نواز شریف کی نا اہلی، عمران خان کے لیے درد سر

41

پاکستان، بلا شبہ، ایک دنیا کا انوکھا ملک معلوم ہوتا ہے۔ یہاں مردم شماری جیسے ایک غیر سیاسی کام کو بھی سیاست کی نذر کر دیا گیا۔ کچھ سیاستدان نواز حکومت کی کروائی ہوئی مردم شماری کے نتائج قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو تقریباً بیس سال کے بعد ہوئی۔کیوں؟ وہ اس لیے کہ ملک کے وسائل کی صوبائی تقسیم کا تناسب اس مردم شماری کے نتیجہ میں ہونا تھا۔کراچی کی ایم کیو ایم نے اعتراض کیا کہ کراچی کی مردم شماری پوری طرح سے نہیں ہوئی۔ ایم کیو ایم کے قائدین نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی کئی لاکھ کی آبادی کا اندراج نہیں کیا گیا۔اگر یہ دعویٰ سچ ہے تو سندھ کو وفاقی تقسیم میں سے کم حصہ ملے گا۔ یہ سن کر پی پی پی نے بھی ایم کیو ایم کی ہاں میں ہاں ملا دی۔
آج کی اخباری خبر میں صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ’’ مردم شماری کے اس تنازعہ کے پیش نظر ایک نئی مردم شماری کروائی جائے۔ جس میں تمام شراکین کی رائے لیکر ایک متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق مردم شماری کے نتائج پر سب شراکین کا متفق ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب کے عوام کو بھی گزشتہ مردم شماری پر تحفظات ہیں۔ اور نتائج پر اتفاق انتخابات کروانے کے لیے ضروری ہے۔‘‘
صاحبو! پاکستان کی مردم شماری ہوئے تین سال سے زیادہ ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک نہ اس کے تفصیلی نتائج شائع کیے گئے ہیں نہ ان کا تجزیہ جو ہر نئی مردم شماری کے بعد کیا جاتا ہے۔ پہلے آپ ملاحظہ کریں مردم شماری کے سرسری نتائج جو شائع کئے گئے۔ ان کے مطابق پاکستان کی آبادی گزشتہ مردم شماری کیمطابق میں جو ۱۹۹۸ء میں کی گئی تھی، ۱۳ کڑوڑ ۲۳لاکھ تھی۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق یہ آبادی ۲۰۷ کڑوڑ ۷۷ لاکھ ہو چکی تھی۔ یعنی تقریباً ۵۷ فیصد کا اضافہ ہوا۔ پنجاب کی آبادی میں یہ اضافہ ۴۹ فیصد تھا، اور سندھ میں ۵۷ فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ان اعداد کی روشنی میں اگر کوئی مردم شماری میں خامی کی بات کرتا تو وہ پنجاب ہوتا۔ لیکن شور کراچی والوں نے ڈالا۔جب کراچی ڈویژن کی آبادی پر نظر ڈالیں تو کراچی کی آبادی میں تقریباً ۶۳ فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس ڈویژن کی آبادی ۱۹۹۸ میں ایک کڑوڑ سے بھی کم تھی، جو ۲۰۱۷ء میں ایک کڑوڑ ساٹھ لاکھ سے اوپر بتائی گئی۔ حیرت کی بات ہے کہ ایم کیو ایم نے اس قدر دھاندلی کا الزام لگایا کہ جیسے انکی آبادی ایک کڑوڑ سے بھی اوپر کم دکھائی گئی تھی۔اگر سارے پاکستان کی آبادی کی افزائش سے کراچی کی آبادی کی افزائش کی شرح اوسطاً چھ فیصد زیادہ ہوئی تو اس زیادتی کو نقل مکانی سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔جو حقیقتاً اور بھی زیادہ ہو گی چونکہ شہری آبادی میں شرح پیدائش کم ہوتی ہے۔ اگر ان اعداد کو مد نظر رکھا جائے تو بظاہر ایم کیو ایم کے دعوے کھوکلے نظر آتے ہیں جن میں رائی کا پہاڑ بنایا گیا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ غالباً یہی وجوہات ہوں گی کہ وفاقی حکومت کی کابینہ نے مردم شماری کے نتائج کو منظور کر لیا۔ اب ان حقائق کی روشنی میں ذرا ایم کیو ایم کے بیانات کی طرف نظر ڈالیں۔
ابھی ایک ہفتہ پہلے، ۲۵ دسمبر ۲۰۲۰ء کی اخباری خبر کے مطابق، ایم کیو ایم کے قائد خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ان کی جماعت کے پاس اب اور کوئی ر استہ نہیں رہ گیا سوائے اس کے کہ وہ وفاقی حکومت کے مردم شماری کے نتائج کی منظوری کے بعد، احتجاجاً سڑکوں پر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کے بعد ہمارا حکومت کا اتحادی بن کرر ہنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے کسی ایک نقطہ پر بھی عمل نہیں کیا جن پر اتحاد بنایا گیا تھا۔لیکن جب اس لیڈر سے پوچھا گیا کہ وہ کب سڑکوں پر نکلے گی؟ تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے سامنے یہ مسئلہ زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے ان کے سات ووٹ بہت قیمتی ہیں۔ لیکن ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہتے جیسے کہ ہم حکومت کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ جیسے وہ کسی دوسری پارٹی میں شامل ہونگے۔