روسی صدر پیوٹن کے مخالف سیاسی رہنما 5 ماہ بعد وطن پہنچنے پر گرفتار

415

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے بڑے سیاسی مخالف آلیکسی ناوالنی کو پانچ ماہ بعد وطن واپسی پر ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 44 سالہ اپوزیشن رہنما کی فلائٹ کو ماسکو ائیرپورٹ پر اترنا تھا جہاں اتوار کو سخت سردی کے باوجود ان کے استقبال کے لیے ان کے ہزاروں حمایتوں نے جمع ہونے کی کوشش کی۔

ناوالنی کے ساتھ پرواز پر صحافیوں کی ایک ٹیم بھی سوار تھی۔ تاہم پائلٹ نے لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے تکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پرواز کا رخ موڑ دیا اور جہاز ماسکو کے نواح میں ایک دوسرے ائیرپورٹ پر اتار دیا۔

اس موقع پر حکام نے ماسکو ائیرپورٹ کے آس پاس ریلی پر پابندی لگاتے ہوئے سکیورٹی سخت کردی اور ناوالنی کے حمایتیوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ کوئی مظاہرہ کرنے سے باز رہیں۔

آلیکسی ناوالنی کو پچھلے سال اگست میں روس میں داخلی پرواز کے دوران ایک زہریلے کیمیکل مواد کے ذریعے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس حملے کے لیے وہ صدر پیوٹن کو مورود الزام ٹھہراتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق واقعے میں ان کی حالت ابتر ہونے کے بعد انہیں جرمنی کے دارالحکومت برلن کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔ وہ جرمنی میں پانچ ماہ علاج کرانے کے بعد اتوار کو وطن واپس لوٹے تھے۔

صدر پیوٹن اس حوالے سے اپنے اوپر عائد الزامات رد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آلیکسی ناوالنی امریکی انٹیلیجنس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