سلیکٹڈ جانشین جمہوری فراڈئیے

230

مریم نواز اپنے باپ کی اور بلاول زرداری اپنے باپ کے سلیکٹڈ چیئر پرسن ہیں۔جعلی وصیت سے سلیکٹڈ بلاول زرداری بھی جمہوریت کی بات کرتا ہے؟تجربہ کار بزرگ رہنماؤں کو غلام بنا کر پارٹی پر مسلط ہونا جمہوری انتخاب ہے؟ مریم نواز ووٹ کو عزت دے کر پارٹی کی جانشین منتخب ہوئی تھی؟ نہ الیکشن لڑا نہ پارٹی نے ووٹ سے جانشین منتخب کیا، بادشاہ کی شہزادی بس محل کے اندر ہی سلیکٹ ہو گئی؟ یہ نسلی سلیکٹڈ ملک و قوم کی جمہوریت کے مامے پھو پھی بن گئے؟مثالیں امریکی جمہوریت کی دیتے ہیں جو پوری دنیا کا جمہوری ماما بنا پھرتا تھا اور آج خاکی وردی والے جمہوریت سنبھالتے پھر رہے ہیں؟ پوری دنیا پر جمہوریت کی آڑ میں حملے کرنے والوں کے آج اپنے گھر میں جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ جمہوریت بچانے کے لئے فوج کو مداخلت کرنا پڑی ہے۔ امریکی آرمی چیف کو فوج کو میمو جاری کرنا پڑا ہے کہ سیاست میں مداخلت نہ کی جائے۔ جب یہی جملہ پاک فوج کا جرنیل کہے تو غلاموں کا ٹولہ مذاق بناتا ہے؟ فوج مخالف بیانیہ پاکستانیوں نے منہ پر دے مارا ہے۔ آج امریکہ کا دارالحکومت فوجی وردی کی پناہ میں دے دیا گیا ہے۔امریکہ کا آرمی چیف مکمل نگرانی کر رہا ہے۔ ٹرمپ حواریوں کی دہشت گردی میں کچھ ریٹایرڈ فوجی افسر بھی شامل تھے اس لئے امریکی آرمی چیف کو اپنی فوج کو ہدایات جاری کرنا پڑیں کہ جمہوریت کو بچائو اس میں مداخلت نہ کرو۔ یہ کہنا کیا جمہوریت میں مداخلت سمجھی جائے؟ نومنتخب صدر 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور اس حلف برداری کی تقریب سے قبل ہی واشنگٹن ڈی سی عملاً کسی فوجی چھاؤنی کا سا منظر پیش کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس کی عمارت کیپٹل ہِل’ پر دہشت گردی کے بعد دارالحکومت کی سیکیورٹی انتہائی سخت ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے بچنے کے لیے مزید اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ دارالحکومت کی سیکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس اہلکاروں کے ہمراہ دس ہزار فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں جب کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے اندیشے کے پیشِ نظر خفیہ ادارے بھی پوری طرح متحرک ہیں۔ایف بی آئی کے مطابق 20 جنوری کو ہونے والی تقریب سے قبل یا اس دن بھی واشنگٹن ڈی سی میں مزید پر تشدد واقعات ہو سکتے ہیں۔یاد رہے کہ نیشنل گارڈز امریکہ کی فوج اور فضائیہ کے ریزرو اہلکاروں پر مشتمل فورس ہے جس کے اہلکاروں کی تعداد لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ کے قریب ہے۔ ان اہلکاروں کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال یا قدرتی آفت کی صورت میں امدادی کارروائیوں یا سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔جمہوریت اور آزادی رائے کا چیمپئن آج خود وہ سب کر رہا ہے جس کا دنیا کو درس دیا کرتا تھا۔ صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکائونٹ بند کر نا ملکی سیکیورٹی قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنی ریاست کے خلاف بات آئی تو اپنے ہی ملک کے صدر کی آواز دبا دی اور دوسروں کے ملکوں میں دخل اندازی اور مخالف پروپیگنڈا آزادی رائے مانا جاتا ہے؟ اپنے خلاف اپنے ہی صدر کی رائے برداشت نہیں اور مسلمانوں کے نبی کے خلاف گستاخ خاکے اور توہین آمیز مواد شائع کرنا آزادی رائے قرار دیا جاتا ہے؟اپنی اس دوغلی پالیسی کے سبب ہی دنیا کی سپر پاور آج اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہے۔ٹرمپ کے حواری جنونیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کلٹ بن چکا ہے۔انتقام اور شکست شدت پسندی اختیار کر چکے ہیں۔ ہوس اقتدار خواہ ستر سالہ پاکستان میں ہو یا دو سو ستر سالہ امریکی سپر پاور میں ہو، نظام کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتی ہے۔ پاکستان میں الیکٹڈ موروثیت اسی ہوسِ اقتدار کا نتیجہ ہے۔جمہوریت سب بکواس ہے، اس کا ثبوت ٹرمپ نے بھی دے دیا کہ اقتدار نہیں تو پھر ریاست بھی نہیں، نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے کہ نا کھاواں گے نہ کھان دیاں گے۔ یہ ہے وہ امریکہ جو جمہوریت کاماما بنا پھرتا تھا، اور وہ ہے پاکستان جہاں موروثی سلیکٹڈ اولادیں جمہوریت کا ماما پھو پھی بنے پھرتے ہیں۔سارے ملک فوج کی پشت پناہی سے چل رہے ہیں، وہی فوج ضرورت پڑنے پر سامنے آجاتی ہے پھر جمہوری ڈرامہ بازی کو مقدس صحیفہ بنانے کی ڈرامہ بازی کیوں؟