انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

313

چاند پر پہنچنے کی دوڑ شروع ہوئی، امریکہ اور روس کے بیچ کوئی ساٹھ سال پہلے اکتوبر 1957ء وہ سال تھا جب پہلی بار وہ سیٹلائٹ لانچ کی گئی جو آگے چل کر انسان کو چاند پر پہنچائے گی، دونوں ہی ملک اس ریس میں پیچھے نہیں رہنا چاہتے تھے لیکن امریکن صدر جے ایف کینیڈی نے وعدہ کر لیا کہ ہم 1970ء آنے سے پہلے چاند پر پہنچ جائیں گے، یہ بات انہوں نے 1959میں کہی تھی، اسی لئے وقت کم اور مقابلہ سخت تھا، بیس جولائی 1969کو بالآخر انسان چاند پر پہلا قدم رکھنے میں کامیاب ہو گیا اور امریکہ یہ دوڑ جیت گیا، کئی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ انسان کی چاند پر پہلا قدم رکھنے کی جو فوٹیج ٹی وی پر دکھائی گئی تھی وہ بناوٹی تھی، کئی تھیوریز اور ڈاکومینٹریز اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ فوٹیج کچھ عرصے پہلے لندن کے ایک سٹوڈیو میں تیار کی گئی تھی کچھ بات یہ بھی تھی کہ چاند پر درجہ حرارت +90سے کچھ ہی لمحوں میں منفی -90ڈگری میں بدل جاتا ہے اسی لئے اس زمانے میں کوئی بھی ایسا کیمرہ نہیں تھا جو چاند پر جاکر ویڈیو بنا سکے اور اس درجہ حرارت کو برداشت کر سکے، انسان چاند پر گیا ضرور مگر مسئلہ صرف ویڈیو کا ہے کہ وہ چاند پر بنی کہ نہیں؟؟
چاند پر انسان کے پہنچ جانے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان یہ ریس ختم ہوئی لیکن اب یہ ریس پھر سے شروع ہو چکی ہیں لیکن اب یہ حکومتوں کے بیچ نہیں ہیں بلکہ حکومتیں تو کئی سال پہلے اس ریس سے نکل چکی ہیں، اب اس کا حصہ بنی ہیں پرائیویٹ کمپنیاں اور وہ حکومت کی طرح سے ایک limitedبجٹ سے کام کررہی ہیں بلکہ ان کے پاس ذرائع زیادہ ہیں اور وہ اس کو بہتر سے بہتر بنارہے ہیں کیونکہ اس بار ریس چاند پر پہنچ کر خود کو طاقتور منوانے کی نہیں ہے جو کہ چالیس سال پہلے تھی، یہ ریس ہے ’’کسٹمر‘‘ جیتنے کی۔
کون ہیں وہ کمپنیاں جو اس ریس میں ہیں اور وہ چاند پر کیوں جانا چاہتی ہیں، اگر آپ گوگل پر سرچ کریںسپیس کمپنیز تو سینکڑوں ایسی ویب سائٹس ملیں گی جو بات کررہی ہوں گی ان کمپنیوں کی جو کچھ ہی سالوںپہلے لانچ ہوئی ہیں اور کام کررہی ہیں لوگوں کو Spaceمیں بھیجنے کی، عام انسان یعنی ہم اور آپ جیسوں کیلئے یہ ساری کمپنیاں امریکہ میں ہیں، اب آپ سوچیں گے کہ دنیا بھر میں پہلے ہی ایسی کمپنیاں ہیں جو خلاء میں اپنے سیٹلائٹ بھیجتی ہیں لیکن یہ وہ سیٹلائٹ ہیں جو دنیا سے قریب ہیں اور ٹی وی چینلز اور موسم وغیرہ کے کام آتی ہیں، یہاں بات ہورہی ہے ان سیٹلائٹس کی جو خلاء میں بہت آگے کی طرف ہیں اور ان کا کام سپیس شپس کو گائیڈ کرنا ہے، حکومت کی اجازت کے بعد بڑی بڑی Space Compines اب خود اپنے شٹل لانچ کرنے کی ریس میں ہیں، چھ سے آٹھ کمپنیاں ایسی ہیں جن میں سب سے آگے Space X Blueoriginاور Virgin Glaxyہیں۔ ان سب کا فوکس صرف اور صرف ایک ہے کہ وہ عام آدمی کو سپیس ٹریول کروا سکیں اور وہ بھی کم لاگت میں، اس وقت ایک چیز جو تینوں میں مشترک ہے وہ یہ کہ ان کی کمپنیوں کے ایگزیکٹو بہت ہی پرامید ہیں، اس چیز کو سچ بنانے اور پایہ تکمیل پر پہنچانے میں۔ 2002 میں Alon Musk نےSpeace X لانچ کی یہ وہی ہیں جنہوں نے 2001 ء میں ’’پے پیل’’ بنا کر ای بے کو بیچی تھی اور پھر الیکٹرک کار Teslaبھی بنائی ہے، یہ وہ پہلی کمپنی تھی جسے ناسا کے بعد سب سے پہلے سپیس میں جانے کی اجازت ملی، یہ 2002ء سے نان سٹاپ کام کررہے ہیں اور کئی بار اپنی خالی ایئر کرافٹس چاند تک بھیج چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ 2018ء کے آخر تک انسان کو چاند پر پہنچا دیں گے اور 2023ء تک Marsتک بھی پہنچ جائیں گے کیونکہ یہ پرائیویٹ کمپنی ہے، اسی لئے اپنی ریسرچ اور کمپنی سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، Alon Musk نے اعلان کیا ہے کہ اپنی سپیس شپ کی ٹیکنالوجی عام ایئر کرافٹ میں بھی استعمال کریں گے جس کی وجہ سے ایک ہوائی جہاز 29منٹ میں نیویارک سے لندن پہنچ جائے گا یعنی پاکستان سے نیویارک صرف ایک گھنٹے میں۔
Blue Origin بھی پیچھے نہیں، 2000ء میں شروع ہونے والی اس کمپنی کے مالک ہیں jeff Bezo جو ایمزون ڈاٹ کام کے بھی مالک ہیں ان کے حساب سے ان کی ایئر شٹل صرف ایسٹروناٹس کو نہیں بلکہ عام انسان کو ایک سال میں چاند پر پہنچا دے گی جبکہ Space X ابھی صرف ایسٹروناٹس کو ہی بھیجے گی۔
آپ نے غالباً سنا ہو گا کہJeff Bezoنے کہا تھا کہ ٹرمپ اگر الیکشن ہار جائیں تو میں ان کو چاند کا ون وے ٹکٹ فری دوں گا۔Jeff Bazoکا مقصد پوری سپس انڈسٹری کو قائم کرنا ہے ان کا سپس کرافٹ کامیابی سے ٹیسٹ کررہا ہے جس میں ان کا ایئر کرافٹ سپس میں جا کر دس منٹ میں واپس بھی آگیا ہے۔
اسی طرح مشہور Yirginبرانڈ کے Richard Branson کی کمپنی بلیو اوریجن کے پاس چھ مسافروں کو سپس میں لے جانے والا ایئر کرافٹ تیار ہے اور ڈھائی گھنٹے کی فلائٹ میں صرف چھ منٹ ایسے ہوں گے جس میں انسان کو اپنا وزن محسوس نہیں ہو گا ورنہ عام Gravityکے ساتھ ہی لگے گا۔
یہ لوگ رک نہیں رہے ہیں، یہ آگے بڑھ رہے ہیں لیکن میڈیا میں یہ بات سنسنی اس لئے نہیں پھیلا رہی کیونکہ یہ کمپنیاں ابھی تک لوگوں کو اپنی فلائٹس بیچنے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن بہت جلد یہ بدلنے والا ہے اسی لئے آپ اگر کسی سے چاند تارے توڑ کر لانے کے وعدے کرتے رہے ہیں تو اس سے گریز کریں ورنہ سچ مچ لانے پڑ جائیں گے۔!!