ٹرمپ کی سربراہی میں امریکہ میں سفید فام دہشتگردی یا کرسچین دہشت گردی نے داعش اور طالبان کو شرما دیا!

350

کل تک جو امریکی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، وزراء اور سفراء، ایجنسیاں اور این جی اوز مسلم دہشت گرد، اسلامی دہشت گردی اور اسلامی انتہا پسندی کی تکرار کے ساتھ گردان کرتے نہیں تھکتے تھے آج واشنگٹن میں ہونے والی کھلم کھلا سفید فام انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے حملے پر منہ چھپائے پھررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر ہونے والی اس دہشت گردی اور دہشت گردوں کو امریکہ کے انتہا پسند سفید فام ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شکست کے بعد بڑھاوا دیا جو امریکی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے اور آئندہ چھپنے والی امریکی ہسٹری کی کتابوں میں نہ چاہتے ہوئے بھی چھ جنوری دو ہزار اکیس کے دن کو سیاہ ترین روز لکھا جائے گا اور تعلیمی اداروں میں وہ کتابیں جب پڑھائی جائیں گی تو سفید فاموں کا منہ چڑائیں گی۔ یہ الگ بات کہ اگر آئندہ مستقبل میں اگر کوئی ٹرمپ سے بھی سڑا ہوا بدبودار انتہا پسند اور سفید فام صدر اقتدار میں آگیا تو وہ پھر ان سب ہسٹری کی کتابوں کو جلا دے گا اور عین ممکن ہے کہ اگر 2024ء میں یہ ہی ذہنی طور سے معذور شخص دوبارہ الیکشن جیت جائے تو تمام غیر سفید فاموں کو امریکہ چھوڑنا پڑ جائے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ نینسی پلوسی امریکی تاریخ میں ایک ہی صدر کو دوسری بار مواخذہ کر کے اقتدار سے ہٹانے کی قانونی اور جمہوری جنگ لڑرہی ہیں کیونکہ اس کے بعد اس شیطان صفت شخص کا دوبارہ کسی بھی پبلک آفس میں داخل ہونا ناممکن ہو جائے گا۔ اس دہشت گردی کے نتیجے میں پانچ انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئیں جن میں ڈیوٹی پر معمور ایک پولیس آفیسر بھی شامل ہے۔ امریکی میڈیا سمیت کچھ لوگ اس دہشت گردی کا موازنہ کبھی تھرڈ ورلڈ کے ممالک سے، کبھی پاکستان، افغانستان ،شام، عراق اور مڈل ایسٹ سے اور افریقی ممالک سے کررہے ہیں لیکن جس دقت ہم براہ راست کیپٹل ہل کی اس ‘‘کے کے کے ‘‘ کے دہشت گردی کے مناظر ٹی وی پر براہ راست دیکھ رہے تھے تو ہم اس کا کچھ اور ہی موازنہ کررہے تھے۔ کچھ لوگ مختلف مجسموں پر چڑھے ہوئے تھے، کچھ لوگ کیپٹل ہل کے آفسوں کی کھڑکیاں اور درازے اور شیشے توڑرہے تھے، کچھ لوگ ریلنگ کو افقی کھڑی کر کے سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے اوپر چڑھ رہے تھے، کوئی سپیکر نینسی پلوسی کا ڈائس لوٹ کر لے جارہا تھا، کوئی ان کا لیپ ٹاپ پکڑے جارہا تھا، کوئی ڈیسک پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا، کوئی فائرنگ کررہا تھا، کسی کے ہاتھ میں چھ فٹ کا نیزہ تھا، غرض یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی ہورہی ہے۔
ہمارے ذہن میں اس وقت یہ موازنہ چل رہا تھا کہ اگر ان سفید فاموں کی جگہ اگر یہ لوگ مسلمان ہوتے تو ایک ایک شخص کو شوٹ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا، کیپٹل ہل کے دفاتر کے اندر خون کی ندیاں بہا دی جاتیں اور میڈیا کے پنڈت مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہر آلود اور نفرت انگیز ریمارکس دے رہے ہوتے۔ جن اشخاص کے مادرِ وطن یعنی وطن حقیقی کا معلوم ہوتا جاتا ان پر حملوں کی تیاریاں ہو چکی ہوتیں، سفارتی تعلقات ختم کر لئے گئے ہوتے، دنیا کے کسی بھی مسلم ملک سے مسافروں کی آمد پر پابندی لگ چکی ہوتی اور امریکہ بھر میں اسکے رشتہ داروں اور لواحقین کو پابند سلاسل کیا جا چکا ہوتا اور پورے امریکہ میں ان کے گھروں اور تجارتی اداروں کوآگ لا دی جا چکی ہوتی لیکن ذرا سوچیے ان دہشت گردوں کے ساتھ ایسا کیوں نہ ہوا؟ وہ اس لئے نہ ہوا کیونکہ یہ دہشت گرد ان کے اپنے سفید فام بھائی تھے، ان کے اپنے ہم مذہب چرچ کے بھائی نہیں تھے، ان کے اپنے سفید فام بالادستی کے پیروکار تھے۔ پولیس بھی سفید فام، سی آئی اے بھی سفید فام، ہوم لینڈ سکیورٹی بھی سفید فام، فیڈرل ایجنٹس بھی سفید فام، ایف بی آئی بھی سفید فام، نیشنل گارڈز سولجرز بھی سفید فام، یو ایس ٹروپس بھی سفید فام، صدر بھی سفید فام، نومنتخب صدر بھی سفید فام تو خود ہی سوچئے بھلا سفید فام اپنے سفید فام بھائی کو شوٹ کر سکتا ہے؟ چلئے لفظ ’’مسلم‘‘ کو بھی چھوڑئیے، اگر ان سفید فاموں کی جگہ سیاہ فام ہوتے تو ری ایکشن یہ ہوتا؟ مذاق کررہے ہیں آپ!