ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس، پی ڈی ایم کو وارننگ مل گئی!

288

شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل بابر افتخار نے ایک بہت اہم پریس کانفرنس کی جس میں ہر موضوع پر مختصر لیکن اہم بیان فوج کی طرف سے دیا گیا، فوج نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ہر قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اگر اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ فوج عمران حکومت کا تختہ پلٹ دے گی اور مریم یا بلاول کو حکومت دے دیگی تو یہ ان دونوں کی غلط فہمی ہے، مولانا کو پھر بھی کچھ نہیں ملے گا، وہ اب ہمیشہ گھاٹے ہی میں رہے گا، اس کا دور اب ختم ہو گیا، اس کا مدرسے کے بچوں کا پریشر مولانا شیرانی اور دوسرے لوگوں کی علیحدگی کے بعد ختم ہو گیا، اس کے گرد نیب کا گھیراتنگ کیا جارہا ہے وہ کسی دن بھی گرفتار ہو جائے گا، اس کے جانباز جو اس نے فوج بنائی ہے جس کے اوپر وہ اکڑتا ہے کہ میں ایک لاکھ آدمی نیب کے دفتر لے جائوں گا اب پتہ اس کو چل جائے گا کہ ایک لاکھ تو کیا سو آدمی بھی اس کے ساتھ نہیں جائیں گے اب اس کا وقت ختم ہو گیا، اس کے ساتھ کی پارٹیاں بھی آہستہ آہستہ اس کا ساتھ چھوڑتی جارہی ہیں، فیصلے بھی تبدیل ہوتے جارہے ہیں، استعفے دینے کی بات اب پیچھے رہ گئی، اب الیکشن میں حصہ لینے اور سینیٹ کا بھی انتخاب لڑنے کی بات آصف زرداری نے منوالی ہے، بلاول کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے وہ بیمار زرداری سارا کھیل کھیل رہا ہے، اس کے سامنے آصفہ اور بلاول کو سیاست میں لانے کا منصوبہ ہے تاکہ خاندان کی لوٹ مار چلتی رہے، بلاول کو بھی لوٹ مار کرنے کی ٹریننگ دے رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار نے بہت صاف الفاظ میں اپوزیشن کو بتا دیا کہ فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے نہ تو وہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کی بات قبول کرے گی اور نہ عمران حکومت ہٹانے کی بات قبول کرے گی اگر سیاستدانوں نے عمران کو ہٹانا ہے تو ان کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانی ہو گی، فوج حکومت کا تختہ پلٹ کر نہ تو مارشل لاء لگائے گی اور نہ نئے انتخاب کرائے گی اور عمران حکومت اپنا ٹائم پورا کرے گی، سیاستدانوں اور پی ڈی ایم نے جو بھی کرنا ہے وہ کر لے ۔ بھارت کے متعلق بھی انہوں نے بتا دیا کہ ہم ایک طرح سے حالت جنگ میں ہیں، کسی وقت بھی کوئی واقعہ یا دھماکہ جنگ کو شروع کر سکتا ہے، اس مرتبہ جنگ چنددنوں کی نہیں ہو گی بلکہ فیصلہ کن جنگ ہو گی، پاکستان آزاد کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کرانے کی کوشش کرے گا، دوسرا وہ سیاچن کا بھی راستہ کاٹنے کی کوشش کرے گا، چین اگر بڑھ کر مین گولڈی روڈ کو بلاک کر دے گا جس سے بھارت کی سپلائی سیا چن پر جاتی ہے اور ساری نقل و حرکت اس راستے کے ذریعے ہوتی ہے تو پاکستان دوبارہ سیاچن کو حاصل کر لے گا، بھارتی فوج اتنی سردی میں بغیر سپلائی کے اپنی گرفت برقرار نہیں رکھ سکتی ہے یا تو سردی میں ان کو مرنا ہو گا یا پاکستان فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہو گا، پاکستان سے جنگ کے بعد بھارت کو سکھوں کو بھی آزادی دینا ہو گی، ایک نیا خالصتان بنے گا، اب بھارت کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا، اگر چین چکن نیک کاٹتا ہے تو وہ ۷ ریاستیں بھی آزاد ہو جائیں گی، بھارت کی تباہی قریب ہے۔
بابر افتخار نے بھارت کو صاف وارننگ بھی دے دی ہے کہ دہشت گردی کرنا بند کر دے ورنہ اس کو سبق سکھا دیا جائے گا، اپوزیشن اب بند گلی میں پہنچ گئی ہے، مولانا کی ساری کوششیں بیکار ہو گئی ہیں، عمران خان کو ہٹانے کا خواب اب کبھی پورا نہیں ہو گا، مریم جس طرح فوج کو سیاست میں لارہی تھیں اور ڈاکو نواز شریف جس طرح فوج کے سربراہ کا نام لے لے کر دھمکیاں دے رہا تھا اب اس کا وقت ختم ہو گیا، اس کو اب نیا پاسپورٹ نہیں ملے گا ، اب جو خبریں آرہی ہیں کہ اس نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اس نے ویزے کے لئے درخواست دے دی ہے اس کی فیس تقریباً ڈھائی لاکھ پائونڈ ہے، آنے والا وقت نواز شریف، زرداری اور پی ڈی ایم کے لئے بہت سخت ہے، مولانا کی دوبارہ سیاست میں واپسی بہت مشکل ہے، زرداری اور نواز شریف کی سیاست بھی ختم ہو گئی، مریم اور بلاول اب بہت جلد آپس میں لڑنا شروع کریں گے، عمران خان سکون سے آئندہ بھی حکومت کرے گا۔