وزیر اعظم کے مہندی لگے پاؤں!

251

تم کسی وزیر اعظم کو بلیک میل نہیں کرسکتے!
عمران خان کا یہ متکبرانہ جملہ تاریخ کے صفحات میں ایسے ہی محفوظ رہے گا جیسے فرانس کی ملکہ ماری انتوانئیت کا یہ جملہ محفوظ ہے: لوگوں کے پاس اگر کھانے کو روٹی نہیں ہے تو وہ کیک کیوں نہیں کھالیتے؟
عوام کی تضحیک میں یہ کلمہ کہنے والی ایک ملکہ تھی جسے جمہوریت یا عوامی نمائندگی سے دور دور کوئی علاقہ نہیں تھا۔ لیکن اس کا یہ تکبر اور نخوت سے بھرا جملہ ان عوام کیلئے جو فاقوں کے ہاتھوں مررہے تھے جلتی پر تیل کا کام کرگیا۔ تنگ آمد بجنگ آمد ان فاقہ زدوں کے پاس کھونے یا لٹانے کیلئے کچھ نہیں تھا اور جنہیں کچھ کھونے کا غم یا پریشانی نہیں ہوتی وہ سر سے کفن باندھ لیتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں گھروں سے کہ یا تو تخت ہوگا یا تختہ۔ اور تاریخ نے جلد ہی ان کے حق میں فیصلہ صادرکردیا جب ان کی یلغار نے صدیوں کی شہنشائیت کا تخت الٹ دیا اور بقولِ فیض تاج اچھال دئیے!
وہ تو بھوکے تھے جنہیں عیش و آرام کی گود میں پلنے والی ملکہ نے غربت کا طعنہ دیکر ان کیِ انتقام کی آگ کو بھڑکادیا تھا لیکن وہ بیچارے مظلوم، بلوچستان کی ہزارہ برادری کے سوگوار جن کے گیارہ جوانوں کو داعش کے درندوں نے بلاجواز قتل کرکے ان کے گھر اجاڑ دئیے تھے، سہاگنوں سے ان کے شوہر اور بچیوں سے ان کے باپ چھین لئے تھے، وہ کہاں ایک بااقتدار اور مملکتِ پاکستان کے وزیرِ اعظم کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں تھے!؟
عمران خان تو نیا پاکستان بنانے کا زعم لیکے مسندِ اقتدار پہ بیٹھے تھے اور پاکستان کے سادہ لوح، جو ہماری لغت میں جاہل اور عقل و خرد سے بے بہرہ، عوام ہیں انہوں نے ان کے نعروں اور دھرنوں پہ اندھا اعتبار کرتے ہوئے انہیں اپنے ووٹ کی طاقت سے ایوانِ اقتدار تک پہنچایا تھا لیکن لگتا ہے کہ عمران خان کا مآل بھی وہی ہوگیا ہے کہ ہر کہ در کانِ نمک رفت، نمک شد!
آسان الفاظ میں، اقتدار کا کیڑا انہیں بھی ڈس چکا ہے اور اب پاکستان میں ریاسِتِ مدینہ بنانے کا زعم رکھنے والا بھی اسی طرح شاہانہ مزاج کا ہوگیا ہے جیسے وہ تھے جن کے نام لے لیکر خان صاحب طعن تشنع کے تیر چلایا کرتے تھے اور اپنے سامعین کو بیوقوف بنایا کرتے تھے!
اب یہ سامنے آرہا ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور طالع آزماوٗں کی مانند وہ بھی عوام کی تائید سے مسندِ اقتدار پہ بیٹھنے کے بعد اپنے آپ کو منتخب وزیرِ اعظم نہیں بلکہ ان کا بے تاج بادشاہ سمجھنے لگے ہیں!
عوام کی نبض پہ اپنا ہاتھ رکھنے کیلئے پہلی ضرورت عوامی مزاج اور فطرت کی ہوتی ہے۔ اصل عوامی ذہنیت کی جیسی نیوزی لینڈ کی نو عمر وزیرِ اعظم جاسندا آرڈرن کی ہے، ویسی جعلی نہیں جو ہمارے نام نہاد وڈیرہ قائدِ عوام بھٹو کی تھی، عوامی کا لبادہ پہنے ہوئے ایک افلاطون اور فرعون کی سی! دو برس پہلے کا وہ سانحہ تو ابھی دنیا بھر کی اجتماعی یادداشت اور ذہنوں میں تازہ ہے جب نیوزی لینڈ کے دارالحکومت میں ایک مسجد پر حملہ کرنے والے ایک نسل پرست اور متعصب جنونی نے بائیس نمازیوں کو شہید کردیا تھا اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔
یہ خبر ملتے ہی کہ ان کے پرامن اور سلامتی اور شانتی کے علمبردار ملک میں دہشت گردی کا ایسا خونچکاں واقعہ رونما ہوگیا تھا آرڈرن گھڑی کی چوتھائی میں مسجد پہنچیں اور دنیا نے دیکھا کہ اپنے سر پہ اسکارف اوڑھے ہوئے وہ دردمند خاتون وزیر اعظم کس طرح روتے ہوئے دہشت زدہ نمازیوں اور دیگر مسلمانوں کو پرسہ دے رہی تھی اور ان کے الم میں برابر کی شریک تھی!
