’’ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے‘‘ آہ۔ نصیر ترابی

383

رخت سفر باندھا، زادراہ لیا اور روانہ ہو گئے، یہ تھے نصیر ترابی، نصیر ترابی علامہ رشید ترابی کے فرزند تھے، علامہ صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان جیسا مقرر آج تک پیدا نہ ہو سکا، انہوں نے بہت سے عنوانات کا انتخاب کیا اور تقریریں کیں، جب آپ تقریر کرتے قرب و جوار کی تمام سڑکیں ہجوم سے بھر جاتی تھیں لوگ زمین پر بیٹھے بڑی محویت سے انہیں سنا کرتے، اس ہجوم میں مختلف مکتبۂ فکر کے لوگ ہوتے تھے، وہ ہر ایک سوال کا خواہ وہ کسی مذہب کے شخص نے اٹھایا ہو مدلل حوالوں سے جواب دیتے تھے۔
نصیر ترابی جب اسکول میں زیر تعلیم تھے تو ایک دفعہ ایک مباحثے میں ان کی تقریر کو تیسرا انعام ملا، ان کے استاد نے کہا ’’اب کی دفعہ باپ سے اچھی تقریر لکھوا کر لانا‘‘ اس وقت انہوں نے اپنی سوچ کا دھارا دوسری طرف موڑ دیا۔ اگر ان سے غلطی ہوتی تو الزام کہاں جاتا اور اگر تعریف ہوتی تب بھی ان کی شخصیت دب جاتی۔ وہ خود کہتے تھے ایک گھنے سایہ دار درخت کے نیچے ایک کمزور پودے کی کیا حیثیت ہے۔ حالانکہ ان کے لئے مقرر بننا چنداں مشکل نہ تھا، عقیل ترابی ان کے بڑے بھائی بھی باپ کے مقابلے پر نہ آسکے، نصیر ترابی نے ایک نئے راستے کا انتخاب کیا، وہ شعر و شاعری اور ادب کی طرف چلے گئے، کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز کیا، 60 کی دہائی کے رواح رواں رہے لیکن عوام میں ان کی پذیرائی نہ ہو سکی کیونکہ مطلبی انسان نہیں تھے، بے انتہا خوددار اور اناپرست تھے۔ شہرت کے لئے بھی کاسہ لیسی نہیں کی، وہ دل میں اترنے والی شخصیت تھے، مشرق کا یہ دستور رہا ہے کہ لوگ مردہ پرست ہیں، جب تک انسان ان کے درمیان ہوتا ہے اس کی صحیح قیمت کا انہیں اندازہ نہیں ہوتا لیکن مرنے کے بعد اس میں بہت ساری خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ نصیر ترابی تو تھے بے مثال لیکن بعض ایسے لوگ جن میں کوئی بھی قابل تعریف بات نہیں ہوتی مرنے کے بعد وہ بڑا معتبر ہو جاتا ہے اور وہ خصوصیات بھی اس سے جوڑ دی جاتی ہیں جو اس میں نہیں ہوتیں۔ نصیر بھائی کی ذہانت ان کے وجدان کی بہت ساری تہیں جس کی دریافت مشکل ہے۔ ڈرامہ ہم سفر پیش ہوا، اس میں قرۃ العین کی آواز میں ایک غزل ریکارڈ کی گئی، قرۃ العین نے خود کہا کہ اس غزل میں اتنی روانی تھی کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، یہ غزل پہلے طاہرہ خانم بھی گا چکی تھیں، اب لوگ چکرا گئے کہ غزل ہے کس کی، تلاش کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ شاعر نصیر ترابی ہیں اور یہ غزل بغیر شاعر کے نام کے پورے ڈرامے میں چلی، جیسا کہ عام طور پر شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ بے انصافی ہوتی ہے، ڈرامے میں یہ غزل اسی طرح گھل مل گئی کہ لگتا تھا اس کے لئے لکھی گئی ہو لیکن نصیر ترابی صاحب نے اس غزل کے نزول کے بارے میں بتایا کہ میں آفس میں بیٹھا تھا 16دسمبر کو دن کے گیارہ بجے کسی دوست نے سقوط ڈھاکہ کی خبر دی، دل پر کیا گزری ہو گی وہ تو ناقابل بیان ہے بہرحال کچھ احوال اس غزل میں بھی بیان کر دیا گیا، ڈرامے میں ان کی غزل بغیر ان کے نام کے چلتی رہی، بعد میں لوگوں کو جب پتہ چلا کہ صاحب کلام کون ہے تو بہت معافی تلافی ہوئی، اس ڈرامے کی پوری ٹیم کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ غزل کے شاعر کو بھی ایوارڈ ملا لیکن باوجود کافی اصرار کے وہ انعام لینے نہیں آئے، ماہرہ خان بھابھی (بیگم)نے ایوارڈ وصول کیا( ان کی ایک اور غزل ڈرامے ’’زندگی گلزار ہے‘‘ میں گائی گئی۔ ’’زندگی خاک نہ تھی، خاک اڑاتے گزری‘‘
