سیاست!!

303

سیاست کی بہت سی تعریفیں سیاسیات کی کتابوں میں موجود ہیں، ان میں سے کسی ایک تعریف کا APPLICATIONپاکستان پر نہیں ہوتا، سیاست کی سادہ سی جدید تعریف اس کے سوا کہ سیاست کسی ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مضبوط سے مضبوط تر کرتی چلی جائے اور مقصد کے حصول کے لئے وسائل کا بہترین استعمال، تجارت اور سفارت اور بین الاقوامی تعلقات میں مناسب توازن اہم عناصر ہوتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال جدید تعلیم کے بغیر ممکن ہی نہیں سو شرط اول یہی رہی کہ ملک کے تمام HUMAN RESOURSESکو جدید تعلیم سے بہرہ مند کیا جائے اور جس قسم کی تعلیم کی جہاں ضرورت ہو بہم کر دی جائے بجز بنیادی تعلیم کے جس کو لازمی تعلیم کہا جاتا ہے، سچ یہی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ملک کی ان بنیادی ترجیہات کا ادراک ہی نہیں ہوا، ادارک ہوا تو اس بات کا کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے پاکستان کا اقتدار اعلیٰ خدا کا ہے، اور سیاسی طور پر اس ملک کو اپنی ابتدائی ایام میں قرارداد مقاصد کی ضرورت ہے، عوام کے ساتھ خدا کے نام پر یہ سب سے بڑا سیاسی فراڈ تھا اور ملک کے سادہ ان پڑھ عوام کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ بازی گر کیا بازی کھیل گئے، TECHNICALLYاس مقام پر پاکستان کے ابتدائی حکمرانوں نے اپنے عوام سے یہ کہہ دیا کہ ہم تمہیں تعلیم نہیں دیں گے ہم نے تمہیں ایک پنجرے میں بند کر دیا ہے اور پنجرے پر لکھ دیا ہے ’’یہ خدا کا گھر ہے‘‘ اور اس پنجرے پر یہ بھی لکھ دیا کہ نماز پڑھتے رہو اور قرآن پڑھو، تم مملکت خداداد میں ہو، مجھے حیرت سی ہوئی جب بھارت میں کرونا پھیلا تو وہاں کے علماء نے بھارت کے مسلمانوں سے کہا کہ وہ نمازیں پڑھیں اور قرآن پڑھیں اور کچھ ایسا ہی پاکستان کے علماء کا ردعمل تھا، آپ نے اندازہ لگایا کہ یہ شعبدہ باز کس طرح اپنے جال کو پھیلاتے ہیں اور شاباش ہے میڈیا کو جو ان دو رکعت کے اماموں کو عوام کے سامنے VIROLOGISTبنا کر پیش کررہے تھے، اس سے بھی میں یہی ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ اگر تعلیم ہوتی پاکستان معاشرے میں تو علماء کا کوئی غلط بیانیہ قبول نہیں کیا جاتا، مگر کیا کیا جائے کہ سات نسلیں اس گمان کے پیچھے دوڑتی رہی ہیں اور ان کو پتہ نہیں کہ یہ گمان اپنے اندر صرف سراب ہی سراب رکھتا ہے۔
معاشرے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سے طبقات زندگی سے قریب ہیں اور کون سے طبقات زندگی کو ترستے ہیں، غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ جاگیردار اور دینی حلقے معاشی طور پر توانا ہوئے اور مڈل کلاس جس کے پاس تعلیم تھی آہستہ آہستہ معاشرے سے معدوم ہو گیا، یہ اہم سوال ہے کہ معاشرے سے مڈل کلاس کو ختم کرنے کا عمل کیا ایک DELIBERATE EFFORTتھی تو اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں یہ دانستہ کوشش تھی جو کامیاب رہی، جاگیردار معاشی طور پر طاقتور تھا مگر تعلیم کے ذریعے جو نظریات عوام تک پہنچ رہے تھے وہ مطالبہ کررہے تھے کہ ان کو جینے کا حق دیا جائے سو ان مطالبات کو ختم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ تعلیم کو عوام سے چھین لیا جائے، اس کام میں دینی حلقوں نے جاگیردار کی مدد کی اور عوام کو گمانوں میں گرفتار کیا، ان دینی حلقوں کو معلوم ہے کہ ان کے پاس سیاست کے ان مقاصد کا حل نہیں ہے جو سیاست کی جدید مروجہ تعریف میں موجود ہیں ان کو معلوم ہے کہ مذہب انسان کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل کا حل نہیں دے سکتا مگر حکومتوں نے جاگیردار کے اشارے پر ہی بنتی ہیں، مولوی کو لائوڈ سپیکر دے کر مستقل طور پر عوام کے برین واش کا انتظام کر دیا اور برین واش ہوتا رہا، اس اکٹھ نے علماء کو معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کیا اور وہ تنگ حجروں سے نکل کر سیاسی میدانوں میں آگئے، یعنی مڈل کلاس ختم ہوا اور دینی حلقے توانا ہوئے اور معاشرے میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیاجو UNPRODUCTIVEہے مگر آرام سے روٹی کھاتا ہے، نہ وہ مہنگائی کا رونا روتا ہے، نہ بجلی اور پانی کا، معاشرے میں کوئی پیداواری عمل کا حصہ بنے بغیر وہ زندگی انجوائے کرتا ہے اپنے جلسوں پر اربوں خرچ کرتا ہے اور اس کو حکمرانی کا نشہ بھی بہم ہے، تعلیم ہوتی تو یہ بے ہنگم انقلاب جو پاکستانی معاشرے میں آیا کبھی نہ آتا جب عوام کے ہاتھوں میں قرآن تھمایا گیا جس کو یہ سمجھ ہی نہ سکے تو عوام کا کتاب سے رشتہ بھی ختم ہو گیا اور سوال کرنے کا ماحول ہی نہ بنا اور نہ فکر و سوچ کا، عوام کے خلاف جو سازش قوم کے دشمنوں نے ستر سال پہلے تیار کی تھی وہ کامیاب ہوئی۔
فوج نے بھی اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے مناسب سمجھا کہ وہ سازش کا حصہ بن جائے اور اپنی طاقت کے سبب اس نے قوم کے مستقبل کو دریا برد کیا اور جاگیردار اور دینی جماعتوں سے مراسم بڑھائے، اسے طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب فوج نے بھٹو کو دار پر لٹکایا اور سب سیاست دانوں کو یہ پیغام بھیجا کہ عوام کے حق میں بولنے کی سزا یہی ہو گی، اس کے بعد کسی سیاست دان کو عوام کے حق میں بولنے کی ہمت نہیں ہوئی، کہا جاتا ہے کہ یہ پیغام امریکہ نے فوج کے ذریعے ہر سیات دان تک پہنچا دیا تھا، اس کے بعد سیاست کی اس تعریف پر کسی نے اصرار نہیں کیا کہ سیاست عوام کی معاشی، سماجی، تعلیمی ترقی کا نام ہے، فوج کا سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنا تسلط برقراررکھنے کے لئے عوام کو معاشی طور پر کمزور کر دیا، جس کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہ ہو وہ کیا احتجاج کرے گا اور کیا اپنے حق کے لئے آواز اٹھائے گا، تماشا یہ ہے کہ اس وقت قرآن ناظرہ پڑھانا آن لائن سب سے بڑا کاروبار ہے، جس کا عملی زندگی میں کوئی مصرف ہے ہی نہیں، حال یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شعبہ زندگی پر فوج کی مضبوط گرفت ہے اور وہ سیاسی طور پر بادشاہ گر بھی ہیں، یہ بھی شعبدہ بازی ہے کہ دہشت گردوں کو باقی رکھا گیا ہے اور دنیا کو خوف زدہ کیا جاتا ہے کہ ان دہشت گردوں نے دنیا کا امن تباہ کر دینا ہے سو پاکستان کی مدد جاری رکھی جائے تاکہ ان کے خلاف جنگ جیتی جا سکے، افغان مسئلہ پاکستان فوج نے خود اپنے گلے میں ڈال لیا ہے نہ یہ مسئلہ حل ہو گا اورنہ پاکستان سے فوج کی گرفت ڈھیلی پڑے گی، نہ امریکہ افغانستان سے جائے گا، گویا پاکستان میں STATUS QOUتا دیر باقی رہے گا، یعنی پاکستان بفر زون ہی رہے گا، پاکستان میں نہ سیاست ہے اور نہ ہی جمہوریت جس کی بات رات دن کی جاتی ہے، آئین قانون اور انصاف کب کا بھاری بوٹوں کے نیچے ہے، فوری طور پر اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا، ملک میں رہنما اور دانشور بھی پیدا نہیں ہوتے، یہ فسطائیت کی نئی شکل ہے جو عالمی طاقتوں کے مفادات کی نگرانی کی وجہ سے معرض وجود میں آئی ہے اور جو ان عالمی طاقتوں کی ضرورت بھی ہے، جب ملک میں کوئی طاقت ہے ہی نہیں تو ہاتھ جوڑ کر فوج سے ہی درخواست کی جاسکتی ہے کہ بہت ہو چکا ان بائیس کروڑ بہرے گونگوں اور اندھوں پر رحم کریں، ان کو آزاد کریں بس ان کو روٹی اور تعلیم دے دیں۔۔۔۔۔اَن داتا تو فوج ہی ہے شاید اس طرح ایک دو عشروں کے بعد عوام کو سیاست کا مفہوم سمجھ آ جائے اور زندگی کا بھی۔