لیکن ہمارے ریاستِ مدینہ بنانے کے دعویدار وزیرِ اعظم چھہ دن تک اپنے ایوانِ اقتدار، اپنے محل، سے باہر نہیں نکلے بلکہ وہاں، اپنی کمیں گاہ میں بیٹھے ہوئے ان مظلوموں کو، جن کے پیارے دہشت گردوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے، بھاشن دیتے رہے، نہیں صرف بھاشن ہی نہیں دیتے رہے، انہیں دھمکاتے بھی رہے کہ وہ با اقتدار وزیرِ اعظم کو بلیک میل نہیں کرسکتے!
ریاستِ مدینہ بنانے کے دعویدار کی ذہنی افتاد پہ ہمیں ترس آتا ہے، تاجدارِ مدینہ کی شان تو یہ تھی کہ کوئی فریادی، کوئی مظلوم، ان کے در سے مراد پائے بغیر نہیں جاتا تھا، اسے فوری انصاف ملتا تھا، اس کی داد رسی ہوتی تھی اور یہ اس رسولِ اکرم ﷺ کا فیض تھا جو بوریا نشین تھا اور اسی بوریے سے وہ دنیا کو اپنے قدموں پہ جھکانے کا اعجاز رکھتا تھا!
لیکن ہمارے خود ساختہ، بزعمِ خود، معمارِ نیا پاکستان کسی سوگوار کو پرسہ دینے کیلئے بھی شرائط لگاتے ہیں۔ شرم آنی چاہئے عمران خان کو جن کی گمشدہ اور محصورانسانیت کسی مظلوم کی دادرسی کرنا تو کجا اس کے آنسو پونچھنے کی صلاحیت بھی کھو چکی ہے!
کیا مطالبہ تھا ان مظلوموں کا جن کے بیگناہ جوان کان کن دہشت گردوں کے شکار ہوگئے تھے؟ بس یہ اصرار تھا ان کا کہ وزیرِ اعظم ان کی داد رسی کو نہیں ان کو تسلی ہی دینے کیلئے ان کے پاس آئیں تاکہ وہ اپنے مقتولین کو ان کی موجودگی میں دفنا سکیں! لیکن عوامی تائید سے اقتدار کی مسندِ شاہانہ پہ بیٹھنے والے وزیرِ اعظم کا مزاج تو شاہانہ ہوچکا ہے۔ ان کی انا اور ان کی نخوت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ مفلوک الحال، غم زدہ مظلومین ان سے کوئی مطالبہ کرنے کی جسارت کریں۔
کیا جاتا تھا وزیرِ اعظم عمران کا اگر وہ سانحہ کی اطلاع ملتے ہی ان مظلوموں سے ہمدردی کے دو بول ان کے پاس جاکر بول لیتے؟
لیکن نہیں، ان کے پیروں میں تو شاید مہندی لگی تھی جو وہ گھر سے باہر نہیں جاسکتے تھے! سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ مشیروں اور وزیروں نے انہیں کوئٹہ جانے سے باز رکھا ورنہ وہ تو تیار تھے، پا بہ رکاب تھے۔
تو، میاں، آپ ان احمق اور جمہور دشمن مشیروں کی ناقص آراٗ کے اسیر کیوں ہوگئے؟ آپ کا تو ماضی یہ رہا ہے کہ کرکٹ کے کپتان کے روپ میں آپ اپنی خود سری کیلئے بدنام تھے کہ جو آپ کے دل میں ہوتا تھا وہ کرتے تھے اور کسی اور کھلاڑی یا کوچ کی صلا پہ کان نہیں دھرتے تھے تو اب کیا ہوگیا کہ آپ مشیروں اور وزیروں کی رائے پر چلنے لگے؟
یہ وزیر اور مشیرکی صلا صرف ایک بہانہ ہے اصل مسئلہ وزیرِ اعظم کی اپنی انا اور انانیت کاہے جو آہستہ آہستہ انہیں عوام سے دور کررہی ہے۔ آج سے آٹھ برس پہلے اسی طرح کے ایک دہشت گردی کے نشانے پر بھی یہی مظلوم ہزارہ برادری والے تھے کیونکہ ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہے۔ اس وقت وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف تھے جو سانحہ کی اطلاع ملتے ہی کوئٹہ پہنچ گئے تھے مظلوموں کو پرسہ دینے اور ان کے غم میں شریک ہونے کیلئے۔ راجہ پرویز نے ان سوگواروں کی درخواست پر بلوچستان کی صوبائی حکومت کو، جو ان ہی کی پارٹی کی تھی، برطرف کرکے ان کی بھرپور داد رسی بھی کی تھی!
