صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کو جی سیون کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے. بھارت کا دعوی

400

واشنگٹن :بھارت کی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر اعظم نریندر مودی کو جی سیون ملکوں کے آئندہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جبکہ وہائٹ ہاؤس نے وزیراعظم نریندر مودی سے صدر ٹرمپ کی ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں جاری بیان میں واضح نہیں کیا کہ بھارت کو بھی اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے.
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں یہ ذکر تو ہے کہ جی سیون اجلاس کرونا وائرس کی صورت حال اور علاقائی سیکورٹی کے مسائل پر گفتگو ہوئی لیکن بھارت کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دئے جانے سے متعلق کوئی بات نہیں کہی گئی خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جب جی سیون اجلاس کم از کم ستمبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت کہا تھا کہ اب یہ ملکوں کا ایک ازکار رفتہ گروپ بن کر رہ گیا ہے اور یہ کہ وہ اب بھارت، روس، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کو اس میں شرکت کی دعوت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں.
چین نے نئے ملکوں کو گروپ میں شامل کرنے کے منصوبے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق، جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چین کے خلاف دائرہ تنگ کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام اور غیر مقبول ہو گی. مذکورہ ملکوں کو جی سیون گروپ میں شامل کرنے کے مقاصد کیا ہیں؟ آیا کرونا وائرس کے بعد کے دور میں عالمی مالیاتی نظام پر اس کے کوئی اثرات مرتب ہوں گے؟ اس بارے میں ماہرین کی آرا مختلف ہیں بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالیس کے سینئر فیلو ڈاکٹر اشوک بہوریا نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھارت دنیا میں تیسرے یا چوتھے نمبر کی معیشت بن چکا ہے اور اس کی اس حیثیت کو تسلیم نہ کرنا حقیقت سے اجتناب برتنا ہے انہوں نے کہا کہ بھارت کو جی سیون ملکوں کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دیکر، بھارت کی اس حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور بھارت بتدریج معاشی میدان میں پیش رفت کر رہا ہے.
چین کے رد عمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چین کے رد عمل سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہونگے اور بھارت کی پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا انہوں نے بھارت کو مدعو کئے جانے کے فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ کی سوچ غیر روایتی اور دانشمندانہ ہے. انہوں نے کہا کہ بھارت میں چین کے لئے کوئی زیادہ معاندانہ جذبات بھی نہیں پائے جاتے اور جو کچھ لداخ میں ہو رہا ہے اس کے بارے میں بھی بھارت کی سیاسی قیادت کچھ زیادہ نہیں کہہ رہی ہے کیونکہ بھارت میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ عالمی معاملات کے سلسلے میں بھارت اور چین کے خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں‘متحدہ عرب امارات میں ایک امریکن یونیورسٹی بزنس اسکول سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر ظفر معین نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرا ہے اور یہ صورت حال امریکہ اور مغرب کے لئے زیادہ خوشگوار نہیں ہے.