دہشتگردی کیخلاف آخری معرکہ کب؟

245

۹ جنوری 2021 کو وزیر اعظم عمران خان کوئٹہ پہنچے اور ان دس کان کنو ںکی وفات پر ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے ملاقات کی ، جنہیں محض اس لیے داعش کے قاتلوں نے قتل کر دیا تھا کہ وہ شعیہ ہزارہ تھے۔ ان کی میٹنگ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میںہوئی۔ وزیر اعظم نے نہایت دکھ اور درد کا اظہار کیا اور جن کے عزیز و اقارب فوت ہوئے تھے ان سے اس اندوہناک واقعہ پرتعزیت کی۔وزیر اعظم نے انہیں یاد دلایا کہ وہ پہلے بھی ان کے غم میں شریک ہوئے تھے جب ایسا ہی واقع ہوا تھا۔اس زمانے میں لوگ امام بارگاہ جانے سے ڈرتے تھے چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی۔ اس ملاقات کے بعد انہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ کہ ان کو سارے حالات کی خبر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کن دشمنوں نے ایسا حملہ کروایا ہے، یعنی بھارت۔ اور مجھ سے بہتر آپ کے دکھ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔جب یہ واقعہ ہوا تو مجھے اندازہ تھا کہ یہ کسی بڑے منصوبہ کا حصہ ہے جس میں پاکستان میں سنی اور شعیہ میں فساد کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس لیے میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ کو آپ کے پاس بھیجا۔سب سے پہلے ہم آمنہ بی بی سے تعزیت کرنا چاہتے تھے جن کے پانچ بھائی اس حادثہ میں شہید ہوئے، اور محمد صادق جو چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے وہ بھی شہید ہوئے، ان کے اہل خانہ سے بھی۔انہوں نے کہا کہ میں ہزارہ برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ کہ ہم ان سفاک قاتلوں کو ڈھونڈھ نکالیں گے۔ اس گروہ کی تعداد 35۔40سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ پہلے لشکر جھنگوی کہلاتا تھا اب داعش بن گیا ہے۔ان کا قلع قمع بھی جلد ہو جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے آنے میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ بہت سی ذمہ واریاں تھیں جن میں مشغول تھا۔ کوئی بھی شخص اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ کوئی ایسا حادثہ نہ ہو، اس لیے میں نے کہا تھا کہ شہیدوں کی تدفین کر دی جائے۔ اگر آپ شرائط رکھیں گے تو میرے بعد آنے والوں کے لیے ایک پابندی بن جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کو لمحہ بہ لمحہ تمام حالت سے با خبر رکھا جا رہا تھا۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بات مانی اور تدفین کر دی۔اس ملاقات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔
3 جنوری 2021 کی روزنامہ نیویا رک ٹائمز کی اشاعت میںسلمان مسعود اور احسان ٹیپو محسود کی رپورٹ نے جس تفصیل اور جانبداری کے ساتھ کوئٹہ میں ہونے والے افسوسناک واقعہ کا ذکر کیا وہ لگتا تھا کہ سیدھا انڈیا کرانیکلز سے دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مسلح حملہ آوروں نے گیارہ کان کنوں کو اغوا کیا ور پھر ان کے ہاتھ پیر باندھ کر گولیوں سے ہلاک کیا اور کچھ کی گردنیں بھی کاٹیں۔ ( یہ ہلاک کرنے کا طریق کار بلا شبہ داعش کا امتیازی نشان ہے)۔یہ سب ہلاک شدگان ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا شعیہ اقلیتی فرقے کے تھے۔اور سنی انتہا پسندوں کا عمومی نشانہ۔ چار افراد زخمی ہوئے اور زیر علاج ہیں۔ یہ واقعہ مچھ میں پیش آیا جو کوئٹہ سے تیس میل مشرق میں ہے۔ اس ہولناک وادات کی ذمہ واری داعش نے لی۔ہزارہ فارسی بولتے ہیں اور اور ایک صدی پہلے افغانستان سے آئے تھے۔ ان کی کل آبادی پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ہزارہ آبادی نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹ کر کے اس بربریت کی مذمت کی اور اس حملہ کو دہشت گردی کا ایک اور غیر انسانی ، بزدلانہ فعل کہا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سیکیورٹی کے تمام اداروں کوہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ تمام وسائل کو بروئے کار لا کرقاتلوں کو گرفتار کریں۔اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کی جائے گی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ہلاک شدگان دس تھے۔