پی پی پی نے اپنے طور کہا کہ وہ وفاقی کابینہ کے فیصلہ کو رد کرتے ہیں جس میں نشان شدہ بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کے نتائج بغیر آڈٹ کئے قبول کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان کی حکومت نے ایم کیو ایم کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے شراکت دار گزشتہ مردم شماری کے نتائج کو قبول کر لیں اگرچہ کہ اس میں نقائص ہیں، اس کے ازالے کہ لیے حکومت از سر نو مردم شماری کروائے گی۔یہ پیشکش سندھ اسمبلی میں حزب مخالف کی اعلیٰ قیادت فردوس شمیم نقوی نے کی۔ انہوں نے کہا اگرچہ حکومت مخالفین کے اعتراضات کو سمجھتی ہے لیکن ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، اس مسئلہ کو نہ چھیڑا جائے۔ اسی لیے تحریک انصاف کے پاس اس مردم شماری کے نتائج کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔انہوں نے کہا کے اتنظاماً اور قانوناً وفاق صرف چند بلاکس میں مردم شماری نہیں کروا سکتا۔ البتہ وفاق جتنا جلدی ممکن ہوا نئے سرے سے مردم شماری کروائے گا۔بد قسمتی سے کراچی میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو دوسرے صوبوں میں شمار ہوتے ہیں اس لیے کراچی کی مردم شماری میں شامل نہیں ہوتے۔علاوہ ازیں،ہم مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی نہیں روکنا چاہتے۔
کیا کہتے ہیں ماہرین بیچ اس مسئلہ کے؟ ایک اعلیٰ سطح کے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت جو سندھ کو تعاون پر اکسا رہی ہے اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اس لیے کہ مرکز اور سندھ میں اعتبار کا فقدان ہے۔جلدی مردم شماری کروانے کے وعدہ میں کوئی جان نہیں ہے کیونکہ اگر یہ ہو بھی گیا تو بنیادی مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہو گا۔کیونکہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہی مسائل دوبارہ کی گئی مردم شماری میں نہیں ہونگے؟ ایک سوال کے جواب میں ماہر اقتصادیات نے فرمایا کہ مردم شماری کا مسئلہ در اصل سیاسی ہے کیونکہ قومی مالی وسائل کی تقسیم کی بنیاد آبادی کا تناسب ہوتی ہے۔ اور اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی نشستوں کا تعین بھی اسی بنیاد پر ہوتا ہے۔اسی وجہ سے صوبے آبادی کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ، سندھ کے علاوہ، دوسرے صوبے بھی مردم شماری کے نتائج سے مطمئن نہیں لیکن چونکہ ان میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں، وہ کابینہ کے فیصلہ کو مان چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل میں یہ مسئلہ سندھ کا ہی نہیں، ایمانداری اور صحیح اعداد کا ہے۔ فروری میں ایک پانچ رکنی کمیٹی نے جس کی سربراہی وفاقی وزیر علی زیدی کر رہے تھے، نے اس سارے مسئلہ پر غور کرنے کے بعد سفارشات کیں ۔ان میں سے ایک یہ تھی: سندھ حکومت ، با وجود اپنے تحفظات کے، اس چھٹی مردم شماری کے نتائج کو منظور کر لے ۔ اس کے بعد ایک نئی مردم شماری کروائی جائے گی جس میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی کہ گذشتہ مردم شماری میں ہونے والی خامیاں دہرائی نہ جائیں۔
۲۰۲۰ء کے آخری روز، ۳۱ دسمبر ایک اخباری خبر کے مطابق، 2017 کی متنازعہ مردم شماری نے پی پی پی اور ایم کیو ایم کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے۔ جس کا اندازہ گذشتہ بدھ کو ہونے والی میٹنگ سے کیا جا سکتا ہے جس میں مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔کہا گیا کہ کا بینہ کے فیصلہ سے وفاقی وزیر امین الحق نے اتفاق نہیں کیا اور ایک اختلافی نوٹ بھی لکھا۔ لیکن دوسری پارٹیوں نے، بشمول پی پی پی کے ، احتجاج کیا کہ اختلافی نوٹ لکھنے کے بجائے وزیر صاحب کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔ایک دن پہلے پی پی پی کے چیرمین بلاول زرداری نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم حکومت کی طرفداری اس لیے کر رہی ہے کہ وہ اسکی حلیف ہے۔بعد میں دونوں پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی جس کے بعد کہا گیا کہ دونوں پارٹیوں نے مردم شماری کے نتائج کو مسترد کیا ہے اور اعلیٰ عدالت میں درخواست دے دی ہے۔اور تسلیم کیا ہے کہ کراچی کی مردم شماری کے پانچ فیصد بلاکس کا آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کونسل آف کامن انٹرسٹ میں یہ سوال اٹھائیں گے۔