کائنات کے ’سب سے نرم‘ سیارے نے سائنسدانوں کو پریشان کردیا

347

پیساڈینا، کیلیفورنیا: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تین سال قبل دریافت ہونے والا سیارہ ’’واسپ 107 بی‘‘ اس قدر نرم اور کم کثافت والا ہے کہ ہمارے موجودہ فلکیاتی نظریات کے مطابق، اس سیارے کو وجود میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ دریافت کے وقت ہی ’واسپ 107 بی‘ کو سب سے کم کثافت والا سیارہ قرار دے دیا گیا تھا جہاں بڑی مقدار میں ہیلیم گیس کی موجودگی کا انکشاف بھی ہوا تھا۔ لیکن اب ماہرینِ فلکیات کی ایک عالمی ٹیم نے معلوم کیا ہے کہ اس کی کثافت ہمارے سابقہ اندازوں سے بھی بہت کم ہے۔

بتاتے چلیں کہ ’واسپ 107 بی‘ ایک ایسے سیاروی نظام (پلینٹری سسٹم) کا حصہ ہے جو ہم سے 211 نوری سال دور، برجِ سنبلہ کی سمت میں واقع ہے۔

اس سیارے کا شمار ’نارنجی دیووں‘ (orange giants) کہلانے والے ’سپر نیپچون‘ قسم کے سیاروں میں ہوتا ہے۔ یعنی اس کا بیشتر حصہ گیس پر مشتمل ہے۔

یہ اپنے مرکزی ستارے (WASP-107) سے لگ بھگ اتنا ہی قریب ہے جتنا ہماری زمین اور سورج کا درمیانی فاصلہ ہے۔

یہ اپنے ’سورج‘ کے گرد اتنی تیزی سے چکر لگا رہا ہے کہ صرف 138 گھنٹوں (5.72 زمینی دنوں) میں ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ ’واسپ 107 بی‘ کا ایک سال، زمین پر گزرنے والے صرف 5.72 دنوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