زبان کے زخم ،تلوار کے زخم سے گہرے ہوتے ہیں!

385

بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا، دشمن نے ملک میں ہونے والی افراتفری سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دینے کے لئے ہزارہ برادری پر کاری وار کیا گیا، اس برادری پر پہلی دفعہ حملہ نہیں ہوا، اسے پہلے بھی 2003ء سے انہیں شہید کیا جاتا رہا ہے، زائرین کی بسوں کو آگ لگائی گئی، مسافروں کو اتار کر گولیوں سے چھلنی کیا گیا اور اللہ ہواکبر کے نعرے لگائے گئے، اس برادری کے سرکاری اعداد و شمار کی رو سے تو 600سے اوپر لوگوں کو شہید ہوئے لیکن حقیقت میں 2سے 3ہزار لوگوں کو شہید کیا گیا، نئے سال کا ریاست مدینہ کو یہ تحفہ دیا گیا، یہ غریب مزدور جو اپنی جانوں سے گئے ان کے بے آسرا لواحقین ان کے جنازوں کو لئے اس سرد موسم میں یعنی درجہ حرارت منفی 8ڈگری میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اس میں بچے، بوڑھے، خواتین سب شامل ہیں، یہ مرنے والوں کا سوگ منارہے ہیں، ان کے جانے سے ورثاء پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس کا بیان بڑا دردناک ہے ۔وزیراعظم نے شیخ رشید، زلفی بخاری، علی زیدی کو ان کی اشک شوئی کے لئے بھیجا تھا، ان کے مطالبات کوبھی حکومت نے تسلیم کر لیا تھا لیکن ان سوگواروں کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم خود آئیں اور ان کی دادرسی کریں۔ یہ کوئی ناجائز مطالبہ نہیں تھا، کسی بھی ملک کا سربراہ قوم کے باپ جیسی حیثیت رکھتا ہے، اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دکھ درد میں پوری طرح شریک ہو۔ حالانکہ وزیراعظم کے کوئٹہ آنے سے شہید زندہ نہیں ہو جائیں گے، نہ لواحقین اپنے غم سے نجات پا جائیں گے، بس ذرا انہیں اس بات کی تسلی ہو گی کہ ہماری آواز سنی گئی اور ہماری داد رسی ہو گی۔ کچھ حد تک مستقبل کے لئے ڈھارس بندھ جائے گی لیکن ریاست مدینہ جو بنانے جارہے تھے انہوں نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا، ان کا کہنا تھا میں ایسی بلیک میلنگ میں نہیں آئوں گا ’’یاد رہے تلوار کے زخم بھر جاتے ہیں زبان کے زخم نہیں بھرتے‘‘ یہ جملہ مرے پر سو درے کی طرح ہے۔ ان کے زخموں پر نمک پاشی نہیں تو اور کیا ہے۔ ضد ہے کہ اپنے شہیدوں کو دفن کرو پھر حضور بہ نفس نفیس تشریف لائیں گے، وزیراعظم نے اس وقت بڑی ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیا ہے۔ پورے ملک میں اس وقت لوگ اس شدید موسم میں اور ایک وباء کی زد میں آنے کے خطرات کو بالائے طارق رکھ کر شہروں کی اہم شاہراہوں پر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں، اس میں لوگوں کی جانیں بھی جا سکتی ہیں، اس میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں، عمران خان کو ذرا سا اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ مزید زندگیوں کو کتنے خطرات لاحق ہیں، دوسری طرف ملک میں جو ٹرانسپورٹر اشیائے خورونوش پہنچاتے تھے ان کے راستے مسدود ہو گئے ہیں، بعض سبزیاں اور پھل مثلاً کینو وغیرہ کے تلف ہو جانے کا خطرہ بھی ہے، یعنی ملک کو جانی اور مالی دونوں طرح کے خطرات لاحق ہیں، عمران خان ارطغرل کے اداکاروں سے مل رہے ہیں ،شوبز کے لوگوں سے مذاکرات ہورہے ہیں لیکن ملک کے اتنے بڑے سانحے سے بالکل بے بہرہ ہیں، PDMکی پھولن دیوی، بائولا بھٹو پہنچے ہوئے ہیں، وہ لاشوں پر سیاست فرمارہے ہیں، ان کی PDMنے ملک کو اتنا نقصان نہ پہنچایا ہو گا جتنا اس سانحے اور وزیراعظم کی ناعاقبت اندیشی سے حکومت کو پہنچے گا، کیا بات تھی اگر چند گھنٹے نکال کر چلے جاتے ان مصیبت زدہ لوگوں کو ڈھارس ہو جاتی کہ ان کی سنوائی ہوئی، کسی جنازے کو کندھا دے دیتے تو کتنی بڑی بات ہوتی، اب اس پر بھی اڑ جانا کہ تم اپنے