اوباما کی کتاب (دوسری قسط)

42

اوباما نے لکھا ہے کہ بن لادن تک پہنچنے والا مشن اتنا اہم اور خطرناک تھا کہ اسکی کامیابی یا ناکامی کی خبر نے پوری دنیا میں پھیل جانا تھا اسکے لئے ایک ایسے کمانڈر کی ضرورت تھی جو ذہین اور کہنہ مشق ہونے کے علاوہ فوجی معاملات کا وسیع تجربہ بھی رکھتا ہو اس معیار کو سامنے رکھتے ہوے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے وائس ایڈمرل William McRaven کا انتخاب کیا گیا وہ جوائنٹ سپیشل آپریشن کمانڈ کے سربراہ تھے پچپن سالہ میک ریون نے بیسویں صدی کے تمام کمانڈو آپریشنزکی تفصیلات پڑھ رکھی تھیں اسے 1943میں ہٹلر کے مسولینی کو بچانے والے آپریشن جسے Glider Rescue کہا جاتا ہے کے بارے میں تمام معلومات حاصل تھیں وہ 1976 میں اسرائیل کے Entebbe کے مقام پر یرغمالیوں کو بچانے والے مشن کے بارے میں بھی جانتا تھا ان دونوں حملوں میں چند اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوزنے دشمن کی بڑی تعداد پر اپنی طاقت ‘ تیاری اور جدید اسلحے کے بل بوتے پر غلبہ حاصل کیا تھا میک ریون اپنے طویل فوجی کیرئیر کے دوران ایک ہزار سے زیادہ خطرناک سپیشل آپریشنز میں حصہ لے چکا تھا ان مہمات میں ہائی ویلیو ٹارگٹ کا تعاقب کرکے اپنا ہدف حاصل کیا جاتاتھا ان میں سے زیادہ تر مشن عراق اور افغانستان میں کئے گئے تھے ان حملوں میں وہ کئی مرتبہ زخمی بھی ہوا تھا اوباما نے میک ریون کو اس مشن کی تیاری کیلئے تمام مطلوبہ اختیارات اور وسائل مہیا کئے انتیس مارچ 2011 کی میٹنگ میں میک ریون نے کہا کہ اس قسم کے مشن میں دشمن کے گھر میں داخل ہونا مشکل نہیں ہوتا مگر وہاں سے نکلنا بہت خطرناک ہوتا ہے اس قسم کی مہمات میں اپنے وسیع تجربے اور Navy Seals کی ریہرسلوں کو دیکھتے ہوے اسے یقین تھا کہ اسکے کمانڈوز پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو اطلاع ملنے سے پہلے ہی بن لادن کے کمپائونڈسے واپس آ سکتے تھے اسکے باوجودیہ سوچ اسوقت تک محض ایک مفروضہ تھی کہ جب تک کامیابی حاصل نہیں کر لی جاتی میک ریون نے اوباما سے پوچھا کہ پاکستان کی فوج انکے ایبٹ آباد میں داخل ہوتے وقت یا وہاں سے واپسی پر ان کے ہیلی کاپٹروں پر حملہ آور ہو سکتی ہے اس صورت میںانہیں کیا کرنا چاہیئے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بن لادن اس گھر میں موجود تو ہو مگر کسی خفیہ جگہ پر ہو ان حالات میں زیادہ وقت لگے گا جوخطرے کو دعوت دینے والی بات تھی اس گفتگو میں یہ طے کیا گیا کہ پاکستان کی فورسز کیساتھ فائر فائٹ نہیں کی جائیگی
میک ریون اس مشن کے خطرات ‘ چیلنجز اور متوقع حادثات کے بارے میں وائٹ ہائوس میں ہونیوالی میٹنگز میں حصہ لینے کے علاوہ فورٹ بریگ میں نیوی سیل کی ریہرسلوں کی نگرانی بھی کرتا رہانارتھ کیرو لائنا میں واقع اس ملٹری Base میں ڈریس ریہرسلوں کیلئے ایبٹ آباد کمپائونڈ کا ایک فل سکیل ماڈل بنایا گیامیک ریون نے صدر اوباما کو بتایا کہ اس قسم کی مہمات کیلئے ایسی راتیں مناسب ہوتی ہیں جن میں چاند نظر نہ آئے اور اندھیرا ہو ‘ تاریک راتیں حملہ آوروں کیلئے پردے کا کام دیتی ہیںاس نے ایبٹ آباد کے موسم کے بارے میں جو معلومات حاصل کی تھیں انکے مطابق مئی کے پہلے ویک اینڈ کی راتیں مناسب تھیںاوباما نے لکھا ہے کہ وہ اس مشن پر ہونیوالی گفتگو کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا تھاکیونکہ اس صورت میں اس راز کے کھل جانے کا اندیشہ تھا ان تیاریوں کے دوران بھی اوباما کو یہ خدشہ لاحق رہا کہ ایبٹ آباد کمپائونڈ کے لان میں چکر لگانے والا شخص اگر بن لادن نہ ہوا تو پھر کیا ہو گااسوقت تک سی آئی اے کو ساٹھ سے اسی فیصد اور پینٹاگون کو چالیس سے ساٹھ فیصد یقین تھا کہ وہ شخص بن لادن ہی تھا اس بحث کو اوباما نے یہ کہہ کر ختم کیا کہ بن لادن کی وہاں موجودگی کا امکان ففٹی ففٹی سے زیادہ نہیںاسکے باوجود وہ اس مشن کی تیاریوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں
