دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!!

419

جاوید احمد غامدی کے شاگرد خورشید ندیم نے اپنے ایک حالیہ کالم میں مثالی سیاست مردہ باد اور غلیظ سیاست زندہ باد کا نعرہ لگادیا ہے۔
خورشید ندیم نے لکھا ہے۔’’خلافت راشدہ ایک استثنا ہے کہ یہ مختصر دور ایک الٰہی نصوبے کا حصہ اور اللہ کی ایک خاص سنت کا ظہور تھا ورنہ سیاست، تاریخ میں کبھی مثالی نہیں رہی۔ ان پہ حیرت ہے جو معاصر اہل سیاست کو مثالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ حیرت در حیرت یہ ہے کہ اپنی سادہ لوحی کے باعث رومان پالتے ہیں۔ ذہن میں ایک آئیڈیل تراشتے اور پھر گوشت پوست کے کسی انسان میں اس آ ئیڈیل کو مجسم دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ انسان اور اس کے حواری، اس سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے اور انہیں باور کراتے ہیں کہ ہاں، یہی تمہارے خوابوں کی تعبیر ہے‘‘۔
(روزنامہ دنیا۔ 19 دسمبر 2020ء )
خورشید ندیم کو ساری زندگی اسلام اسلام کرتے ہوگئی مگر ان پر اب تک اسلام کے معنی آ شکار نہیں ہوئے۔ اسلام کسی ایک زمانے تک محدود نہیں، اسلام ایک دائمی یا ابدی حقیقت ہے۔ اس کا ’’کمال‘‘ اور اس کا ’’جمال‘‘ سب سے زیادہ عہد رسالت میں ظاہر ہوا۔ اس سلسلے میں خلافت راشدہ کا نمبر دوسرا ہے۔ لیکن اسلام کے ’’کمال‘‘ اور ’’جمال‘‘ کا ظہور عہد خلافت پر ختم نہیں ہوگیا۔ امت مسلمہ نے خلافت راشدہ کے بعد ایسے ہزاروں صوفیا، علما ء اور درویش پیدا کیے جو خلفائے راشدین کے کمال اور جمال کا مظہر تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے کمال اور جمال کے کسی خاص عہد سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک مثالی سیاست کا تعلق ہے تو عمر بن عبدالعزیز کی سیاست مثالی تھی۔ اس لیے ہماری تاریخ انہیں خلیفہ ٔپنجم بھی کہتی ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر ملوک میں سے تھے مگر ایک کمتر سطح پر اورنگ زیب کی زندگی اور اس کی سیاست بھی مثالی تھی۔ التمش کو بھی تاریخ نے بہت اچھے الفاظ میں یاد کیا ہے۔ اس کی سیاست پہ بھی اسلام کے کمال اور جمال کا گہرا اثر تھا۔ ناصر الدین نے بھی بہترین سیاست کا مظاہرہ کیا حالانکہ وہ بھی ملوک میں سے تھا۔ ہمارے عہد میں قائد اعظم کی سیاست اپنی سطح پر مثالی تھی۔ وہ ایماندار تھے۔ عہد کی پاسداری کرتے تھے۔ انہیں نہ خریدا جاسکتا تھا نہ ڈرایا جاسکتا تھا نہ جھکایا جاسکتا تھا۔ ایسا نہ ہوتا تو پاکستان بن ہی نہیں سکتا تھا۔ جماعت اسلامی اپنے قیام سے آج تک مثالی سیاست کی ایک مثال بنی ہوئی ہے۔ آپ جماعت اسلامی کی کسی پالیسی سے اختلاف کرسکتے ہیں مگر جماعت اسلامی کے کسی رہنما یا منتخب نمائندے پر بدعنوانی کا الزام نہیں لگا سکتے۔ گزشتہ پچاس سال کے دوران جماعت اسلامی کے سیکڑوں لوگ منتخب ایوانوں میں پہنچے مگر ان کا دامن صاف رہا۔ جماعت اسلامی مختصر وقت کے لیے جنرل ضیا الحق کی کابینہ کا حصہ رہی مگر اس کا سبب کوئی مذہب گریز رجحان نہیں تھا۔ جماعت اسلامی کا تجزیہ غلط تھا۔ نیت ٹھیک تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ 20 ویں اور 21 ویں صدی میں بھی بڑی حد تک سیاست کو مثالی بنایا جاسکتا ہے۔