پی پی پی کے حیدر صاحب نے کہا کہ سینیٹ میں مردم شماری کے نتائج منظور نہیں کیے گئے تھے کیونکہ کراچی میں دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگوں کا شمار نہیں ہوا۔ پی پی پی نے ایم کیو ایم سے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کے نتائج درست کرنے پر جو خرچ آئے گا وہ اس کا نصف ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ پاکستانی سیا ستدانوں کو مردم شماری میں جو دلچسپی ہے وہ صرف اس کے نتائج میں ملنے والی نشستوں اور کونسل آف کامن انٹرسٹ سے ملنے والی رقومات سے ہے۔ باقی رہ گیا مردم شماری کا اصل اور مناسب استعمال ، یعنی ملک کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی کی منصوبہ بندی، جس کا دارو مدار مردم شماری کے اعدا و شمار پر ہوتا ہے، یہ شاذ و نادرہی ہوتا ہے۔ جہاں تک راقم کو یاد پڑتا ہے، مردم شماری کو پورے ملک میں کسی ایک دن میں شروع اور مکمل کیا جاتا ہے، تا کہ ہر انسان کو ایک دفعہ شمار کیا جا سکے اور کوئی شخص ، عورت، مرد، بچہ، ایک دفعہ سے زیادہ نہ گنا جائے۔اسی لیے مرم شماری کے سوال نامے میں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ گذشتہ شب اس گھرانے یا عمارت میں کتنے لوگ سوئے یا رہے؟ اس صورت میں کوئی بھی شخص دو دفعہ شمار نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی ماہرین مردم شماری نے اپنی اختراع کی اور دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے کراچی میں مقیم ان لوگوں کو شامل نہیں کیا جو عارضی طور پر یا بوجہ مزدوری وغیرہ موجود تھے۔ اس فیصلہ کے پیچھے نا اہلی تھی یا سوچی سمجھی سکیم، یہ اس وقت کی (نواز شریف کی) حکومت کو ہی پتہ ہو گا۔
سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ مردم شماری کی کیوں جاتی ہے؟ وہ اس لئے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیسے رہتے ہیں؟ ایک گھرانہ میں کتنے افراد؟ ان کی جنس، عمر، اور نسل کیا ہے؟ مقصد ہر شخص کا گننا، صرف ایک بار گننا اور صحیح جگہ پر گننا ہے۔جب صحیح مردم شماری ہو تو اس سے عوام کو فائدہ ہوتا ہے۔ وفاقی بجٹ سے اس مردم شماری کی بنیاد پر تعلیم، صحت، سڑکیں، عوامی ضروریات کے کام ہوتے ہیں۔ کاروباری لوگ مردم شماری کے اعداد سے مستقبل میں فیکٹریاں، دفاتر اور دوکانوں کی ضرورت کا تخمینہ لگا سکتے ہیں اور انہیںکتنے روزگار فراہم کرنے ہوں گے؟ مقامی حکومتیں مردم شماری کے اعداد سے حفظ عامہ اور ہنگامی حالات سے نپٹنے کی تیاری کرتی ہیں۔ عوامی ادارے بھی ان اعداد و شمار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
پاکستان میں یہ چھٹی مردم شماری تھی۔ اس مردم شماری کے لیے پہلے تجربوں سے سیکھے ہوئے اسباق موجود ہونگے۔ سوالنامہ بھی اور اس کے بعد کمپیوٹرز میں جوابات کا اندراج، پھر نتائج کا شائع کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا سب شامل ہیں۔اس لیے حیرت ہے کہ کس بنا پر ۲۰۱۷ء کی مردم شماری میں ان لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا جو کراچی کے شہری نہیں تھے؟ اور اگرانہیں اس مردم شماری میں نہیں شامل کیا گیا تو وہ جہاں کے مستقل باشندے تھے وہاں کیسے شامل ہوتے؟سنا گیا ہے کہ مردم شماری کے اہلکاروں نے ایسے لوگوں کو بھی نہیں شامل کیا جو غیر ملکی تھے، یا بلا کاغذات کے تھے، یا جن کے پاس نادرا کا شناختی کارڈ نہیں تھا۔ یہ سب ایک صحیح مردم شماری کی خلاف ورزی تصور کی جانی چاہیے تھی۔
یہ کوئی راکٹ سائینس نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اور پی پی پی کا اعتراض بنتا ہے کیونکہ انسان کہیں کے بھی ہوں ان کو پانی، بجلی، رہائش، صحت کی سہولتیں، ان کے بچوں کو سکول، اور دوسری شہری سہولتیں چاہیئں۔ ان کا بوجھ سرکاری وسائل پر پڑتا ہے۔ جو کسی حد تک وفاقی خزانے پر بھی پڑنا چاہیے۔اس مسئلہ کا آسان حل بھی ہو سکتا ہے مثلاً ماضی کی مردم شماری کے نتائج، یا کسی قابل اعتماد معاشرتی جائزہ کے نتائج سے اس قسم کی آبادی کا تناسب لیکر اس کو صوبائی تقسیم میں استعمال کر لیا جائے جب تک کہ نئی مردم شماری نہیں ہوتی۔ اب ایک اور پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس مسئلہ پر حتمی فیصلہ سنائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.