بیکٹیریا بھی وقت بتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

362

ڈنمارک: قدرت کے کارخانے میں انسان، جانور، پرندے اور پودے بھی اپنی اندرونی (حیاتیاتی) گھڑی رکھتےہیں۔ اب تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ عین اس طرح خردنامیوں اور بیکٹیریا میں بھی اندرونی گھڑی موجود ہوتی ہے۔ اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ گھڑی 24 گھنٹوں کی مناسبت سے کام کرتی ہے۔

بیکٹیریا کی گھڑی کا سراغ پانے سے ہم بایو ٹیکنالوجی، دوا کھلانے اور فصلوں کے تحفظ سمیت بہت سے اہم کاموں کو آسان کرسکٰں گے۔ لیکن جانداروں کی گھڑی کو ہم حیاتیاتی گھڑی کہتے ہیں جو بیرونی عوامل کے تحت کام کرتی ہیں۔ انہیں سرکیڈیئن ردم بھی کہا جاتا ہے۔ اسی گھڑی کی بدولت جاندار اجسام بدلتے شب و روز اور موسموں کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہوکر خود کو منظم رکھتے ہیں۔

خلیے کے اندر موجود سالمات بیرونی درجہ حرارت اور دن رات کے لحاظ سے کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح انسانوں میں طویل فضائی سفر کے بعد وقت کے دن رات کا تصور متاثر ہوتا ہے جسے جیٹ لیگ کہا جاتا ہے۔

گزشتہ دو عشروں سے ماہرین انسانی خلیات کی اندرونی گھڑی اور پودوں میں ضیائی تالیف (فوٹوسنتھے سز) میں پودوں کی خلیاتی گھڑی کو جاننے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ اسی طرح انسانی نیند اور دماغی ارتکاز میں باقاعدگی کو سمجھنے کی بھی کوشش کی جارہی تھی۔ اب اس دریافت سے ان عوامل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اگرچہ زراعت میں بیکٹیریا کا 12 فیصد کردار ہوتا ہے لیکن ان کی اندرونی گھڑی سے ہم واقف نہ تھے۔ اس سے قبل ضیائی تالیف میں بھی اندرونی گھڑی کا کردار سامنے آتا رہا ہے۔ لیکن الگ تھلگ رہنے والے بیکٹیریا میں یہ بات سامنے نہیں آئی تھی۔ ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم نے مٹی میں پائے جانے والے بیکیلس سبٹائلس بیکٹیریا میں اندرونی ردم دریافت کی ہے۔