کیا بدلا کیا بدلے گا؟

33

تبدیلی نہ نعروں سے آتی ہے نہ دیوار پہ لٹکے ہوئے یا ڈیسک پہ رکھے ہوئے کیلنڈر کو بدلنے سے!پاکستانیوں سے زیادہ اس بات کو اور کون جان سکتا ہے یا جانتا ہے کہ اس دیس میں آنے والا ہر حاکم، وہ چاہے شیروانی پہنے ہو یا فوج کی وردی میں ملبوس ہو، جب اقتدار سنبھالتا ہے، یا اس پہ قبضہ کرتا ہے، تو اس کے قوم سے خطاب کا پہلا جملہ ہی اس دعوے سے شروع ہوتا ہے کہ وہ تبدیلی لائے گا اور اس کی حاکمیت میں عوام وہ تبدیلیاں دیکھیں گے جو انہوں نے اس وقت تک کبھی نہیں دیکھی تھیں۔!
یہ سبز باغ بیچاری قوم کو ایک مدتِ دراز سے ہر قبیل اور قماش کے حکمراں اور طالع آزما دکھاتے آئے ہیں اور یہ کہنے کیلئے کسی جوتشی یا رمل نکالنے والے کی حاجت نہیں ہے کہ آئندہ بھی یہ سبز باغ دکھائے جاتے رہینگے۔ پاکستان میں اور ہر چیز کی قلت ہوسکتی ہے لیکن سبز باغ دکھانے والوں کی فصل ہمیشہ تیار کھڑی رہتی ہے جو چاہے اس سے جی بھرکے استفادہ کرسکتا ہے!
اس مرض کی جڑ کیا ہے یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ جڑ اس جاگیردارانہ ذہنیت میں ہے جو ایک تو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتی ہے اور اس کی دانست میں جو وہ سوچتی ہے وہ دانش کی انتہا اور بامِ عروج ہے لیکن اسی سے منسلک جو ایک اور زیادہ گمبھیر مسئلہ ہے وہ یہ کہ ہم اس دقیانوسی ذہنیت کے بل بوتے پر ایک عرصہ سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مطلق العنان حاکمیت کے جنون میں مبتلا لوگ ملک میں جمہوریت کے محافظ ہوسکتے ہیں اور ان کے سائے میں جمہوریت کا پودا پنپ کر تناور درخت بن جائے گا۔
پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ جو سلوک مدتِ دراز سے ہوتا آیا ہے اس سے جمہوریت کے بنیادی تصور کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا اسلئے کہ جمہوریت وہ مینار ہے جس پر پتھر پھینکنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا ہاں، البتہ، پھینکنے والوں کے اپنے ہاتھ آلودہ اور اکثر خون آلود ہوجاتے ہیں لیکن ایک جو بہت ہی تکلیف دہ اثر جمہوریت کے ساتھ اس نہ ختم ہونے والے مذاق سے پیدا ہوا ہے وہ یہ کہ ایک عام سوچ اور فہم رکھنے والے پاکستانی شہری کا جمہوریت پر سے اعتقاد اٹھتا جارہا ہے اور اس منطقی انجام کیلئے آپ پاکستانی عوام اور دانشوروں کو الزام نہیں دے سکتے اسلئے کہ وہ جس طرح ایک مدت سے جاگیردارانہ ذہنیت والوں کے ہاتھوں جمہوریت کی بنیادی اقدار کو پامال ہوتے دیکھتے آئے ہیں اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا!
آج کے پاکستان کا منظر نامہ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے!
