تائیوان کے معاملے پر ‘ناگوار’ سلوک کرنے پر امریکی حکام کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، چین

348

بیجنگ: واشنگٹن کی جانب سے امریکی اور تائیوان حکام کے درمیان تبادلوں پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد تائیوان کے دعویدار چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے چین کے خلاف ‘ناگوار’ سلوک کرنے والے امریکی اہلکاروں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین نے واشنگٹن کی جانب سے تائیوان کے لیے اس نرمی کی مذمت کی ہے جس کا اعلان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کے آخری ایام میں کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد سے واشنگٹن اور چین کے پہلے سے خراب تعلقات مزید خراب ہوگئے تھے۔

چین کے غصے میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے تائیوان کے منصوبہ بند سفر کی منسوخی کے بعد گزشتہ ہفتے تائیوان کے صدر سوسائی انگ وین سے بات کی۔

روزانہ کی ایک نیوز بریفنگ میں جب یہ سوال گیا کہ تائیوان کے ساتھ مصروفیات پر امریکا کو ‘بھاری قیمت’ ادا کرنے کے چین اپنے عزم پر کیسے عمل کرے گا تو وزارت کی ترجمان ہوا چونئنگ نے کہا کہ امریکی حکام کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے وضاحت کے بغیر کہا کہ ‘امریکا کے غلط اقدامات کی وجہ سے چین نے تائیوان کے معاملے پر ناگوار سلوک کرنے کے ذمہ دار امریکی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے’۔

خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا ایک صوبہ قرار دیتا ہے.