کچھ نہ پوچھیئے

247

وہ حزب اختلاف ہو کہ حزب اقتدار
دونوں ہی اپنے حال کے پنجرے میں قید ہیں
ڈوری ہلا رہا ہے نئے رنگ سے وہ اب
صیاد دور بیٹھا ہے، یہ اس کے صید ہیں!

ہم سمندر پار پاکستانیوں نے یہ خبر بڑے دکھ کے ساتھ سنی کہ ہمارے کئی معروف سیاستدان اور خصوصاً سینٹ کے

نائب چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے نیب کو سینٹ میں گھسیٹنے کی بات کی پھر سینیٹ کے اجلاس میں تحریک استحقاق جمع کرائی اور پانچ دن تک معاملے کو ٹالنے کے بعد تحریک استحقاق کو منجمد کر دیا۔ پہلے نیب کو دھمکی دی گئی کہ اُسے سینیٹ میں بلا کر اس کے کردار کی دھجیاں اڑا دیں گے اور نیب کی گرفتاری میں جتنے لوگوں کاانتقال ہوا اس کی تفصیل قوم کے سامنے لائیں گے۔ اب لوگ عجب مخصمے میں ہیں خصوصاً پی پی کا یہ اعلان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ جس دن سینیٹ کے چیئرمین غیر حاضر ہوئے اور سلیم مانڈوی والا چیئرمین کا کردار ادا کریں گے اس دن مانڈوی والا کی تحریک استحقاق پر بحث ہو گی۔ نیب کے چیئرمین چیف جسٹس(ر) جاوید اقبال اب پوری تیاری کے ساتھ منتظر ہیں کہ کب سینیٹ انہیں بلائے اور وہ لوگوں کے کچے چٹھے سینیٹ میں بیان کریں۔ وہ نیب کی قید میں متعدد لوگوں کی وفات سے انکاری ہیں صرف ایک فرد کی موت ہوئی ہے وہ بھی دل کی تکلیف کی وجہ سے۔ نیب کا معاملہ بھی عجیب ہے جب قوم یہ سنتی ہے کہ اب تک نیب پاکستان کے خزانے میں 714ارب روپے جمع کرا چکی ہے تو نیب پر قوم کا اعتماد بڑھ جاتا ہے اور وہ بہ یک زبان نیب کو اپنے فرائض ادا کرنے کی ہمت افزائی بھی کرتی ہے اور اس کے حق میں دعائے خیر بھی کرتی ہے۔ ہمیں نیب سے بس ایک شکایت ہے کہ وہ ہر کسی پر کچا ہاتھ ڈالتی ہے اور اکثر لوگ مہینوں کی نیب کی تگ و دو کے بعد عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں یا پھر نیب ہی ان کے معاملات سے ہاتھ اٹھا لیتی ہے۔ چند ماہ قبل چیف جسٹس نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ کم از کم ملک میں نیب کے ادارے کی ۱۲۰ شاخیں قائم کرے اور اس میں سند یافتہ اور تربیت یافتہ عملہ تعینات کرے۔ یہ معاملہ ٹلتا رہا۔ غالباً حکومتِ وقت کے مالی ذرائع اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ چند دن قبل چیف جسٹس نے پھر اس حکم کی یاددہانی کرائی تو حکومت نے اعلان کیا کہ ۱۲۰ تو نہیں تقریباً ۲۰ نیب کی شاخیں جلد قائم ہو جائیں گی۔ سلیم مانڈوی والا کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب صرف ان معاملات میں دخل دے جن کے ذریعے قومی خزانے کو کوئی نقصان پہنچا ہو، باقی مالی معاملات اس کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ مالی معاملات بورڈ آف انویسٹی گیشن کو دیکھنے چاہئیں۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ پورے ملک میں بہت سے سیاستدان، عمالِ حکومت، تاجر اور سرمایہ دار حکومت کو نہیں قوم کو بھی نقصان پہنچارہے ہوں وہاں نیب خاموش رہے۔ سلیم مانڈوی والا کے خیال میں مختلف عہدوں پر فائز اور پارلیمنٹ اور سینیٹ کے معزز اراکین مقدس گائے ہیں جن پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ ہوتا یہ ہے کہ بدعنوانی کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کی بدعنوانی کا علم کسی کو نہیں ہو گا یا انکا محکمہ ان کی حرکات کو ہمیشہ پوشیدہ رکھے گا۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ حکومت وقت کو سب کچھ معلوم ہوتا ہے اور اس کے ذریعے اسے ہر سیاستدان اور عامل کی حرکات سے آگاہ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگا تو موصوف اپنے پاس ایک فہرست رکھتے تھے اس میں مختلف سیاستدانوں اور عمالِ حکومت کا کچا چٹھا درج تھا جہاں کسی نے ان کے خلاف کوئی بات کی یا انہیں آنکھیں دکھائیں وہ اس کو اس فہرست کا حوالہ دے دیتے تھے اور ان کا مخالف چپ سادھ لیتا تھا، نیب نے جو 714ارب روپے حکومت کے خزانے میں جمع کرایا ہے جن لوگوں نے یہ رقم ادا کی ہے ان میں سے صرف چند ہی لوگوں کے نام عوام کے سامنے آئے ہیں۔ ہم نیب کے چیئرمین چیف جسٹس(ر) جاوید اقبال صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ نیب سے ’’مک مکا‘‘ کرنے والوں کے ناموں کی پوری فہرست جاری کر دے۔ ابھی حکومت سندھ میں کئی سو عمالِ حکومت کی کارستانیوں کا بھانڈا پھوٹا ہے۔ ظلم یہ ہوا کہ ان میں سے بہت سے پھر اپنے اپنے عہدوں پر براجمان ہو گئے ہیں۔ خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھئے۔ ایک طرف تو نیب کی کارکردگی سے نالاں افراد کی شکایتیں بڑھتی جارہی ہیں اور جن پر نیب کی نظر پڑتی ہے وہ نیب کو شخصی آزادی کا دشمن قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف نیب میں کام کرنے والے افراد اپنی ’’سستی‘‘ کو ’’چستی‘‘ میں بدلتے دکھائی نہیں دیتے۔ نفسیاتی بات، حقیقت اور امر یہ ہے کہ حکومتی اور تجارتی یا مالی معاملات میں بدعنوانی کرنے والا کبھی نیب کو اچھا نہیں سمجھے گا اور نیب کی تعریف نہیں کرے گا۔
اب یہ نیب کافرض ہے کہ جلد از جلد شفاف طریقے سے ہر ملزم کا معاملہ اس طرح تیار کرے کہ ملزم خود قائل ہو جائے کہ ہاں اس نے بدعنوانی کی ہے۔ ہم حکومت وقت سے بھی استدعا کرتے ہیں کہ دوسرے مالی معاملات کو پس پشت ڈال کر نیب کے ادارے کی وسعت، اس کے عملے کی تربیت کا انتظام و انصرام کرے کہ نیب کا ادارہ ایک طرف تو حکومت کے خزانے میں اضافہ کررہا ہے تو دوسری طرف بدعنوانوں کے لئے بھی نیب کا نام ایک طرح سے خوف کی ایک علامت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ نیب کی موجودگی سے بدعنوانی کرنے کا ارادہ کرنے والے لوگ بھی تائب ہو جاتے ہوں گے۔ نواز شریف صاحب نے بھی ایک طرف تو اپنے سیاسی مخالفین کی نیب کے ذریعے زندگی اجیرن کررکھی تھی تو دوسری طرف نیب کے ناخن تراشنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔ FATFکے معاملے میں حکومت کا ساتھ دینے کے لئے حزبِ اختلاف نے جو نکات پیش کئے تھے جن کے ذریعے نیب کے قوانین کو 90فیصد بدلنے کی بات کی تھی اور جسے اب حکومت وقت این آر او سے تشبیہ دیتی ہے، بڑی عجیب بات تھی، جسے ہم نے اشعار میں بیان کیا ہے۔
لوٹیں گے ہم خزانے کو وہ بھی بہ بانگ دہل
کیا قوم پہ ہوا اس کا اثر کچھ نہ پوچھیئے
اب نیب کے لئے ہے ہمارا یہ مشورہ
سب جانتے ہوں آپ مگر کچھ نہ پوچھیئے!
ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہیں کہ خدا کرے کہ نیب کو کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