ایک جانب حکومت ہے جو اپنی پانچ سالہ جمہوری مدت کا نصف گذار چکی ہے لیکن اس کا اندازِ جہانبانی جو روزِ اوّل تھا وہی آج بھی ہے اور اس کے اربابِ اقتدار کے منہ سے نکلنے والے جملے آج تک، ڈھائی برس میں، ذرا سا بھی نہیں بدلے۔ تبدیلی کا نعرہ بھی جوں کا توں ہے لیکن یہ تبدیلی نہ اندازِ حکمرانی میں دکھائی دیتی ہے نہ ہی اس کے آثار کہیں اور نظر آرہے ہیں۔
تبدیلی آگئی یا بس آنے والی ہے یہ وہ نعرہ تھا جو عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی لگادیا تھا لیکن وہ تبدیلی کہیں نظر نہیں آتی۔ اللہ جانے کہ اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا لیکن بیچارے عوام کا پیٹ تو نعروں سے نہیں بھرتا اگر بھرتا ہوتا تو بلاشبہ پاکستانی دنیا کی سب سے مالدار قوم ہوتے لیکن اس تبدیلی کے نعرہ نے پاکستانی عوام کو کچھ دیا ہے تو وہ صرف مسائل کی افراط ہے ورنہ تو غریبوں کیلئے روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں کیونکہ گرانی ہوشربا ہوچکی ہے اور غریب آدمی کا سب سے بڑا اور فوری مسئلہ یہ ہے کہ وہ محدود آمدنی میں اپنے اخراجات کیسے پورے کرے اور اپنے بچوں کے پیٹ کیسے بھرے!
اسی سانس میں جس میں تبدیلی کا نعرہ لگتا تھا یہ نعرہ بھی ہوتا تھا کہ ملک کو لوٹنے والوں کا احتساب ہوگا اور لوٹی ہوئی دولت کی پائی پائی واپس پاکستان لائی جائے گی۔ لیکن جیسے تبدیلی اب تک پہیلی بنی ہوئی ہے ویسے ہی احتساب کا نعرہ بس صدائے بازگشت کی طرح گونج رہا ہے لیکن احتساب اور مواخذہ کی سوئی ایک جگہ پر اٹکی ہوئی ہے۔ ملک کی دولت لوٹنے والے دونوں مہا چور آزاد ہیں۔ زرداری ڈاکو بلاول ہاؤس کراچی کے اپنے قلعہ میں دادِ عیش دے رہا ہے تو نواز ،حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ملک سے فرار ہوا اور ایسا ہوا کہ آج تک واپس نہیں آیا۔ گیا تھا چھہ ہفتے کا پروانہ لیکر لیکن آج چودہ مہینے ہوگئے مجال ہے کہ نواز وہاں سے ہلا ہو اور عمران حکومت اپنے بلند بانگ دعووں کے باوجود اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکی۔ لیکن اس کے باوجود زبانی جمع خرچ اب بھی بہت ہے اور یہاں تک کہ بقولِ عمران وہ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن سے بات کرنے کیلئے بھی تیار ہیں کہ بھگوڑے نواز کو پاکستان کے حوالے کیا جائے کیونکہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سے سزایافتہ ایک مجرم ہے جو دھوکہ سے ملک سے فرار ہوا ہے۔
عمران کی یہ دھمکی اپنی جگہ لیکن ایک عام پاکستانی بھی اب نعروں اور دھمکیوں کی حقیقت جان گیا ہے سو اسے احساس ہے کہ برطانیہ سے مفرور نواز کو واپس پاکستان لانا کتنا محال بلکہ یوں کہا جائے ناممکن ہوگا! اس کی وجہ یہ نہیں کہ نواز نے جرم نہیں کیا یا ملک کو لوٹ کر مالِ مسروقہ برطانیہ میں چھپاکے نہیں رکھا ۔رکھا، ڈنکے کی چوٹ رکھا اور یہی اس کے پاکستان کے قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کی بنیاد بھی ہے۔
