ـٹی وی کی کہانی(حصہ دوئم)

43

دنیا بدل رہی ہے جو آج نیا ہے کل پرانا ہو جائے گا، اب چاہے کوئی فیشن ہو یا گانا اکثر جب وہ آپ تک پہنچتا ہے تو پرانا ہو چکا ہوتا ہے اور اس کی وجہ ہے انٹرنیٹ کا آجانا، پہلے زمانے میں جب کسی کو خط بھیجناہوتا تھا تو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں اکثر مہینوں لگ جاتے تھے لیکن آج فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ جیسی چیزوں نے ہماری زندگی اتنی سمیٹ دی ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے بات دوسرے کونے تک لمحوں میں پہنچ جاتی ہے، اب تو کراچی سے چلا کوئی Jokeدنیا بھر میں گھوم کر سکینڈوں ،منٹوں میں واپس کراچی آجاتا ہے۔
دنیا میں انٹرنیٹ کی وجہ سے جو بدلائو آیا ہے جیسے ٹیلی فون، پرنٹ میڈیا وغیرہ ،اسی طرح اس کا اثر ٹی وی پر بھی آنا تھا، ٹی وی دنیا کی وہ ایجاد ہے جو انٹرنیٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، زیادہ تر لوگ دن میں کئی گھنٹے ٹی وی دیکھ کر گزارتے ہیں اور یہ ان کی تفریح کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔
کئی لوگ صبح کا آغاز اپنی ’’ناپسندیدہ نوکری‘‘ سے کرتے ہیں تمام دن کڑھ کڑھ کر گزارتے ہیں، اسی امید پر کہ شام کو گھر جا کر اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھ کر دل بہلائیں گے۔
ٹی وی میں اب ایک بڑا بدلائو آنے والا ہے، یہ ٹی وی کی ہسٹری میں پہلی بار نہیں ہورہا بلکہ پہلے بھی کئی بار ایسا ہو چکا ہے، آنے والا بدلائو کی وجہ سے لوگوں کا ٹی وی دیکھ کر طریقہ بدل جائے گا، سب سے پہلے تو وہ وقت تھا جب ٹی وی آیا تھا، چلیے سب سے پہلے تو ٹی وی آیا، امریکہ میں 1920ء کے لگ بھگ مگر عام لوگوں کی پہنچ تک 1936ء میں آیا، ٹی وی دنیا میں اتنی تیزی سے پھیلا کہ 1952میں صرف امریکہ میں دو ملین لوگ ایسے تھے جن کے گھروں میں ٹی وی تھا اور ساڑھے تین سو ایسی کیبل سروسز تھیں جو درجنوں چینلز دکھاتی تھیں۔
دوسرا بڑا بدلائو اس وقت آیا جب کلر ٹی وی متعارف ہوا ویسے تو کافی دنوں سے کوشش ہورہی تھی کہ رنگین ٹی وی لوگوں میں عام ہو جائے لیکن صحیح طرح مارکیٹ اس وقت بنی جب این بی سی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ساری پروگرامنگ کلر میں دکھائیں گے، 1966ء کی کرسمس کا زمانہ وہ تھا کہ کلر ٹی وی اتنی ڈیمانڈ میں تھا کہ کسی بھی دوکان میں اس کا ملنا محال ہو گیا تھا، ابھی دوکان پر ٹی وی وسٹاک آیا بھی نہیں ہوتا تھا کہ لوگ لمبی لمبی لائنیں لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے، ٹی وی خریدنے کیلئے کہ کلرٹی وی آگیا، ٹی وی دیکھنے کی لوگوں کو عادت ہو گئی، زندگی ٹی وی کے گرد گھومنے لگے لیکن بڑا بدلائو اس وقت 1980ء میں آیا جب سیٹلائٹ چینلز آنے شروع ہوئے یعنی لوکل نہیں بلکہ وہ چینلز جو نیویارک سے لے کر کیلی فورنیا تک دکھاتے جاتے تھے۔
سی این این اور ایم ٹی وی وہ پہلے چینلز ہیں جو امریکہ کے سیٹیلائٹ ٹی وی پر دکھائے گئے تھے ایک خاص بات ان کی یہ تھی کہ یہ چوبیس گھنٹے دکھاتے جاتے تھے، اگست دو 1990ء کو گلف وار ہو گئی اب ہوا یہ کہ جو خبر صبح سات بجے دکھائی جاتی تھی پورا امریکہ سی این این پر رات کو دو بجے لائیو دیکھ لیتا تھا، وار فروری 28، 1991ء تک چلی اس سے سی این این کا بھلا یہ ہوا کہ وہ امریکہ سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گیا سب کو گلف وار میں دلچسپی تھی اسی لئے لوگ وہ چینل دیکھنا چاہتے تھے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں سی این این دکھایا جانے لگا، سی این این کا 1991ء تک دنیا بھر میں پھیل جانے کی وجہ سے اب ٹی وی سیٹلائٹ کا رجحان آگیا، زی ٹی وی سے لے کر HBOتک ہم پاکستان سمیت دنیا بھر میں کہیں بھی دیکھ سکتے تھے، اس زمانے میں سیٹلائٹ اتنا مقبول ہو گیا کہ وی سی آر کے بعد الیکٹرونکس میں بکنے والا سب سے پسندیدہ سیٹلائٹ تھا۔
اب ٹی وی میں ایک نیا بدلائو آنے والا ہے بلکہ آچکا ہے، ابس ابھی لوگوں کو غالباًاندازہ نہیں ہوا ہے کہ آگے چل کر یہی ٹی وی کا مستقبل، یہ ہے آن لائن Streamingیعنی انٹرنیٹ پر ٹی وی کا چلنا جیسے آج ہم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آٹھ بجے فلاں پروگرام آئے گا اور نو بجے فلاں، یہ سب بدل جائے، ہوگا کچھ یوں کہ ٹی وی کھولنے پر سارے پروگرام Iconsکی صورت آپ کے سامنے موجود ہوں گے اور جو پروگرام جتنی دیر جب بھی دیکھنا چاہیں دیکھ سکتے ہیں وقت کی پابندی نہیں ہو گی۔
ٹی وی پر یہ بدلائو بہت حد تک آگیا ہے Netflixکی صورت میں، یہ آپ اپنے ٹی وی فونز یا انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں، اس میں دنیا بھر کی پروگرامنگ شامل ہے،مہینے کے صرف بارہ ڈالرادا کر کے آپ اس کی ان لمیٹیڈ Accesحاصل کر لیتے ہیں۔آج امریکہ کے سب سے بڑے نیٹ ورکس HBO، ABCاور فوکس کو ملا دیں تو پھر Netflixان سے بڑا ہے۔
1980ء میں امریکہ میں سیٹلائٹ آیا مگر پھیلتے پھیلتے اسے 1992ہوگیا، اسی طرح آج امریکہ میں یہ بدلائو آیا ہے کچھ دن میں پاکستان اور دیگر ممالک میں بھی یہ بدلائو نظر آنے لگے گا، جتنے بھی بڑے نیٹ ورکس ہیں یہ خود آن لائن Strreamingکریں گے یا پھر وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے یہی بات انڈیا بھی اچھی طرح جانتا ہے اسی لئے ’’آلٹ بالاجی‘‘ اور ’’وائی فلمز‘‘ آن لائن اسٹریمنگ چینلز ہیں جن کو خود بڑے بڑے ٹی وی چینلز سپورٹ کررہے ہیں جو کہ آنے والے کل کے لئے صحیح قدم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.