شہیدوں کو دفن کرو میں فوراً پہنچ جائوں گا، پتہ نہیں اس ضد کا کیا حل نکلے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، دعا ہے کہ اللہ مرحومین کے رشتہ داروں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آئندہ اس قسم کے حادثات سے محفوظ رکھے(آمین) اور اللہ تعالیٰ دشمن کو ناکام کر دے، اس کے عزائم بڑے خطرناک تھے، اسی دہشت گردی کے پس پردہ سی پیک منصوبے کو بھی نقصان پہنچانا مقصود تھا، بہرحال اپوزیشن اس کا خوب فائدہ اٹھارہی ہے، خاص کر پھولن دیوی ہزارہ خواتین سے ہمدردی کرنے پہنچی تھیں اور وزیراعظم کو بھی لعن طعن کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، بڑی عجیب بات ہے ماڈل ٹائون کا واقعہ ان کی رہائش گاہ سے صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا تھا وہاں نہ جا سکیں، جب سوال کیا گیا تو جواب دیا کہ سیاسی معاملات پر بحث نہیں کرنا چاہتیں، دنیا کو ان کی اور ان کے پورے ٹبر کی دوغلی ذہنیت کا علم ہے۔ ماڈل ٹائون میں 16لوگ شہید ہوئے تھے اور سو کے قریب لوگوں کو گولیاں لگی تھیں، شوٹنگ کی آواز ان کے گھر تک آئی ہو گی، حکومت جان لے کے اب اس دھرنے سے مالی اور جانی جو نقصانات ہوں گے اس کا سارا ملبہ عمران خان پر گرے گا اور یہ غلط بھی نہ ہو گا، اس کم ظرفی کا ازالہ کیسے ہو گا؟ دوسری طرف پولیس کی دہشت گردی بھی جاری و ساری ہے، اسامہ ستی کا قتل اس کا ثبوت ہے، پولیس کا محکمہ عوام کی جان و مال کو تحفظ دینے کے لئے بنایا گیا، وہی عوام کو غیر محفوظ کرنے لگا، پولیس میں چور، ڈاکو، لٹیرے، بھتہ خور ٹارگٹ کلر موجود ہیں۔اکثر لوگ ان لوگوں کو پیسے دے کر اپنے دشمنوں کو ٹھکانے لگواتے ہیں تو صاحب جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، تھانے کا انچارج اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے۔ اس کے زیر سرپرستی ہر قسم کے جرائم پرورش پاتے ہیں۔ یہ جرائم کے اڈے چلانے والے تھانے میں پابندی سے مہینہ پہنچاتے ہیں جو تھانے والوں کو حصہ بقدر جثہ دیا جاتا ہے اور بیشتر حصہ اوپر والوں کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ ایک تھانہ انچارج سالوں تک اسی علاقے میں براجمان رہتا ہے۔ اسی کلچر کو بدلنے کی کوشش عمر شیخ نے کی تھی، سرکاری زمینوں پر قبضہ بزور طاقت، علاقے میں بدنظمی، عوام پر زیادتی ،زبردستی ،لوگوں کو ان کی جائیدادوں سے محروم کرنا مزاحمت پر صفحہ ہستی سے مٹا دینا، اس میں کھوکھر برادران کے محلات کی بھی نشاندہی کی گئی، ن لیگ کے نائو میں بھی بانس ڈالنے کی کوشش کی گئی سو عمر شیخ کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے جیسے ای ڈی خواجہ کو سندھ حکومت نے ناقابل برداشت قرار دیا اور پتہ صاف کروا دیا۔ اسلم چودھری ایک دبنگ پولیس افسر تھا، جس نے دہشت گردوں کو صفایا کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا اس کا ہی بیڑا پار کر دیا گیا۔
اسامہ ستی کا پولیس کے ہاتھوں قتل پہلا واقعہ نہیں ، اس 22سالہ نوجوان کو ستر گولیاں ماری گئیں، گاڑی کو چھلنی کر دیا گیا، دو گولیاں مقتول کو لگیں اور اس کی خاموش فریاد فلک تک پہنچی، آج تک کسی پولیس والے قاتل کو سزا ئے موت نہیں ہوئی، اسامہ ستی کے قاتلوں کو بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، لیکن اس نوجوان کی موت کا مداوا نہیں ہو سکتا، والدین کا ضعیفی کا سہارا زندہ نہیں ہو سکتا، رائو انوار جیسا قاتل اب تک زندہ ہے، پتہ نہیں کون سے کونے میں چھپا ہوا ہے، یہ سب قاتل حکومت کی تبدیلی کے انتظار میں ہیں، دوسری حکومت آئے گی یہ پھر اپنے عہدوں پر براجمان ہوں گے کیونکہ حکومت کمزورہے ،عدالتی نظام بکا ہوا ہے۔ اب کون ہے؎
مقتل سے آرہی ہے صدا اے امیر شہر
اظہار غم نہ کر میرا قاتل تلاش کر!!!