انگلستان کی تاریخ سے واقف حضرات خوب جانتے ہیں کہ اس نے تو دنیا بھر میں، جہاں جہاں اس کا اقتدار رہا، لوٹ مار کی اور خوب جی بھر کے کی۔ ہندوستان، اٹھارویں صدی کے آغاز تک،دنیا کا سب سے متمول ملک تھا لیکن ڈیڑھ سو برس بعد جب برطانوی استعمار نے وہاں سے اپنا بوریا بستر باندھا تو ہندوستان کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا تھا۔ ہندوستان کی ہوشربا دولت سب لوٹ کے انگریز اپنے ملک میں لے گئے۔ تاریخ تو یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ تاجِ برطانیہ باقاعدہ پروانہٗ تقرری دیا کرتا تھا ان بحری قزاقوں کو جو کھلے سمندروں میں جہازوں کو لوٹتے تھے اور شاہی فرمان کے لحاظ میں اس لوٹے ہوئے مال کا ایک حصہ شاہی خزانے میں جمع کروایا جاتا تھا۔
تو جس قوم کے خمیر میں لوٹ مار ہو وہ چوروں اور ڈاکووٗں کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے۔ نپولین بونا پارٹ کا مشہور قول ہے انگریز قوم کے بارے میں جو اس نے حقارت سے کہا تھا کہ یہ دکاندار ہیں۔ سو دکاندار تو نواز جیسے ساہوکار کو اپنا اثاثہ، اپنی دولت گردانتی ہے اور پھر نواز جیسا نقب زن تو پاکستان سے اربوں لوٹ کے لے گیا ہے، انگلستان کے بنکوں میں یہ لوٹی ہوئی دولت بڑا سرمایہ ہے اور پھر وہ اربوں روپے کی جائیداد جو انگلستان کے ہر کونے میں نواز اور اس کے چور خاندان کی ملکیت ہیں وہ بھی انگلستان کیلئے وسیلہ ہے کمائی کا!
تو عمران کی یہ لفاظی کہ وہ بورس جانسن کے پرانے دوست ہیں اور وہ ان سے اس معاملے میں مداخلت کیلئے کہیں گے دل کو بہلانے کیلئے اچھا خیال ہوسکتا ہے لیکن جانسن سے یہ توقع رکھنا کہ وہ دوستی نبھائیں گے خان صاحب کی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
اور ایمانداری کی بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام اب عمران کی لن ترانیوں سے تھک گئے ہیں۔ پچھلے کتنے ہی سالوں سے وہ یہی نعرے، یہی دعوے، سنتے آئے ہیں میں چھوڑونگا نہیں، ایک ایک پیسہ ان سے وصول کرونگا، ان کو این آر او بالکل نہیں دونگا وغیرہ وغیرہ!
کوئی عمران کو صلا دے کہ میاں قوم کا پیٹ آپ کے طولانی اور طرم خانی نعروں اور دعووں سے نہیں بھرے گا اور اب آپ کے یہ نعرے لوگوں میں مذاق بن گئے ہیں۔ بڑی تشویش کا لمحہ ہوتا ہے وہ، جیسا آج عمران کے ضمن میں ہورہا ہے جب ایک لیڈر، ایک رہنما کی باتیں اس کے عوام کیلئے مذاق بن جائیں!
عمران کو اب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا، بلکہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا، کہ وہ عوام کی توقعات پہ کس حد تک پورا اترنا چاہتے ہیں یا ان کی توقعات کو اور کتنا صدمہ پہنچانا چاہتے ہیں؟ بلکہ سیاستدانوں کیلئے تو اہم سوال، بہت نازک سوال، یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی عوامی قبولیت اور پذیرائی کا سرمایہ کس حد تک ضائع کرسکتے ہیں۔ ہمیں یہ کہتے ہوئے بہت دکھ ہوتا ہے کہ عمران نے شاید اپنی مقبولیت کا اندازہ بہت زیادہ لگا لیا تھا۔ ہوس کسی بھی قسم کی ہو آخر میں نقصان دہ ہوتی ہے اور عوامی پذیرائی کی ہوس بھی اتنی ہی مضر ہوسکتی ہے۔ عوام عمران کو اب بھی سر آنکھوں پہ بٹھانے کو تیار ہونگے بشرطیکہ وہ ان بنیادی عوامی ضرورتوں کو پورا کرسکیں جن کے بغیر زندگی کرنا بہت دشوار ہوجاتا ہے!