راجہ پرویز اشرف کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، اس پارٹی سے جو عمران خان کی نظروں میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کی کثیر آبادی کی نظروں میں معتوب ہے اور بیجا نہیں ہے اسلئے کہ جب سے زرداری جیسا ڈاکو اس پہ قابض ہوا ہے اس پارٹی کا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے لیکن اس سے راجہ پرویز اشرف کی انسانیت دوستی پہ حرف نہیں آتا۔ انہوں نے مظلوموں کے زخم سینے کی ایک ایسی مثال قائم کی جو ہرحکمراں کیلئے مثال ہونی چاہئے لیکن افسوس کہ پیپلز پارٹی کو دن و رات طعنے دینے والے عمران خان میں انسان دوستی کی ایسی کوئی رمق بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اس حالیہ سانحہ کے جواب میں جس نخوت اور فرعونیت کا انہوں نے مظاہرہ کیا ہے وہ افسوسناک اور قابلِ مذمت تو ہے ہی لیکن اس کے سنگین نتائج ان کی قیادت کیلئے مرتب ہوسکتے ہیں جس کا شاید عمران کو ابھی اندازہ نہیں ہے!
ایک عوامی رہنما کا شاہانہ ذہن اور اس کی انانیت اسے عوام سے بہت دور لیجاتی ہے اور وہ ایک طرف تو عوام سے کٹ جاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ مشیروں اور وزیروں کے حلقے میں اسیر ہوتا چلاجاتا ہے اور یہ دونوں ہی عوامل عمران کی قیادت میں پوری طرح سے کارفرما دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم اپنے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا دفاع اس بودے اور بے دلیل اعلان سے کرتے رہے کہ انہیں بلیک میل کیا جارہا ہے جبکہ وزیرِ بے تدبیر اور عوام دشمن مشیر انہیں سیکیوریٹی کا ہوّا دکھا دکھا کر ڈراتے رہے اور وہ ڈرتے رہے یا اسے جواز بنا کر اپنی اخلاقی ذمہ داری کو ٹالتے رہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ قیادت اگر اخلاقیات سے عاری ہوجائے تو وہ اپنے پیروں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتا ہے۔ تعزیت کرنا، سوگواروں کو پرسہ دینا اخلاقی فریضہ ہے۔ ٹھیک ہے کہ اس میں قانون کا دخل نہیں ہے لیکن قیادت صرف قانون پر استوار نہیں ہوتی اس کی جڑیں اگر اخلاق اور تہذیب میں نہ رہیں تو پھر وہ اجڑی بیل بن جاتی ہے جو زیادہ دن نہیں چل سکتی۔
ہمیں بہت دکھ ہوا کہ چھہ دن کی تاخیر کے بعد بھی جب وزیرِ اعظم کوئٹہ تشریف لے گئے تو یہ نہیں ہوا کہ وہ پرسہ دینے ان سوگواروں کے پاس جاتے۔ وہ غریب اپنی امام بارگاہ میں انتظار کرتے رہ گئے لیکن شاہِ زمان وہاں نہیں گئے بلکہ ان سوگوار خاندانوں کے افراد کو اپنے حضور طلب فرمایا۔ انتہائی دکھ کی بات ہے۔ یہ صرف ہمارے اپنے مذہب کی روایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور ہر تہذیبی معاشرہ کی روایت ہے کہ تعزیت کرنے والا سوگواروں تک جاتا ہے انہیں اپنی جناب میں نہیں بلاتا لیکن شاہی کا جنون عمران خان پر ایسا سوار ہوا ہے کہ تہذیب اور روایت بھی ان کی نظر سے اوجھل ہوگئی ہے۔ نیوزی لینڈ کی جیسندا آرڈرن غیر مسلم ہیں لیکن وہ اپنے مسلمان شہریوں کے غم میں شریک ہونے کیلئے ان کی مسجد میں خود چل کر گئیں انہیں اپنے دفتر یا گھر میں حاضر ہونے کو نہیں کہا!
