کس سمت میں؟

39

’’کرک‘‘ میں ایک مندر کو آگ لگا دی گئی اور مندر جل کر خاکستر ہو گیا، کچھ بھی نہ بچا مگر بہت بے شرمی کے ساتھ یہ بیان داغ دیا گیا کہ اس کام میں بھارت ملوث ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے، ابھی مندر کی راکھ سے دھواں اٹھ ہی رہا تھا کہ مچھ کے مقام پر گیارہ کان کنوں کو بہت بے دردی سے قتل کر دیا گیا، بتایا جاتا ہے کہ سارے مقتولین کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے، اس سانحے پر بھی ایک مذمتی بیان سامنے آیا اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ اس واقعے میں بھی بھارت ملوث ہے، گو پاکستان کے سیاست دانوں اور کرپٹ میڈیا سے لوگوں کا اعتبار اٹھ چکا ہے اور کوئی بھی ان بیانات پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں مگر پھر بھی ان جھوٹے بیانات پر یقین کر لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پختون خواہ اور مچھ( بلوچستان) میں RAWموجود ہے تو کیوں موجود ہے اور اس پر نظر رکھنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، ہماری ایجنسیاں کیا کررہی ہیں؟ اور اگر یہ ایجنسیاں اتنی ہی بے بس ہیں تو کیا RAWکو اپنے آپریشن کرنے کی پوری آزادی ہے اور کیا بے گناہ لوگوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا، اور ہم کچھ نہ کر پائیں گے، آج سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی خبردار کیا ہے کہ بدامنی پھیلانے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے فنڈنگ غیر ممالک سے پاکستان پہنچ چکی ہے، اگر سابق وزیر داخلہ کو یہ خبر ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کی خبر ایجنسیوں کو نہ ہو، اس پس منظر میں کیا سمجھ لیا جائے کہ کرک کے مندر میں آتشزدگی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی کارروائی ہے اور اس کو دینی حلقوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور کیا یہ دینی حلقے پاکستان میں اقلیتوں کو جینے کا حق نہیں دیں گے اور کیا مچھ( بلوچستان) میں گیارہ معصوموں کا قتل پاکستان میں فرقہ وارنہ فسادات کرانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، اگر ایسا ہی ہے تو حکومت اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، بلوچستان تو عملاً فوج کے کنٹرول میں ہے، اس کی موجودگی میں گیارہ معصوم ہزارہ برادری کے افراد کا قتل کیونکر ممکن ہو سکتا ہے، ایسا کیوں ہے کہ بھارت جہاں چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے کارروائی کر سکتا ہے؟ اور یہ آزادی افغانستان کو بھی میسر ہے، وہ بھی آسانی سے پاکستان کی پیٹھ میں خنجر اتار کر چلا جاتا ہے اور عمران افغانستان کی محبت سے سرشارہیں، عجب فلسفہ ہے کہ افغانستان میں امن ہو گا تو خطے میں امن ہو گا اور اگر افغانستان سے تجارت ہو گی تو پاکستان ترقی کرے گا، کوئی عقل کا دشمن ہی ایسی باتیں کر سکتا ہے، پاکستان اس وقت مکمل طور پر ایک سکیورٹی سٹیٹ بنی ہوئی ہے گو کہ پاکستان میں اعلانیہ مارشل لاء نہیں مگر مارشل لاء کی طرز پر ہی حکومت چلائی جارہی ہے، باجوہ غیر اعلانیہ وزیر خارجہ ہیں، تمام سفارتی ملاقاتیں باجوہ ہی کرتے ہیں اور ان ملاقاتوں کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوتا ہے اس میں کہا جاتا ہے کہ باہمی دلچسپی کے معاملات پر بات چیت ہوئی، مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ باہمی دلچسپی کے معاملات کیا ہوتے ہیں، حکومت کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام معاملات تو وزیراعظم دیکھتا ہے یہ کب سے ہوا کہ ملکوں کے درمیان فوج دیکھنے لگی؟ ہم اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ تمام معاملات فوج کے ہاتھوں میں ہیں اور عمران کو معاملات کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے ان تمام ملاقاتوں سے الگ رکھا جاتا ہے، کبھی غور سے اس میز کا جائزہ لیجئے جس پر وزیراعظم بیٹھے ہوتے ہیں، اس میز پر کبھی آپ کو کوئی فائل نظر نہیں آئے گی، کوئی بتلائے کہ ہم بتلائے کیا، پی ڈی ایم کے غبارے سے گو کہ ہوا نکل چکی ہے مگر مریم اور مولانا فضل الرحمن کا لہجہ بہت سخت ہے مگر یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید کہہ رہے ہیں کہ جو بھی فوج کے خلاف بات کرے گا اس کے خلاف72 گھنٹے کے اندر پرچہ درج ہو گا، اگر وزارت داخلہ اتنی ہی مستعد ہوتی تو مریم اور مولانا کے خلاف نہ صرف پرچہ کٹ چکا ہوتا بلکہ ان کو کال کوٹھری کے اندار ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہورہا اور انتظامیہ کی اجازت نہ دینے کے باوجود پی ڈی ایم اپنے جلسے کررہی ہے بلکہ حکومت اور فوج کو للکار رہی ہے۔
پاکستان میں ہر حکومت کے خلاف ایک تحریک شروع ہو جاتی ہے اور حکومت کو جانا ہوتا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ یہ بادشاہ گر کون ہیں، ان کی دو جوہات سمجھ میں آتی ہیں ایک تو یہ کہ ہر حکومت کو دو سال سنبھلنے میں لگ جاتے ہیں تیسرے سال ہر حکومت کو دھڑکا لگ جاتا ہے کہ اگر عوام کو کوئی ریلیف نہ ملا تو ان کو اگلے الیکشن میں ووٹ نہیں ملے گا گویا کسی بھی حکومت کے پاس کام کرنے کے لئے آخری تین سال ہوتے ہیں، ہر اپوزیشن کو اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے یہی سال درکار ہوتے ہیں، پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں یہی patternنظر آتا ہے، کیا یہ ہماری اپنی establishmentکی حکمت عملی ہے یا پھر یہ حکم عالمی طاقتوں کی طرف سے آتا ہے؟ یہ اہم سوال ہے، دوسرا سبب یہ ہے کہ ہر ملک کی ترقی کا انحصار اس کی معاشی پالیسیوں پر ہوتا ہے،شعیب کے بعد کسی حکومت کو کوئی اچھا وزیر خزانہ نہیں ملا، میرا خیال ہے کہ patternبلا سبب نہیں پاکستان کے لئے یہ patternپسند کر لیا گیا ہے اور پچھلے پچاس سالوں سے اس کو فوج نہایت کامیاب سے executeکررہی ہے اور عالمی طاقتیں اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو افغانستان کا جھنجھنا دے کر بفر زون بنایا ہوا ہے، پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے جو واقعات ہوتے ہیں وہ دنیا کو ڈرانے کے لئے کرائے جاتے ہیں اور ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ دہشت گرد دنیا کا امن تباہ کر دیں گے، اور یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ان وحشی قبائلیوں کو کسی بھی وقت اسلام کے نام پر استعمال کیا جا سکتا ہے، عالمی establishmentنے اس patternکی منظوری دے کر غالباً پاکستان کی فوج کو یہ ضمانت دے رکھی ہے کہ اس کو برقراررکھا جائے گا، یہ خطرناک صورت حال ہے شبہ پڑتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے لہجے کے پیچھے کوئی معشوق ہے اس پردہ ء زنگاری میں۔
ہرچندکہ عمران کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے مگر پاکستان کی سیاسی سمت متعین نہیں ہے اور سیاسی سمت متعین اس لئے نہیں کہ حکومت کی معاشی ترجیہات درست نہیں، معاشی مفادات ہی عالمی برادری میں تعلقات کو defineکرتے ہیں، یہ درست نہیں کہ افغان مسئلہ حل ہو گا تو خطے میں امن آئے گا اگر عمران یہ سوچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ عمران کو خطے کی سیاست سے کما حقہ واقفیت نہیں اور یہ مفروضہ بھی درست نہیں کہ افغان تجارت پاکستان میں ترقی لائے گی، ہر ملک کو تجارت میں زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے، افغانستان سے foreign exchangeمل ہی نہیں سکتا، البتہ افغانستان کوتجارت کے وسیع مواقع حاصل ہو جائیں گے، سو سمجھ میں نہیں آتا کہ عمران کو پاکستان کے مفادات عزیز ہیں یا افغانستان کے، زلمے خلیل اس وقت بھی آرمی چیف جو پاکستان کے ڈی فیکٹو وزیر کادرجہ بھی ہیں زلمے خلیل سے ملاقات کررہے ہیں مگر یہ آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں، فی الحال افغان مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آتا اور یہ بھی نظر نہیں آتا کہ پاکستان بفرزون نہ رہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.