عوامی قبولیت کا ڈھونگ تو چوروں، خائنوں اور منافقوں کا وہ ٹولہ رچانے کی سر توڑ کوشش کررہا ہے جسمیں زرداری اور نواز کی اولادیں پیش پیش ہیں اور قیادت کی باگ ڈور پاکستان کے سب سے بڑے مفسد اور منافق، ملا فضل کے ہاتھوں میں ہے! اس چنڈال چوکڑی کو بھی بڑا زعم تھا کہ عوام ان کے بلانے اور پکارنے پر گھروں سے سر سے کفن باندھ کے نکل آئینگے لیکن لاہور کا جلسہ جس بری طرح سے ناکام ہوا اس نے سب قلعی کھول دی۔ ٹیلیوژن نے اور پول کھول دی جب اس کے کیمروں کے سامنے وہ غریب جنہیں کھانا کھلانے اور پانچ پانچ سو روپے دینے کے وعدہ پر جلسہ گاہ لایا گیا تھا لیکن وہ جلسہ گاہ میں گئے ہی نہیں کیونکہ بقول ان کے نہ کھانا انہیں دیا گیا اور نہ ہی پانچ سو روپے!
جس چنڈال چوکڑی کے اخلاقی زوال کی یہ مثال ہو کہ وہ کرائے کے سامعین سے اپنے جلسوں کو بھرنا چاہتی ہو اس کی اس رٹ پر کون یقین کرے گا کہ ان کے جلسوں کی کامیابی نے حکومت کو دہلا دیا ہے۔ اور اب اپنے پاؤں پر ان مفسدوں نے اور کلہاڑی مارلی ہے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اپنے اراکین کو استعفے دلوانے کا ڈھول پیٹ کے جبکہ ان کے اراکینِ اسمبلی اس خود کشی کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں۔ یہ مطالبہ صرف ملا فضل اور مریم نواز کا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے دئیے جائیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی اسمبلی کا رکن نہیں ہے۔ گویا کبڑے یہ چاہ رہے ہیں کہ ان کی طرح اور سب بھی کبڑے ہوجائیں!
قصہ مختصر یہ کہ حزبِ اختلاف کے غبارہ میں سے ہوا نکل چکی ہے اس سے پہلے کہ یہ غبارہ اوپر جاتا۔ اب یہ جو بھی حرکتیں کرینگے وہ ان کی موٹی گردنوں کے گرد پھندا ہی بنتی جائینگی۔ عوام اب ان کے داغدار چہرے بہت اچھی طرح دیکھ چکے ہیں اور ان مداریوں اور جعلسازوں کے ہاتھوں وہ اب مزید بیوقوف بننے سے رہے!
ہاں عمران کو خطرہ ہے، بڑا خطرہ ہے، حزبِ اختلاف سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے، اپنے وزیروں اور مشیروں سے جو نہ جانے کن فضاؤں میں رہتے ہیں لیکن کہیں بھی رہتے ہوں اس دنیا میں نہیں بستے دکھائی دیتے جس میں پاکستان کے کروڑوں محنت کش عوام رہتے ہیں۔ نعروں کا زمانہ لد گیا اور عمران کو اس کا اب اچھی طرح سے شعور ہوجانا چاہئے۔ اب بھی اگر وہ عوامی مسائل اور مشکلات سے پہلو تہی کرتے رہے اور نعروں پر ہی ان کا گذارہ رہا تو پھر یہ اپنی ٹانگ میں خود ہی گولی داغ دینے والی حماقت کے سوا اور کچھ نہیں کہلائے گا!
کوئی ایسا ہو کہ عمران کو یہ صلا دے کہ حضرت، قوم آپ کے نعروں سے اب تھک کر چور ہوچکی ہے خدارا اب اس پہ رحم کیجئے اور وہ کام کیجئے جس کیلئے پاکستانی عوام نے اپنی قیادت کا منصب آپ کو سونپا تھا!؎
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں!
شاید آپ کے دل میں یہ بات اتر جائے!
نیا سال آپ کو بھی مبارک ہو۔ خدا سے دعا ہے کہ یہ نیا سال پرانے سال کی طرح سنگدل اور بے رحم نہ ہو!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.