سوگواروں کے زخموں پہ وزیر اعظم نے ان کیلئے مالی اعانت کا اعلان کرکے دینا چاہا ہے اور یہ بھی شاہانہ ذہنیت کی کارفرمائی ہے جو انسانی جذبات کو مال و دولت کی ترازو میں تولتی ہے۔ ٹھیک ہے ان غریبوں کو امداد کی ضرورت ہے اور بہت اچھا کیا بلوچستان حکومت نے کہ جس کی طرف سے ہر سوگوار خاندان کو پندرہ لاکھ روپے کی امداد دی جائیگی۔ لیکن روپیہ پیسہ ان کے گھاوٗ نہیں بھرسکتا۔ ہزارہ برادری ایک طویل عرصہ سے، بیس برس سے، دہشت گردی کا شکار ہو تی آئی ہے اور آج تک کسی حکومت نے ان کی جانوں کو وہ تحفظ فراہم نہیں کیا جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس سانحہ میں بھی یہ کہا جارہا ہے کہ مرنے والے گیارہ میں سے آٹھ افغان شہری ہیں لیکن اگر یہ درست بھی ہے تو کیا حکومت اس عذر پر اپنی ذمہ داریوں سے بری سمجھی جاسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پاکستان کی حدود میں رہنے والے غیر ملکی بھی اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہیں جیسے پاکستانی شہری۔ اور ہم تو گذشتہ چالیس برس سے لاکھوں افغان باشندوں کو مہاجرین کی طرح سے اپنے ملک میں پناہ دئیے ہوئے ہیں کیا وہ ہماری ذمہ داری نہیں ہیں؟
اس المیہ میں ایک اور تکلیف دہ پیش رفت یہ ہوئی کہ اسے سنی اور شیعہ مسالک کے اختلاف کی ہوا دینے کی مذموم کوشش کی گئی ہے خاص طور پہ سوشل میڈیا میں چند شرپسندوں نے سر توڑ کوشش کی کہ اسے فرقہ واریت اور عصبیت کی بھینٹ چڑھادیا جائے اور حیرت میں مزید اضافہ یوں ہوا کہ بیشمار لوگوں نے اسے بہ آسانی قبول کرلیا کہ ہزارہ سوگوار پاکستان دشمن عناصر کی شہ پر عمران کو بلیک میل کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ بد بختوں کو خدا کا ذرا سا بھی خوف نہیں رہتا ایسے شراور فساد کا پرچار کرتے ہوئے!
عمران کو اس افسوسناک واقعہ کا کتنا سیاسی تاوان ادا کرنا پڑے گا اس کا احوال تو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں کھلے گا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس واقع کے بعد عمران کی شخصیت اور ان کے سیاسی قد کاٹھ کے ضمن میں بہت سے سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ عمران بہت تیزی سے اس جاگیردارانہ سیاسی مزاج کو اپناتے جارہے ہیں جو ان کی طرف سے ماضی میں شدید تنقید کا ہدف بنا رہتا تھا۔ یہ جاگیردارانہ کلچر کی جیت تو ہے لیکن اس سے بڑی شکست ان امیدوں کی ہے جو بیشمار پاکستانیوں نے، خاص طور سے نوجوان پاکستانیوں نے، عمران کی ذات سے وابستہ کی تھیں۔ ہم نے بہت سے لوگوں کو سنجیدگی سے یہ کہتے سنا ہے کہ عمران پاکستان کی آخری امید ہے!
ہماری اپنی دانست میں یہ خام خیالی ہے کہ عمران یا کوئی اور پاکستان کی آخری امید ہے۔ پاکستان ایک ذہین اور بیدار قوم ہے اور پاکستان کی دھرتی ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی کہ یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں ہی پاکستان کا آخری سہارا ہے یا آخری امید کی کرن ہے! ہاں یہ ضرور ہے کہ اس اعتماد کو عمران کے اس انا پرست رویے سے جو انہوں نے اس سانحہ میں اختیار کیا بہت زک پہنچی ہے جو ان کی ذات سے وابستہ کیا گیا تھا۔ اعتماد اور یقین کی شکست عام ہار نہیں ہوتی۔ خدا پاکستانیوں کو مزید مایوسی سے محفوظ رکھے!(آمین)