پاکستان کی فوج عوام کی زد میں کیوں؟

332

پاکستان کی فوج کے جنرلوں کے سابقہ اعمال اور اقدام پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فوجی جنرلوں نے پانچ مرتبہ آئینِ پاکستان پامال کرتے ہوئے دو مرتبہ آئین منسوخ اور تین مرتبہ معطل کیا ہے، سول حکومتوں پر قبضے، منتخب حکومتوں کے تختے الٹنے، پارلیمنٹوںکو برطرف کیا، عوام پر ظلم و ستم ڈھائے، ملک کو توڑا گیا، سیاستدانوں اور مقدمات بنا کر جیلوں میں ٹھونسا گیا، وزیراعظموں کو پھانسی، قتل اور ملک بدر کیا گیا، پاکستان کو پرائی جنگوں میں دھکیلا گیا، ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کیاگیا،وغیرہ وغیرہ جس کی وجہ سے پاکستانی فوج عوام کے سامنے بدنام ہوتی چلی آرہی ہے کہ آج پنجاب جیسا صوبہ جو فوج پیدا کرنے کا گڑھ ہے اس کے عوام بھی فوجی جنرلوں کے اعمال اور عوام فوجی جوانوں سے نفرت کرنے لگے ہیں جنہوں نے ماضی میں بنگال میں جو کچھ کیا تھا یا جو کچھ بلوچستان میں ہورہا ہے جس پر اہل پنجاب خاموش رہے مگر جب ڈھائی سال پہلے پنجاب کے سیاستدانوں پر انتخابی ڈاکہ زنی کی گئی تو پنجاب کے لوگ فوج کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے جن میں آہستہ آہستہ فوج کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے جس کا مظاہرہ جلسے اور جلوسوں میں فوجی سپہ سالار کے خلاف نعروں میں مل رہا ہے، تاہم جنرل مشرف نے جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری اور پوری عدلیہ کو برطرف کر دیا جن کے خلاف وکلاء تحریک نے جنم لیا جو اندرون اور بیرون ملک پھیل گئی جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ پنجاب میں فوج کے خلاف نفرت پیدا ہوئی جس میں لاہور کور کمانڈر کونوٹس جاری کرنا پڑا کہ فوجی جوان وردی پہن کر عام عوام میں مت جائیں اور بسوں، ٹرینوں اور ویگنوں میں سفرمت کریں، جس کو جنرل کیانی نے عدلیہ بحال کر کے اور جمہوری اقدام کی حمایت کر کے فوج کو عام عوام کی نفرتوں سے بچایا جو جنرل مشرف کے اعمال اور اقدام سے پیدا ہوئی تھیں، پھر جنرل کیانی نے سول اداروں میں نافذ فوجی افسران کو واپس بلوا لیا جس سے فوج کے خلاف نفرتیں کم ہوئی ہیں، مزید برآں بلوچستان میں جنرل مشرف کے دور میں پانچویں آپریشن کا آغاز ہواجو اب تک جاری ہے جس میں قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھی اور حامی اکبر بگٹی کو پہاڑ کے نیچے دفن کر دیا گیا جس سے بلوچستان میں شدید ردعمل آیا جو اب تک جاری ہے چونکہ بلوچستان سونا، چاندی، ،کوئلہ، دوسری معدنیات سے سونے کی چڑیا بن چکا ہے دوسرا ایران پر پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ وسیع پیمانے پر اسمگلنگ ہورہی ہے جس میں سکیورٹی ادارے اور سرحدوں پر نافذ اہلکار ملوث ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں چینی، آٹا اور دوسری اشیائے خورونوش میں کمی واقع ہورہی ہے کہ آج ایک زرعی ملک میں آٹے، چینی کی قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے ثبوت چار سوارب چینی،سوا دو ارب آٹا اور اربوں روپے ادویات میں کرپشن سے سامنے آئے ہیں جس کی مثال پاکستان میں نہیں ملتی ہے بہر کیف آج پھر پاکستان میں فوج عوام کی زد میں آچکی ہے جس کے جنرلوں نے 25جولائی 2018ء کے انتخاب میں وسیع پیمانے پر دھاندلی برپا کر کے ایک جعلی شخص عمران خان کو مسلط کیا جس کی وجہ سے اس رات کو کامیاب امیدواروںکو شکست میں بدل دیا گیا جس کی وجہ سے پنجاب کے عوام میں سخت بے چینی پھیل چکی ہے جو شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اہل پنجاب نے محسوس کیا کہ ان کے سیاستدانوں کو انتخاب سے باہر کیوں نکال دیا گیا ہے جس سے پنجاب کے عوام کی حکومت میں شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے یا پھر پنجاب پر ایک نالائق اور نااہل وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو مسلط کررکھا ہے جس نے پنجاب کی ترقی روک دی جس سے پنجاب میں بیروزگاری کا طوفان برپا ہو چکا ہے کہ جس سے پنجاب میں بھوک ، ننگ پھیل گئی جس کا الزام فوج پر لگ رہا ہے کہ یہ سب کچھ فوجی جنرلوں نے کیا ہے جس سے ملک میں سیاسی، معاشی اور مالی نقصانات پیدا ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اہل پنجاب میں فوج کے خلاف شدید ردعمل آرہا ہے۔
بہرحال پاکستان میں پوری اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ )کا اتحاد فی الحال ملکی انارکی کو اپنے قابو میں لانے کے لئے قائم ہوا تاکہ پورے ملک کے عوام کو متحد کیا جائے، ایسے اداروں کو مضبوط کیا جائے جو آزاد اور خودمختار ہوں ملکی آئینی اداروں کے اختیارات میں رہ کر کام کیا جائے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی قانونی حدود میں رکھا جائے ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کی جائے تاکہ پاکستان جدید ریاست کا رتبہ حاصل کر پائے، قصہ مختصر کہ طاقتور اداروں کے خلاف ہر مقام پر آواز بلند ہورہی ہے جس میں عدلیہ کے جج شوکت صدیقی کی آواز عام عوام میں گونج رہی ہے، جسٹس قاضی عیسیٰ نے اپنے فیصلوں سے اداروں کو پریشان کررکھا ہے، جسٹس وقار سیٹھ مرحوم جو تاریخی فیصلہ کر کے گئے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہے گا جس کی وجہ سے جنرل مشرف کبھی پاکستان میں نہیں آ پائے گا یا پھر پی ڈی ایم کے ردعمل سے عوام میں فوج کے خلاف غیض و غضب میں اضافہ ہورہا ہے جو کل کلاں سابقہ بنگال والی شکل اختیار کر سکتا ہے جو ملکی سلامتی کے خلاف عمل ہو گا جس سے بچا جائے تو بہتر ہو گا۔