سن 2011میں شعیہ ہزارہ پر ایک ظالمانہ حملہ کیا گیا تھا ۔ اور حملہ آوروں نے نے یہ وارننگ دی تھی یہ کہہ کرکہ: ’’تمام شعیہ موت کے مستحق ہیں۔ ہم پاکستان کو ان ناپاک لوگوں سے صاف کر دیں گے۔پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کی سر زمین ہے اس لیے اس میں شعیہ کے بسنے کا کوئی جواز نہیں۔ ہمارے پاس مستند اور جید علماء کے فتوے ہیں جو شعیہ کو کافر مانتے ہیں۔ جیسے ہمارے جری نوجوانوں نے افغانستان کے شعیہ ہزاہ کے خلاف کامیاب جہاد کیا ہے، ویسا ہی جہاد پاکستان میں کریں گے۔ہم پاکستان کے چپہ چپہ سے ان کا صفایا کر دیں گے۔ہزارہ کے خلاف ہمارا یہ کامیاب جہاد پاکستان میں، خصوصاً کوئیٹہ میں ،مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ ہم پاکستان کو شعیہ ہزارہ کا قبرستان بنا دیں گے‘‘
ہزارہ کا گناہ صرف شعیہ ہونا ہے۔ ان کا ماخذ وسطی افغانستان کا علاقہ بامیان ہے۔ لیکن یہ کوئٹہ میں بھی صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ان کا دوسرا قصور یہ ہے کہ وہ زیادہ تر تاجر اور دوکاندار ہیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ سمجھدار ہیں بمقابل ان پر ظلم ڈھانے والے طوریز سے جو خرم ایجنسی میں رہتے ہیں۔اور وہاں بھی صدیوں سے ہیں۔جو پاکستان میں ہیں وہ اگرچہ کچھ نہ کچھ مقابلے کی سکت رکھتے ہیں لیکن حکومت پاکستان نے ان کو لشکر جھنگوی اورداعش کے حوالے کیا ہوا ہے۔
اس سلسلہ میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے شعبہ انٹربیشنل ریلیشنز کے ایک ریسرچ سکالر تابش قیوم کا ماسٹرز ڈگری کا مقالہ قابل ذکر ہے، جس کا عنوان تھا: ’’آیئسس کے قدموں کے نشان، پاکستان میں: حقیقت یا افسانہ‘‘، ایک پاکستانی کے نقطہ نظر سے اس مسئلہ پر یہ تحقیق روشنی ڈالتی ہے۔ورنہ بھارتی پراپیگنڈا اور اسرائیلی نقطہ نظر توا نٹر نیٹ میڈیا پر بکثرت موجود ہے۔ تابش نے آج سے پانچ سے سات سال پہلے کے زمانہ کو پرکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش(ISIS) ریاست کے بنیادی تصور کو ہی نہیں مانتا اس لیے یہ شام اور عراق سے باہر بھی تمام دنیا میں اپنا اثر و نفوذ چاہتا ہے۔اس کے لیے ان کا اولین طریق کار تشدد اور دہشت پھیلانا ہے۔ داعش نے مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں کو برابر نشانہ بنایا تا کہ دنیا میں قیامت صغرا برپا کی جا سکے۔اس گرو ہ نے عراق، شام، کے علاوہ سعودی عرب اور ترکی، بنگلہ دیش، اور افغانستان میں بھی دہشت گردی کے بڑے بڑے حملے کیے۔ حال ہی میں انہوں نے کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں دہشت گردی کے حملہ کی ذمہ واری قبول کی۔ پاکستان سے انکی دلچسپی ایک تاریخی کہاوت سے منسلک ہے ۔ جس میں یہ افغانستان، وسطی ایشیا اور شمالی پاکستان کے کچھ حصوں کو کو خراسان کہتے ہیں۔اگرچہ داعش کو پاکستان میں قدم جمانے کا موقع نہیں ملا اس کے یہاں آ کرکاروائیاں کرنے کے امکانات ہیں کیونکہ یہ افغانستان اور دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک میں تیزی سے پہنچ رہے ہیں۔داعش نے یورپ اور کئی مسلم مما لک میں دہشت گردی کے واقعات کر کے اپنی دہشت پھیلا دی ہے۔ اور کچھ نوجوان اس سے مرعوب ہو کر اس تنظیم سے جا ملے ہیں جن میں پاکستانی لڑکے بھی ہیں اور لڑکیاں بھی۔اس گروہ نے سوشل میڈیا کا بھی خوب استعمال کیا ہے اور اسکے ذریعے اس نے دنیا بھر سے نو جوانوں کو بھرتی کیا ۔افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیز، جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ، جیسے سی پیک، پاکستان کی کشمیریوں کی حمایت، وغیرہ، میں داعش کا کام آسان کرتی ہیں۔ داعش کا پاکستان میں داخلہ اتنا آسان نہیں چونکہ اس کی القاعدہ سے نہیں بنتی جو پہلے ہی پاکستان میںجگہ بناچکا ہے۔امریکہ میں دہشت گردی کے بڑے حملے کے بعد پاکستان کو مجبوراً امریکہ کا ساتھ دینا پڑا جس سے یہ گروہ پاکستان کے خلاف ہو گئے اور ان کے لگاتار حملوں سے ساٹھ ہزار پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔2014 میں جب تحریک طالبان پاکستان نے پشاور میں فوجی بچوں کے سکول پر حملہ کیا جس میں ایک 123 بچے شہید کیے گئے، اس کے بعد سے پاکستانی فوج نے ان گروہوں کا قلع قمع شروع کیا۔ افغانستان میں ان کی موجودگی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعلق ایک نا قابل تردید حقیقت ہے۔
اسلامآباد سے کلاسرا نے ایک اخباری رپورٹ میں بتایا کہ داعش کی پاکستان میں آمد کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔خصوصاً مارچ 2019 میں ترکی کے صدر اور ملائیشیا کے وزیر اعظم کی پاکستان میں آمد پر۔ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں2018میں595لوگ مارے گئے جن میں سے 48فیصد ایسے پانچ حملوں میں مارے گئے جو داعش سے منسوب کیے گئے۔ان میں سے 354 بلوچستان میں ہلاک ہوئے۔ایک خیال یہ ہے کہ پاکستانی گروہ لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ داعش کے لیے ہمددری رکھتے ہیں جنکی مدد سے داعش پاکستان میں قدم جما سکتی ہے۔جسکی ایک مثال 24 اکتوبر2016 میں تین مسلح افراد نے کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج میں سوئے ہوئے 61کیڈٹس کو ہلاک کر دیا اور165 کو زخمی۔ اور لشکر جھنگوی نے اس واردات کی ذمہ واری قبول کی۔ان کے معاونین میں ایک اور گروہ جماعت الا احرار کا نام بھی شامل ہے۔خلافت اسلامیہ عراق و شام معصوم مسلمانوں کو قتل کر کے اسلام کی کیا خدمت انجام دے رہی ہے یہ تو انہیں کو معلوم ہو گا، لیکن پاکستانی اسلام کے نام پر بنائے ہوئے گروہوں کو کیا خدا یاد نہیں کہ وہ نا حق اپنے پاکستانی بھائیوں کا خون کرتے ہیں؟ کیا جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے؟یا یہ لعنتی جہنم کا ایندھن بنیں گے؟
راقم کو یاد ہے کہ کافی پہلے ان جنگ باز گروہوں کو، جیسے لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور سپاہ صحابہ جیسے مذہبی گروہوں کی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی تھی اور انہیں غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ ان کے اکثرارکان تتر بتر ہو گئے اور کچھ نے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں میں شرکت کر لی۔جب فوج نے رد الفساد کی مہم چلائی تو ان کے بہت سے لڑاکا ارکان مارے گئے۔ پھربھی ا بھی اسلام کی خاطر مرنے والے کچھ باقی ہیں۔ اکثر علماء کا فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کے ذریعہ اسلام نہیں پھیلایا جا سکتا۔ اور اس ہیچمدان کی رائے میں ان حرکات سے نہ صرف اسلام کی بد نامی ہوتی ہے، بلکہ قرآن مجید کی صریح نا فرمانی بھی۔ یہ لوگ بہت گھاٹے میں رہیں گے کیونکہ ان کی دنیا بھی خراب اور آخرت بھی۔اور اب بھارت بھی خبر دار۔ ان کی بد ذاتیوں کے دن بھی پورے ہونے کو ہیں۔
افسوس اس بات کا ضرور ہے کہ حزب مخالف کے سیاستدانوں نے ان لاشوں پر بھی سیاست کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے دیا۔ اور دشمنوں نے تو انڈیا کرانیکل کے ذرائع سے بھر پور فائدہ اٹھایا او رساری دنیا میں پاکستان کی تذلیل کی جیسے کہ پاکستانیوں نے اپنی اقلیت کے ساتھ یہ سلوک کیا ہو، پاکستان کے میڈیا نے بھی کوئی کثر نہیں اٹھا چھوڑی۔اور وزیر اعظم کی کوئٹہ روانگی میں تاخیر سے لتے لیے۔ان بے شرموں کو نہ کوئی لحاظ ہے اور نہ کوئی شرم!!!