اب جبکہ نصیر ترابی اس دنیا میں نہیں رہے، ان کے کلام پر ان کی شاعری اور نثر پر بہت کچھ لکھا جائے گا، لیکن یہاں پر ان کی زندگی کے ساتھ رویوں کا بیان بہتر رہے گا۔ نہایت مخلص انسان تھے، کسی کی پریشانی نہیں دیکھ سکتے تھے، دامے، درمے، سخنے مدد کرنے سے نہیں چوکتے تھے، غم کے مواقع پر تسلی دینے کا بھی ان کا یہ منفرد انداز تھا جب جمیل الدین عالی کی والدہ کی رحلت ہوئی تو وہ نصیر بھائی سے بغلگیر ہو کر رونے لگے، نصیر میر ی دعائوں کا دروازہ بند ہو گیا ، نہیں عالی دعائیں کبھی بند نہیں ہوتیں، اس کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ ایک صاحبہ کی بیٹی کو طلاق ہوئی تو وہ دن رات روتی رہتی تھیں‘‘ نصیر بھائی کو معلوم ہوا تو انہوں نے خاتون کو تسلی دی اور کہا کہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اور تربیت دی یہ آپ کے بس میں تھا لیکن طلاق معاملہ ہے مقدر کا اور آپ مقدر سے نہیں لڑ سکتیں اور پھر ان خاتون کو صبر آگیا واقعی مقدر سے رسہ کشی نہیں ہو سکتی۔ وہ ایک مفکر تھے، بزرگوں کا احترام جانتے تھے، نوجوانوں کو صحیح راہ دکھانے کی کوشش کرتے تھے، ان کی باتیں یہ نوجوان نسل بڑی توجہ سے سنا کرتی اور عمل کرنے کی بھی کوشش کرتی۔ احترام انسانیت کے قائل تھے، شرافت وراثت میں ملی تھی۔
گفتگو اتنے دلچسپ پیرائے میں کرتے کہ لوگ چاہتے کہ وہ بولتے چلے جائیں اور لوگ سنتے رہیں، اپنے دوستوں، چاہنے والوں کے دقیق مسائل بھی چٹکیوں میں حل کر دیا کرتے، ناظم آباد نمبر ۴ کے کیفے میں عبیداللہ علیم، پروین شاکر اور کئی ہم خیال دوستوں کے ساتھ محفل جمتی، عبیداللہ علیم کے جانے کے بعد یہ محفل ختم ہو گئی۔
جب کبھی وہ آتے سب گھر والے انہیں گھیر کر بیٹھ جاتے، ان کی باتیں ہی ایسی ہوتی تھیں بچے ، بڑے محویت کے عالم میں سنتے، دل چاہتا تھا یہ اسی طرح بولتے رہیں اور سننے والے سنتے رہیں۔ ایک سحر سا طاری ہو جاتا تھا۔ بے انتہا حساس اور انا پرست تھے کسی کو بھی محفل میں محسوس کرتے کہ وہ بیزاری محسوس کررہا ہے تو بھانپ جاتے، فوراً اپنی سگریٹ ماچس کی ڈبیہ ،لائیٹر، گاڑی کی چابی اٹھاتے اور چلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے، اب لاکھ کوئی انہیں روکے نہیں رکتے تھے، بھئی مجھے کہیں اور بھی جانا ہے، کہہ کر سب کو افسردہ کر کے چلے جاتے اور حاضرین محفل کا بس نہیں چلتا تھا کہ اس شخص کو کچا چبا جائیں جس نے یہ محفل درہم برہم کر دی۔’’ بڑے شوق سے سن رہاتھا زمانہ ،ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے‘‘۔ آخر میں ماہرہ خان اور ان کے دونوں صاحبزادگان سے تعزیت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے، ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے۔ آہ۔ نصیر بھائی