دو مئی 2011 سے ایک ہفتہ پہلے نیوی سیلز کی ٹیم اور ہیلی کاپٹر جلال آباد پہنچا دئے گئے تھے اوباما لکھتے ہیں کہ اس سلسلے کی آخری کیبنٹ میٹنگ میں انہوں نے ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوے ہر شخص کے پاس جا کر اسکی رائے پوچھی سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹا اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیکل ملن اس مشن کے حق میں تھے سیکرٹری آف سٹیٹ ہلری کلنٹن کا فیصلہ 51—49 کے تناسب سے مشن کے حق میں تھا انکی رائے میں یہ مشن پاکستان کیساتھ تعلقات کو مزید الجھانے کا باعث بن سکتا تھا اوراسکے نتیجے میں پاکستان ملٹری کیساتھ تصادم بھی ہو سکتا تھا ہیلری کلنٹن کا آخری فیصلہ یہ تھا کہ پچھلے دس سالوں میں کیونکہ بن لادن کا اسکے علاوہ کوئی سراغ نہیں ملا اسلئے اس مشن کو مکمل کرنا چاہیئے سیکرٹری آف ڈیفنس رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اپریل 1980 میں صدر جمی کارٹر نے ترپن امریکی شہریوں کی رہائی کیلئے آپریشن ڈیزرٹ ون کیا تھا اسمیں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے صحرا میں گر کر تباہ ہونے سے سات افراد ہلاک ہوے تھے انکی رائے میں اس ناکامی کا سبق یہ تھا کہ کتنی ہی تیاری کیوں نہ کی جائے اس قسم کے آپریشن ناکام ہوسکتے ہیںرابرٹ گیٹس نے یہ بھی کہا کہ اس مشن کی ناکامی کے افغان جنگ پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے نائب صدر جوزف بائیڈن نے کہا کہ جب تک سی آئی اے کو اس کمپائونڈ میں بن لادن کی موجودگی کا مکمل یقین نہیں ہو جاتا اس مشن کو موخر کر دینا چاہیئے اوباما نے لکھا ہے کہ وہ جو بائیڈن کی رائے کا بہت احترام کرتے ہیںمگر انہیں یہ بھی معلوم تھاکہ ایران کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ ون کے دنوں میں بائیڈن اور گیٹس واشنگٹن ہی میں تھے ان دونوں نے ایران سے امریکنوں کی لاشوں کی واپسی کے منظر کو دیکھا تھا انہوں نے ہلاک شدگا ن کے لواحقین کی آہ و بقا بھی سنی تھی اس ناکامی کے بعد صدر جمی کارٹر پر جو کڑی تنقید ہوئی تھی وہ بھی انہیں یاد تھی وہ مجھے جمی کارٹر کے انجام سے بچانا چاہتے تھے اوباما نے لکھا ہے کہ نیوی سیلز کی ٹیم اگر چہ کہ جلال آباد پہنچ چکی تھی مگر انہوں نے میک ریون سے کہہ دیا تھا کہ وہ آخری فیصلہ کابینہ کی میٹنگ میں کریں گے اوباما نے اس آخری میٹنگ کی تاریخ نہیں لکھی صرف اتنا لکھا ہے کہ اسکے بعد کی رات انہوں نے آخری فیصلہ کرنا تھا اس رات اس مشن کے حق میں انہوں نے فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ ایران میں آپریشن ڈیزرٹ ون کی ناکامی اور صومالیہ میں بلیک ہاک کے گرنے کے بعدامریکہ کی سپیشل فورسز کی صلاحیتوں میں بہت اضافہ ہوا تھا عراق اور افغانستان کی جنگوں نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجودایسے کہنہ مشق اور تجربہ کار فوجیوں کی ایک ٹیم تیار کی تھی جو مشکل ترین مہمات کو سر کرنے کی اہلیت رکھتی تھی اوباما کومیک ریون اور نیوی سیلز کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا اسلئے انہوں نے اگلے دن اپنی کابینہ کو اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے فیصلے سے آگاہ کر دیا ( جاری ہے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.