ہزارہ کا دکھ اور سازشی!!

270

شہدا کے ورثاء نے میتوں کی تدفین کی اجازت دے دی۔ شہداء کمیٹی اور حکومتی اراکین میں مذاکرات کامیاب ہوئے ورثاء نے تدفین کی اجازت دے دی۔پاکستان کو ایک اور سازش سے بچا لیا۔بلوچستان کے علاقے مچھ میں دہشتگردوں نے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کو اغوا کرکے قتل کردیا تھا جس کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری میتوں کے ساتھ سراپا احتجاج تھی کہتی تھی وزیر آعظم آئیں گے تو لاشیں دفنائیں گے اور وزیر آعظم کہتے ہیں تم لاشیں دفنائو گے تو میں آئوں گا ، بلیک میل نہ کیا جائے۔ بلیک میلنگ کی بات کا اشارہ ان عناصر کی طرف ہے جو ہزارہ والوں کو بطور سیاسی ہتھکنڈا استعمال کر رہے ہیں۔ہر درد دل رکھنے والاسمجھتا ہے ہزارہ برادری کے دُکھ میں پوری قوم دکھی ہے۔میت کی فوری تدفین شرعی حکم ہے، خدارا اسے سیاست نہ بنایا جائے۔کچھ روز پہلے FC کے11 ماں کے11سپوت بی ایل اے دہشتگردوں نے شہید کئے،کیا کسی نے لاشیں سڑکوں پر رکھ کر احتجاج کیاکہ وزیراعظم یا آرمی چیف آئیں گے تو دفنائیں گے ؟ہزارہ اور پورے پاکستان کو اللہ مودی کی سازش سے محفوظ رکھے( آمین)۔کون نہیں جانتا بلوچستان اور ہزارہ میں انتشار بد امنی کے پیچھے کون ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے۔ سازشی چاہتے ہیں وزیر آعظم احتجاج والی جگہ لواحقین کو منانے پہنچیں اور دھماکہ کر دیا جائے۔احتیاط لازم ہے۔ سیاست اپنی جگہ مگر ملک اس وقت کسی اور سانحہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔جب بھی ہزارہ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اپوزیشن کو سیاست چمکانے کاموقع مل جاتا ہے۔کبھی عمران خان بھی اپوزیشن تھے اور ہزارہ میں رکھی لاشوں پر حکومت وقت کو للکارا کرتے تھے۔ آج مریم نواز متحرک ہے۔مریم نواز اپنے شہر لاہور ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے گھر تعزیت کے لیے کبھی گئی؟بلاول اپنے علاقے تھر میں بھوک سے مرنے والوں کے گھر کتنی مرتبہ گیا ؟لیکن جہاز پر بیٹھ کرکوئٹہ پہنچ گئے۔ ہزارہ میں قتل و غارت گری کو فرقہ وارانہ رنگ دینا مذہبی منافرت پھیلانا ہی تو دشمن کا ہدف رہا ہے ، اس مشن میں اندرون ملک میر جعفر میر صادق استعمال کئے جاتے ہیں۔ ہر حکومت اپنے وقت میں اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے لیکن جب اپوزیشن ہوتی ہے تو سیاست چمکانے کا موقع ضائع نہیں کرتی۔ ہزارہ وسطی افغانستان میں بسنے والی اور دری فارسی کی ہزارگی بولی بولنے والی ایک برادری ہے۔ یہ تمام تقریباً شیعہ اسلام کے پیروکار ہوتے ہیں اور افغانستان کی تیسری سب سے بڑی برادری ہے۔ ہزارہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔’ جب چنگیز خان کے پوتے نے اسلام قبول کیا تو پھر ہزارہ قبیلے میں بھی اسلام آیا۔ چنگیزخان ایک عظیم الشان سلطنت کے فرمانرواتھے اور اپنے عروج کے دورمیں منگول سلطنت تین کروڑ مربع کلومیٹر پرپھیلی ہوئی تھی۔ افغانستان میں جن چار صوبوں میں جن علاقوں میں ہزارہ رہتے ہیں ان علاقوں کو ہزارہ جات کہا جاتا ہے۔ افغانستان کا خوبصورت صوبہ بامیان میں ہزارہ قبیلے کے افرادکی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کی جڑیں چین، افغانستان، پاکستان اور ایران سمت یورپ کے دھانے پر واقع ترکی تک پھیلی ہوئی ہیں۔
ہزارہ قبیلے میں اثنا عشری، اسماعیلی اور محدود تعداد میں اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے۔ افغانستان کے فرمانروا امیر عبدالرحمان کے ظلم سے تنگ آکر ہزارہ قبیلے کے افراد کوئٹہ کے جس علاقے میں آ کر آباد ہوئے اسے مری آباد کہا جاتا تھا اور جو اس وقت مری قبیلے کی چراگاہیں تھیں۔ ہزارہ قبیلے کو ہدف بنانے میں افغانستان کے فرمانروا امیر عبدالرحمان کو انگریز کی حمایت حاصل تھی ،اس کے باوجود جب عبدالرحمان کو ہزارہ سے شکست نظر آنے لگی تو پھر انہوں نے چند علماء سے فتو یٰ حاصل کیا کہ ہزارہ کافر ہیں۔
‘اس فتوے کو بلوچستان تک پہنچایا گیا۔ 1890 میں جب افغانستان کے حکمران عبدالرحمان نے ہزارہ قبیلے کے خلاف بڑا آپریشن کیا تو اس وقت اس کی وجہ مذہبی نہیں تھی۔شاید بعد میں ہونیوالیواقعات میں مذہب کا عنصر بھی شامل ہوگیا۔ تاہم اس آپریشن کے بعد ہزارہ کی بڑی تعداد نے کوئٹہ کا رخ کیا۔ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہزارہ قبیلہ دراصل ترکوں کا ہی ایک قبیلہ ہے جو جنگوں کے دوران افغانستان میں رہ گیا تھا ۔درحقیقت ہزارہ اپنی شکل و صورت اور کلچر میں ترک النسل ہی ہیں۔