کہلاتے ہیں اگر موجودہ حالات و واقعات پر نگائیں دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پھر دوبارہ 1971ء والی شکل اختیار کر چکا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کل بنگال پریشان اور بے چین تھا آج پورا پاکستان بے چین ہو چکا ہے، جس کے عوام موجودہ حکمرانوں کے خلاف اٹھے ہوئے ہیں جس میں اہل پنجاب پیش پیش ہیں جن کے ساتھ موجودہ حکمرانوں نے نہ صرف زیادتیاں کی ہیں بلکہ پورے صوبے کے عوام کو بدحال اور بے حال کر دیا ہے جن کی ترقی روک دی گئی ہے جس سے صوبہ بھر میں مہنگائی، بیروزگاری کا طوفان برپا ہے۔ جو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے۔ کل جب بنگال کو الگ کرنا تھا تو جنرل ایوب خان نے اپنے وزیر قانون جسٹس منیر احمد جس نے پاکستان پر آمریت مسلط کرنے کی بنیادرکھی تھی نے بنگال کی قیادت کو الگ ہونے کا پیغام دیا جس کو بنگالی قیادت نے رد کر دیا تھا کہ ملک ہم نے بنایا ہے ہم کیوں الگ ہوں، آپ الگ ہو جائیں مگر جنرل یحییٰ خان نے صاف شفاف انتخابات کرائے جس میں شیخ مجیب الرحمن کی اکثریتی پارٹی عوامی لیگ جیتی جس کو جنرل یحییٰ خان نے اقتدار دینے سے انکار کر دیا جو ملک ٹوٹنے کا سبب بنا تھا آج پھر ملک کی اکثریتی پارٹیوں کو اقتدار سے الگ تھلگ رکھ کر پاکستان کو توڑنے کی سازش کی۔
جس پر پاکستان کے اہل علم دانش بہت پریشان ہیں کہ ملک کو دوسری کوئی ٹریجڈی سے نہ گزرنا پڑے کیونکہ بلوچستان پر پانچواں آپریشن جاری ہے جس کے عوام قتل عام سے تنگ آچکے ہیں لہٰذا بلوچستان کو بھی بنگال کی طرح الگ کر دیا جائے گا کہ جس طرح بنگال میں سیلابوں کے علاوہ کچھ نہ تھا، بنگال ایک ہزار میل دور تھا، بنگالی عوام چاول کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ،واحیات تاویلیں پیش کی جاتی تھیں یہی حال بلوچستان کا ہے وہاں خشک پہاڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے یہ جانتے ہوئے کہ بلوچستان عرب کے ریگستانوں کی طرح سونے کی چڑیا ہے یہاں سونا، چاندی اور دوسری معدنیات پائی جاتی ہیں، جو پورے ملک کو گیس فراہم کررہا ہے، سی پیک کے بغیر چین سے تجارت ناممکن ہے مگر اشرافیہ کے لئے یہ سب کچھ جائے بھاڑ میں، وہ بنگال جو کل ناکارہ تھا اس کی معیشت پاکستان سے کہیں آگے ہے، جو ہر لحاظ سے پاکستان سے ترقی میں آگے ہے مگر پاکستانی اشرافیہ کو اپنے ایٹم بم پر ناز ہے جو روس کی طرح بالکل ناکارہ ثابت ہو گا، جب پاکستان عوام بھوک، ننگ سے تنگ آ کر سڑکوں پر ڈنڈے، سوٹے اور ہتھیار لے کر باہر نکل آئیں گے تو انہیں بم نہیں بچا پائے گا۔