بلوچستان میں مزدوروں کا قتل، داعش کو سبق سکھانا ہو گا

40

بہت دکھ اور کرب کے ساتھ پاکستانیوں نے یہ خبر سنی کہ بلوچستان میں۱۱مزدوروں کو اغواء کر کے لے جایا گیا اور ظالموں نے ان کے گلے کاٹے بعد میں داعش نے یہ ذمہ داری قبول کی، ایسی درندگی اورظلم پہلے طالبان کیا کرتے تھے، جب وہ پاکستانیوں یا فوجیوں کو اغو اء کر کے ان کے گلے کاٹتے تھے پھر ان کے ساتھ فٹ بال کھیلا کرتے تھے اور بہت فخر کے ساتھ اس کی ویڈیو یو ٹیوب پر ڈالا کرتے تھے، ایسی درندگی کہ انسانیت بھی شرما جائے، پاکستانیوں نے پہلے بھی ایسے بہت سے ظلم اور درندگی برداشت کی ۸۰ ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہو گئے، کتنی عورتیں بیوہ ہو گئیں، بچے اپنی مائوں سے بچھڑ گئے لیکن طالبان نے اپنی درندگی نہ چھوڑی، جب تک راحیل شریف نے فوجی آپریشن نہ کیا اوران کو افغانستان میں نہ دھکیل دیا، ملا فضل اللہ ابھی تک افغانستان میں ہے، وہاں سے دہشت گردی کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس کا وقت اب ختم ہو گیا ہے، پاکستانی قوم جتنا جنرل باجوہ کا شکر ادا کرے وہ کم ہے، جنرل باجوہ نے ۲ ہزار میل سے لمبی باڑھ لگا کر ان دہشت گردوں کے تمام راستے بند کر دئیے ہیں، اب اتنی آسانی سے کوئی بھی دہشت گرد پاکستان نہیں آسکتا، اگر وہ آئے گا تو اس کو پاکستانی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا،ان دہشت گردوں کو اب سخت انتظامات کا سامنا کرنا پڑے گا، فوج بہت مستعد ہے، موت اب دہشت گردوں کی قسمت ہو گی لیکن ان دہشت گردوں کے سلپیر سیل اب بھی پاکستان میں موجود ہیں جن کو پہلے سے یہاں آباد کیا گیا ہے، اب وہ آہستہ آہستہ کارروائیاں کرنے کے لئے اپنے آقائوں کے حکم پر نکلتے ہیں اور کارروائیاں کرتے ہیں، بلوچستان میں ہونے والا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
داعش نے شاید پہلی بار پاکستان کے اندر آ کر اتنی بڑی کارروائی کی ہے شائد اس سے پہلے پاکستانیوں نے داعش کا صرف نام سنا تھا لیکن کارروائی اندر آ کر نہیں دیکھی تھی، بغدادی نے جس طرح عراق اور دوسری جگہوں پر دہشت پھیلائی تھی اسی طرز کی کارروائی اس نے پاکستان میں پہلی بار کی ہے، کہا جاتا ہے کہ داعش کو امریکہ جہازوں میں بھر کر افغانستان لایا تاکہ افغانی طالبان کے مقابلے پر داعش کو کھڑا کیا جا سکے، عراق میں کیونکہ داعش کا کردار ختم ہو گیا تھا تو امریکہ کو ہر قیمت پر وہاں سے ان کو ہٹانا تھا اور کسی دوسری جگہ منتقل کرنا تھا، افغانستان سے بہتر اور کوئی جگہ داعش کے لئے نہ تھی، ا سے تین فائدے امریکہ کے لئے تھے، ایک تو طالبان کو دھمکانا تھا، دوسرے جس طرح پاکستان میں کارروائی ہوئی پاکستان اور آئی ایس آئی کو بھی سیدھا رکھنا تھا، تیسری چین اور ایران کو بھی دھمکی دے سکے، اس لئے کہ اگر امریکہ افغانستان سے نکل جاتا ہے تو اس کی پراکسی ہونی چاہیے، امریکہ چاہتا ہے امریکی فوجوں کے نکلنے کے بعد طالبان کو دو محاذوں پر لڑنا پڑے، ایک افغانی فوج، دوسرے داعش، افغانی فوج کو شائد طالبان کے لئے مسئلہ نہ بنے لیکن ٹرینڈ داعش کے لوگ یقینی طور پر طالبان کے لئے مسئلہ بنیں گے، قطر میں مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں کل آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی ہے، امریکہ کو پتہ ہے پاکستان کے بغیر کوئی بھی مذاکرات اور سمجھوتہ کامیاب نہیں ہو سکتا اسی لئے زلمے نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی ہے۔
اب پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کویہ دیکھنا چاہیے کہ داعش کی جرأت کیسے ہوئی کہ وہ پاکستان میں آ کر کارروائی کرے اور ہم ان کو اس کی اجازت دیدیں، پاکستانی فوج کو اب داعش کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے اس کے جہاں پر بھی سلپیر سیل موجود ہیں، چاہے وہ کے پی کے میں ہوں یا بلوچستان میں ہوں پوری قوت سے کچل دینا چاہیے تاکہ ان کو آئندہ جرأت نہ ہو کہ وہ پاکستان کے اندر آ کر کارروائی کریں، یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مزدورں کے گلے کاٹے گئے وہ لوگ یا تو ابھی پاکستان میں ہی چھپے ہوئے یا بھاگ کر دوبارہ افغانستان کیسے چلے گئے، فوج کو ان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے اورقرار واقعی سزا دینی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.