حیرت ہے کہ پچاس سال سے زیادہ عمر پانے کے باوجود خورشید ندیم کو اتنی سی بات معلوم نہیں کہ مثالیت پسندی یا Idealism ہی سے زندگی، زندگی اور انسان، انسان بنتا ہے۔ زندگی کا بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ زندگی کیسی ہے بلکہ زندگی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ زندگی کو کیسا ہونا چاہیے۔ زندگی کو کیسا ہونا چاہیے کا سوال ہمارے مذہب، ہماری تہذیب، ہماری تاریخ اور ان کرداری نمونوں سے متعلق ہے جو ہماری تاریخ نے ہمارے حوالے کیے ہیں۔ یہ طے ہے کہ کوئی شخص بھی رسول اکرمؐ کی طرح نہیں ہوسکتا مگر رہتی دنیا تک رسول اکرمؐ کا اسوئہ حسنہ ہی ہمارے لیے ’’معیار‘‘ رہے گا۔ مثالیت پسندی دراصل ’’معیار‘‘ ہی کا دوسرا نام ہے۔ زندگی جیسی ہے اگر ہم اس کو ویسا ہی قبول کرلیں اور اس کے حسن و جمال اور اس کی معنویت میں اضافے کے لیے کوشش نہ کریں تو ہم کیا پوری انسانیت تباہ ہوجائے گی۔ تباہ کیا ہوجائے گی تباہ ہوچکی ہے۔ اس وقت انسانیت کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا سبب یہی ہے کہ انسانوں نے زندگی کو جوں کا توں قبول کرلیا ہے اور ان کے سامنے زندگی کا کوئی بڑا Ideal نہیں ہے۔ خورشید ندیم کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سیاست ایک گٹر ہے اور اسے گٹر ہی رہنا چاہیے اسے شفاف جھیل میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ وہ تو زبان حال سے یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ دراصل سیاست کو بہتر بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ بدقسمتی سے خورشید ندیم کاآئیڈیل میاں نواز شریف ہیں اور وہ میاں نواز شریف اور ان کی سیاست کو Justify کرنے کے لیے پوری انسانی تاریخ پر تھوک رہے ہیں۔
خورشید ندیم مزید لکھتے ہیں:’’یہ مثالیت پسندی صرف عوام کا مسئلہ نہیں، اخبار اور ٹی وی کے تجزیے بھی اسی معیار پر سیاسی رہنمائوں کو پرکھتے ہیں۔ ان تجزیہ کاروں میں سے اکثر عوام کی طرح سادہ لوح نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب صحافت اور مذہب کی دنیا مثالی نہیں تو سیاست کیسے مثالی ہوسکتی ہے؟ وہ عوام کی سادہ لوحی سے خوب واقف ہیں۔ انہوں نے عوامی خوابوں کی سوداگری کو بطور پیشہ اپنا لیا ہے۔ یہ تاریخ کے سچے جھوٹے قصے سناتے ہیں، جب اس دنیا پر عادل بادشاہ حکمرانی کیا کرتے تھے۔ ان کی راتیں گلیوں میں گشت کرتے یا مصلے پرآنسو بہاتے گزرتیں اور دن مزدوری کرتے اور لوگوں کے گھروں میں خوراک پہنچاتے‘‘۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ میں خواب دیکھنے والوں کا کال پڑا ہوا ہے مگر جو دو چار لوگ عوام کو مثالیت پسندی کا درس دے رہے ہیں خورشید ندیم ان سے بھی سخت ناراض ہیں۔ انہیں انہوں نے ’’خوابوں کے سوداگر‘‘ کا خطاب دے دیا ہے۔ خورشید ندیم نے کبھی غور نہیں کیا اقبال کی پوری شاعری خواب دیکھنے اور خواب دکھانے کا عمل ہے۔
خورشید ندیم نے اقبال کی شاعری اور نثر یعنی خطبات کا بھی موازنہ فرمایا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شاعری سنگ ہائے میل کی خبر نہیں دے سکتی۔ سنگ ہائے میل کی خبر اقبال نے اپنی نثر میں دی ہے۔ خورشید ندیم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اقبال نے شاعروں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومیں شاعروں کے دل میں پیدا ہوتی ہیں اور سیاست دانوں کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں۔ رہی اقبال کی شاعری اور ان کی نثر تو اقبال کی نثر ان کی شاعری کا پاسنگ بھی نہیں۔